لائیو, ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا: افغان وزارتِ دفاع کا سرحدی علاقوں میں پاکستانی حملوں پر ردِعمل

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘ طالبان حکام نے ان حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر جواب دیا جائے گا۔

خلاصہ

  • پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے: پاکستان
  • افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
  • 'مناسب وقت' پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا: افغان وزارتِ دفاع
  • ننگرہار میں گھر پر حملے میں 11 بچوں سمیت 17 افراد مارے گئے ہیں: طالبان حکام

لائیو کوریج

  1. ننگرہار: پاکستانی فضائی حملے کے بعد گردی کس گاؤں کے مناظر

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    طالبان حکام نے ان حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر جواب دیا جائے گا۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی پشتو کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدلون نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    TALIBAN

    ،تصویر کا ذریعہTALIBAN

  2. ننگرہار میں گھر پر حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل، طالبان حکام کا دعویٰ

    ننگرہار

    ،تصویر کا ذریعہTALIBAN/BBC Pashto

    بی بی سی پشتو کے مطابق، سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع بہسود میں ایک مکان پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    صوبہ ننگرہار میں طالبان حکومت کے وزارتِ اطلاعات اور ثقافت کے سربراہ امر قریشی بدان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ باقی چھ خواتین اور مرد تھے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور لاشوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    امر قریشی کے مطابق پانچ زخمیوں کو ننگرہار کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

    ننگرہار

    ،تصویر کا ذریعہTALIBAN/BBC Pashto

  3. ناسا کا 50 سال بعد خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا مشن تاخیر کا شکار

    ناسا

    ،تصویر کا ذریعہEPA/ Shutterstock

    امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ حالیہ جانچ کے دوران کئی مسائل سامنے آنے کے بعد خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا مشن اب چھ مارچ کو روانہ نہیں ہو سکے گا۔

    ناسا کا آرٹیمیس II مشن 50 سالوں میں پہلی بار خلابازوں کو چاند پر لے کر جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز خلائی ایجنسی نے کہا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر اس مشن کو خلا میں روانگی کے لیے گرین سگنل مل جائے گا۔

    تاہم سنیچر کے روز ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے اعلان کیا کہ جانچ میں سامنے آنے والے مسائل کا مطلب ہے کہ مشن کی روانگی سے قبل مزید کام کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    چار خلابازوں کو 10 دن کے لیے چاند کی دوسری طرف بھیجے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ خلا میں انسانوں کا اب تک کا سب سے دور کا سفر ہو گا۔

    آئزک مین کا کہنا ہے انھیں اندازہ ہے اس پیشرفت سے لوگ مایوس ہوں گے خاص طور پر ایسے میں جب جمعرات کو تقریباً 50 گھنٹے کی جانچ پڑتال کے بعد کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا تھا۔

    تاہم جمعہ کے روز ناسا کے انجینئرز نے لانچ آپریشن کے لیے درکار ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ کا مشاہدہ کیا۔

    ناسا کے مطابق، ہیلیم کے بہاؤ میں خلل ایک سنگین تکنیکی مسئلہ ہے۔ ہیلیم کو ایندھن کے ٹینکوں میں دباؤ بنانے اور راکٹ سسٹم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

  4. ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا: افغان وزارتِ دفاع کا پاکستانی فضائی حملوں پر ردِعمل

    افغان طالبان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Image

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق، افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو ’افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات نے دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

  5. ننگرہار میں ایک گھر پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 20 افراد مارے گئے ہیں، طالبان حکام کا دعویٰ

    افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے حکام نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

    متاثرہ خاندان کا ایک فرد کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا، میرے بچے چلے گئے، میرا بھائی اور میرا شوہر چلا گیا، اور میری کنواری بیٹیاں ماری گئیں۔‘

    عینی شاہدین نے بتایا کہ رات دیر گئے ایک فضائی حملے میں مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    بی بی سی دری کے مطابق، ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا، ’پاکستانی فوج نے صوبے کے ضلع بہسود میں ایک شہری کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہو گئے۔‘ اب تک ملبے سے صرف چار افراد کو نکالا جاسکا ہے اور جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    بہسود کے علاوہ صوبہ ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔

