متنازع لوک پال بل پارلیمنٹ میں پیش

 مرکزی کابینہ نےلوک پال بل کی منظوری اٹھائیس جولائی کو دی تھی
،تصویر کا کیپشن مرکزی کابینہ نےلوک پال بل کی منظوری اٹھائیس جولائی کو دی تھی

بھارت کی حکومت نےحکومتی سطح پر بدعنوانی کی چھان بین کے لیے لوک پال بل حزبِ اختلاف کی مخالفت کے باوجود پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔

اس بل میں وزیرِاعظم اور عدلیہ کو لوک پال کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے ۔

دوسری جانب سول سوسائٹی نے ارکانِ پارلیمان سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کے اس بل کو مسترد کر دیں۔

مرکزی کابینہ نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے لوک پال بل کی منظوری اٹھائیس جولائی کو دی تھی جس کے تحت ایک لوک پال کمیٹی قائم کیے جانے کی تجویز ہے جس میں آٹھ ارکان ہونگے اور کمیٹی کا ایک سربراہ ہو گا۔

اس بل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث ہو گی جس کے بعد اسے ایک قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا جو اپنی سفارشات کے ساتھ اس بل کو واپس بھیجے گی اور اس عمل کے بعد ہی اس بل پر ووٹنگ ہو سکے گی۔

جیسے ہی مرکزی وزیرِ نارائن سوامی نے بل پیش کرنے کی تجویز رکھی، حزبِ اختلاف کی رہنا سشما سوراج نے اس پر یہ کہ کر اعتراض کیا کہ آئین کی رو سے ہر شہری برابر ہے اور اس لیے وزیرِ اعظم کو استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا ’جب دیگر قوانین کے تحت وزیرِاعظم کے خلاف مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے تو لوک پال بل کے دائرے سے انہیں باہر رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‘

دوسری جانب حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ لوک پال بل میں وزیرِاعظم اور عدلیہ کو شامل کیے جانے کے حق میں نہیں ہے۔

سشما سوراج نے کہا ان کے دورِ اقتدار میں جو لوک پال بل پیش کیا گیا تھا اس میں وزیرِاعظم کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس پر وزیرِخزانہ نے ان سے جاننا چاہا کہ پھر اس بل کو ان کی حکومت نےقانونی شکل کیوں نہیں دی؟

ملک میں پھیلی ہوئی بدعنوانی روکنے کے لیے لوک پال بل کا ایک عرصے سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے لیکن سیاسی جماعتیں اسے ابھی تک موخر کرتی رہی ہیں۔

حال میں بدعنوانی کے ایک کے بعد ایک کئی واقعات سامنے آنے کے بعد حکومت کو سول سوسائٹی کی تحریک کے دباؤ کے آگے جکھنا پڑا اور وہ یہ بل لانے کے لیے مجبور ہوئی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حکومت نے سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مجوزہ بل پر کئی دور کے مذاکرات کیے۔ سول سوسائٹی نے ایک متوازی ’لوک پال بل ‘ تیار کیا ہے جس میں وزیرِاعظم اور عدلیہ دونوں کو شامل کیا گیا ہے۔

سول سوسائٹی نے سرکاری بل کی کاپی کو علامتی طور پر جلا کر اس بل کو مسترد کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی نے اس بل کو عوام مخالف قرار دیا ہے۔

سول سوسائٹی کے رہنما انا ہزارے نے ارکانِ پارلیمان کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں لکھا ہے کہ سرکاری بل میں عوام کی دیرینہ تشویش کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ’اس طرح کا بل پیش کیا جانا ارکانِ پارلیمان کی توہین ہے۔‘

انا ہزارے نے ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی عظیم روایات کوبرقرار رکھیں اور عوام مخالف اس بل کو مسترد کر دیں۔

بعض اخبارات کے ذریعے لوک پال بل کے بارے میں کیے گئے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ عوام ایک موثر لوک پال بل کے حق میں ہیں۔

زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی بدعنوانی اور جواب دہی کے عمل کی کمی کے سبب ملک میں سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور سیاسی نظام سبھی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔

ایماندار سمجھے جانے والے وزیرِاعظم منموہن سنگھ کی حکومت کو حزبِ اختلاف کی جماعتیں اب تک کی سب سے بدعنوان حکومت قرار دے رہی ہیں۔ خود اپوزیشن کے کئی رہنما اپنی اپنی ریاستوں میں سنگین بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب میڈیا اور سول سوسائٹی نے حکومت پر زبردست دباؤ ڈال رکھا ہے۔

سول سوسائٹی نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے لوک پال بل میں ان کی تجاویز شامل نہیں کیں تو وہ سولہ اگست سے ملک گیر تحریک کا آغاز کرے گی جسے اس نے ’دوسری جنگ آزادی‘ کا نام دیا ہے۔