    ’پکتیکا میں مدرسے کو نشانہ بنایا گیا‘

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی دری کو بتایا کہ سنیچر کی شب مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ضلع برمل میں فضائی حملے میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جس سے مدرسے کی عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان کے باعث مدرسہ بند ہونے کی وجہ سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بی بی سی دری کو حاصل کردہ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مدرسے کی عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا ہے جبکہ وہاں موحود کتابوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہTALIBAN

    ،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کا کہنا ہے کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
  6. افغان طالبان کا پاکستانی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    ذبیح اللہ مجاہد

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ رات انھوں نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پاکستانی جرنیل ایسے ہی مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

  7. بریکنگ, پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے: پاکستان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ سنیچر کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔

    وزارت کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور مہارت کے ساتھ، پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ایکس پر جاری بیان کے آخر پر پاکستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘

    ’پاکستان یہ بھی توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘

  8. ایران نے یورپی یونین کی بحری و فضائی افواج کو دہشت گرد قرار دے دیا

    NurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کے ردِعمل میں وہ جوابی اقدام کرتے ہوئے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کا یہ اقدام یورپی یونین کے حالیہ فیصلے کا جواب ہے، جو پابندیوں کے نظام کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا یہ اقدام ’غیر قانونی اور نامناسب‘ ہے اور یہ کہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔‘

    واضح رہے کہ یورپی یونین نے ایران میں حالیہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے بعد باضابطہ طور پر پاسدارانِ انقلاب کو جنھیں ہو وہ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

    یورپی یونین سمیت کئی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آئے تھے کہ جن میں ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ حکومت مخالف مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں ایرانی مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔

  9. آسٹریلیا، سویڈن اور سربیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات میں اضافے کے پیشِ نظر آسٹریلیا، سویڈن اور سربیا کی حکومتوں نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کا سفر نہ کریں یا اگر وہ وہاں موجود ہیں تو فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔

    آسٹریلوی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں اور مقامی ہدایات پر عمل کریں۔ ان ہدایات میں ایران کی سکیورٹی صورتحال کو نہایت غیر مستحکم قرار دیا گیا ہے اور آسٹریلوی شہریوں، بشمول دوہری شہریت رکھنے والوں سے بھی ایران سے نکل جانے کا کہا ہے۔

    سویڈن کے وزیرِ خارجہ نے بھی ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ابھی بھی پروازوں اور سرحدی راستوں کے ذریعے ایران سے نکلنے کا امکان موجود ہے۔ جب تک ایسا مُمکن ہے سویڈن کے شہریوں کو ایران چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    سربیا کی حکومت کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس اپیل کی وجہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال کے مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔‘

    اس سے قبل امریکہ اور چند یورپی ممالک، جن میں جرمنی، پولینڈ اور بیلجیم شامل ہیں، بھی اپنے شہریوں سے ایران سے فوری طور پر نکل جانے کا کہہ چکے ہیں۔

  10. بلوچستان میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان جھڑپ میں ایک اے ایس آئی ہلاک: پولیس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع کچھی میں ڈاکوؤں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اے ایس آئی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا یہ تبادلہ سنیچر کی شب بولان میں کمبڑی پُل کے قریب پیش آیا۔

    ایس ایس پی کچھی معاذ الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس علاقے میں ڈاکوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس کی نفری پہنچی تو ڈاکوؤں کی جانب سے اُن پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی تاہم ڈاکوؤں کی گولی لگنے سے پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپیکٹر ہلاک ہو گئے۔‘

    ہلاک ہونے والے پولیس اے ایس آئی کی شناخت موسیٰ خان مستوئی کے نام سے ہوئی ہے۔ ایس ایس پی کچھی معاذ الرحمان کا کہنا تھا کہ پولیس کی اضافی نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور ڈاکوؤں کا تعاقب اور علاقے کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

  11. صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے اگلے دن ٹیرف مزید بڑھا دیے

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر 15 فیصد ٹیرف نافذ کریں گے۔ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر برہم ہیں جس نے ان کے سابقہ درآمدی ٹیکس کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ عدالت کی جانب سے ختم کیے گئے ٹیرف کی جگہ تمام درآمدی اشیا پر 10 فیصد ٹیکس لگائیں گے۔

    لیکن سنیچر کے روز انھوں نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ یہ شرح بڑھا کر 15 فیصد کر دی جائے گی۔

    یہ ٹیرف 24 فروری سے نافذ العمل ہوں گے اور تقریباً پانچ ماہ تک برقرار رہ سکتے ہیں، اس کے بعد انتظامیہ کو کانگریس کی منظوری لینا ضروری ہوگا۔

  12. جوہری پروگرام پر امریکہ سے مذاکرات کے دوران عالمی طاقتوں کے سامنے نہیں جھکیں گے: ایرانی صدر کا قوم سے خطاب

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ ’عالمی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں۔۔ لیکن ان تمام مسائل کے باوجود جو وہ ہمیں پیدا کر رہے ہیں، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے۔‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے، جو اب تک ایک بار مذاکرات کی ثالثی کرنے والے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اور ایک بار جنیوا میں ملک کے قونصل خانے میں منعقد ہو چکے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران معاہدے میں شامل نہیں ہوا تو ’کچھ برا ہو گا‘۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔

  13. ٹی 20 ورلڈ کپ سپر ایٹ کا پہلا میچ بارش کی نذر، پاکستان اور نیوزی لینڈ کو ایک ایک پوائنٹ مل گیا

    Pakistan, Newzealand

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20 ورلڈ کپ سپر ایٹ مرحلے کا پہلا میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کولمبو کی وکٹ پر آج پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم مسلسل بارش کی وجہ سے اس میچ کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔

    جب بارش نہ رکی تو رات نو بجکر چھ منٹ پر باقاعدہ اس میچ کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا۔

  14. ہم کال دیں تو روکنے والا کوئی نہیں، مگر عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

    Sohail Afridi

    ،تصویر کا ذریعہCMO KPK

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان تک ان کے ذاتی معالجین کی رسائی ایک قانونی حق ہے جو انھیں ملنا چاہیے۔ پشاور پریس کلب میں نو منتخب صحافیوں کی باڈی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ہم نے کال دی تو ہمیں کوئی روکنے والا نہیں ہوگا مگر ہم عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں اس ایشو پر چار سے پانچ تک پرامن دھرنا دیا مگر بدقسمتی سے جو بے حس لوگ پاکستان پر قابض ہیں یا مسلط کیے گئے ہیں انھوں نے بہت ہی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ یہ کوئی ناجائز مطالبہ نہیں بلکہ بنیادی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے بھی عمران خان کے علاج کا حکم دیا، یک رکنی کمیشن نے آنکھ کے مسئلے کی تصدیق کی، اور وزرا نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا، مگر اس کے باوجود عمران خان کی آنکھ کا مناسب علاج نہیں ہو رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عمران خان کے ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت نہیں دیتی تو یہ شبہ پیدا ہوگا کہ حکومت کچھ چھپا رہی ہے۔

    وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ماضی کی نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’جعلی پلیٹلٹس گرا کر سابق وزیر اعظم کو جانے دیا گیا، اور پھر واپسی پر ایئرپورٹ پر عدالت پہنچی مگر عمران خان کے معاملے میں عدالتیں بھی ’اڈیالہ جیل میں قید‘ ہو کر رہ گئی ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے حکومتی اخراجات پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے پر پورا میڈیا ان کے خلاف ہو گیا، مگر پنجاب کی ’جعلی وزیر اعلیٰ‘ نے 37 ملین ڈالر سے طیارہ خریدا اور میڈیا خاموش رہا۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ عیاشی اور مری کے دوروں کے لیے یہ ایک مہنگا اسرائیلی طیارہ خریدا گیا ہے، جبکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت فنڈز فراہم نہیں کرتی۔

    انھوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، اور میڈیا کو حکومتی عیاشیوں پر آواز بلند کرنی چاہیے۔

  15. ایرانی یونیورسٹیوں میں احتجاج، گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ

    anjmotahed

    ،تصویر کا ذریعہanjmotahed

    یونائیٹڈ سٹوڈنٹس ٹیلی گرام چینل کا کہنا ہے کہ طلبا نے تہران کی بہشتی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائیکالوجی اینڈ ایجوکیشنل سائنسز میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

    اس خبر کے مطابق طلبا ’جنوری میں مارے جانے والوں اور گرفتار طلبا کی یاد میں دھرنا دے رہے ہیں۔‘

    اس دھرنے کے دوران طلبا نے یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہادی فرو کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔

    یونائیٹڈ سٹوڈنٹس ٹیلی گرام چینل نے یہ بھی لکھا کہ طلبا نے یونیورسٹی کے حکام سے کہا کہ وہ اس یونیورسٹی کے دو طالب علموں کی رہائی کے لیے آگے بڑھیں جو ابھی تک زیر حراست ہیں۔

    تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تہران کی امیرکبیر یونیورسٹی میں ایک ریلی نکالی گئی ہے۔

    امیرکبیر نیوز لیٹر نے خبر دی ہے کہ تہران میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں آج سہ پہر کا طلبا کا اجتماع پُرتشدد ہو گیا۔

    جھڑپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں۔

    آج شریف یونیورسٹی کے طلبا نے 11 جنوری کے قتل عام کی 40 ویں برسی کی یاد میں ایک تقریب کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے طلبا یونیورسٹی کیمپس میں جمع ہو گئے اور نعرے بازی کی جس پر دونوں گروپوں میں تصادم ہوا۔

    یونائیٹڈ سٹوڈنٹس ٹیلی گرام چینل کے مطابق مشہد یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے طلبا نے آج یونیورسٹی کیمپس میں احتجاجی ریلی نکالی۔

    رپورٹ کے مطابق طلبہ نے ’آزادی، آزادی‘ اور ’طلبا، اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرو‘ جیسے نعرے لگائے۔

  16. پاکستانی وفد کی امریکی وزیر تجارت سے ملاقات، امریکہ کی کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں خصوصی دلچسپی

    پاکستان امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستانی وفد نے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ اے۔ لٹِنک سے محکمہ تجارت واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات کی۔

    وفد میں سیکریٹری کامرس، امریکہ میں پاکستان کے سفیر اور تجارتی و اقتصادی وزرا بھی شامل تھے۔ پاکستان کی وزرات خزانہ کی طرف سے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری تفصیلات کے مطابق ملاقات میں دونوں جانب نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    حکام کے مطابق امریکہ کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی پر بھی گفتگو ہوئی۔

    پاکستانی حکام کے مطابق وزیر خزانہ نے امریکی چیمبر آف کامرس کے کردار کو سراہا جس نے 31 مارچ 2026 کو پاکستان۔امریکا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے۔ اس فورم میں دونوں ممالک کی معروف کمپنیوں کے علاوہ پاکستان اور امریکہ کی وزارتی سطح کی نمائندگی بھی ہوگی۔ وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ امریکی وزیر تجارت کا دفتر بھی اس فورم میں شریک ہوگا۔

    بیان کے مطابق ’دونوں فریقین نے آئندہ مہینوں میں بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے روابط مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

  17. ایرانی اور قطری وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال

    Iran, Qatar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے فون پر بات کی۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس فون کال کا محور ’تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت‘ پر غور کرنا تھا۔

    یہ بھی بتایا گیا کہ اس فون کال میں ایران اور امریکہ کے درمیان ’تازہ ترین مذاکرات‘ کا بھی جائزہ لیا گیا اور ’علاقائی تعاون کے فریم ورک کے اندر سفارت کاری کے راستے کو آسان بنانے اور آگے بڑھانے کے لیے مشاورت اور تعاون کو جاری رکھنے‘ پر زور دیا گیا۔

  18. سی ٹی ڈی کا ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک مبینہ خودکش حملہ آور خاتون کی گرفتاری کا دعویٰ

    CTD

    ،تصویر کا ذریعہCTD

    خیبر پختونخوا محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے ایک مبینہ خود کش حملہ آور خاتون کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

    سی ٹی ڈی کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان ریجن میں حساس ادارے کی مصدقہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ خودکش حملہ آور خاتون کو گرفتار کر کے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی تھی کہ شیخ یوسف خیمہ بستی میں ایک جوان العمر خاتون موجود ہے جو خودکش حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ سی ٹی ڈی کی سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس ٹیم (ایس ڈبلیو اے ٹی) نے چھاپہ مار کر مذکورہ خاتون کو گرفتار کیا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ میں خاتون نے اپنا نام بتایا اور انکشاف کیا کہ وہ عرصہ دراز سے کالعدم تنظیم کے کمانڈر شاہ ولی عرف طارق کوچی کی تربیت میں رہی ہیں، جو اب ہلاک ہو چکے ہیں۔ خاتون نے مزید بتایا کہ اس نے حالیہ دنوں میں خودکش حملے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی اور اسے جیکٹ اور ہدف کمانڈر عاصم کی جانب سے فراہم کیا جانا تھا۔

    خاتون کے خیمے سے ایک کمانڈو بیگ برآمد ہوا جس میں پستول بمعہ کارتوس، پرفیوم (بارود کی بو چھپانے کے لیے)، دو موبائل فون، پاور بینک اور دیگر سامان شامل تھا۔ موبائل فونز میں کالعدم تنظیم سے رابطوں کے شواہد بھی ملے۔

    انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے نقد انعام کا اعلان کیا۔ سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں دہشتگردوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

  19. بنوں میں خودکش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سمیت ایک سپاہی ہلاک

    Pakistani army

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق قافلے کے آگے موجود گروپ نے ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو روک کر اس کی مذموم سازش ناکام بنا دی، جس کا مقصد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ اس طرح ایک بڑے سانحے سے بچاؤ ممکن ہوا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کا سراغ لگایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند مارے گئے تاہم، شدت پسندوں نے مایوسی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو فوجی قافلے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں مانسرہ سے تعلق رکھنے والے 43 برس کے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز، جو اپنی جرات مندانہ قیادت کے لیے مشہور تھے اور ہمیشہ اپنی فوج کو آگے سے لیڈ کرتے تھے، ہلاک ہو گئے۔ ان کے ساتھ پشاور سے تعلق رکھنے والے 28 برس کے سپاہی کرامت شاہ بھی ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’شدت پسند رمضان کے مقدس مہینے میں بھی افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغان طالبان حکومت ایک بار پھر ناکام رہی ہے کہ شدت پسندوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے۔

    پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس بزدلانہ اور سنگین حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں گی اور شدت پسند جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف جائز بدلہ لیا جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی مہم ’عزمِ استحکام‘ کے تحت، جو نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کی ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری رفتار سے کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    ’ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ وطن کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر قربانی دی جائے گی۔‘

  20. برطانوی حکومت کا سابق شہزادے اینڈریو کو شاہی جانشینی سے ہٹانے کے لیے قانون سازی پر غور

    اینڈریو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو شاہی جانشینی سے ہٹانے کے لیے قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی وزیر دفاع لیوک پولارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی تحقیقات کے نتائج سے قطع نظر یہ اقدام اٹھانا ’صحیح عمل‘ ہو گا۔

    اگر حکومت قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اینڈریو کے بادشاہ بننے کا امکان ختم ہو جائے گا۔

    بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات رکھنے پر اینڈریو سے شہزادے کا خطاب اور دیگر مراعات واپس لے لی گئی تھیں۔

    اینڈریو بادشاہ چارلس کے بھائی ہیں۔ ’شہزادہ‘ کے خطاب سے محروم ہونے کے باوجود وہ جانشینی کے سلسلے میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔

    جمعرات کی شام اینڈریو کو عوامی عہدے میں بدعنوانی کے شبے میں گرفتاری کیا گیا تھا۔ انھیں تقریباً 11 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اُن کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    اینڈریو مسلسل اور سختی سے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

    بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے پولارڈ نے تصدیق کی کہ حکومت سابق شہزادے کو ممکنہ طور پر تخت سے دور رکھنے کے منصوبوں پر بکنگھم پیلس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    پولارڈ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ اس اقدام کی تمام پارٹیاں حمایت کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو تب ہی ممکن ہے جب پولیس کی تفتیش مکمل ہو جائے۔

Trending Now