لائیو, ایران نے نطنز جوہری تنصیب کو فضائی حملے میں نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کر دی، امریکہ کا ایرانی تیل سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے وسطی ایران میں واقع نطنز کی جوہری تنصیب کو آج صبح ایک بار پھر حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ’این پی ٹی اور جوہری سلامتی و تحفظ سے متعلق دیگر ضابطوں کی خلاف ورزی‘ ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل پر عائد پابندی عارضی طور پر ہٹانے کے نتیجے میں تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل کی عالمی منڈی تک رسائی ممکن ہو پائے گی۔
خلاصہ
امریکہ ایران کا جوہری مواد قبضے میں لینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے، سی بی ایس نیوز
امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے اب تک 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، رپورٹ
جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں: عباس عراقچی
امریکہ کا سمندر میں پھنسے ایرانی تیل پر سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم آبنائے ہرمز کی حفاظت ان ممالک کو کرنی ہو گی جو اسے استعمال کرتے ہیں
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ وفاقی حکومت خود اٹھا رہی ہے تاہم ’یہ کوئی دیرپا حل نہیں ہے‘
لائیو کوریج
ایران کی جانب سے ڈیاگو گارشیا پر میزائل داغنے کی اطلاعات، ’میزائل ہدف تک نہیں پہنچے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایران نے برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کی جانب درحقیقت میزائل فائر کیے ہیں تاہم اس حملے میں تاحال کسی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ ناکام حملہ اس وقت ہوا جب برطانیہ نے گزشتہ رات امریکی افواج کو برطانوی اڈوں کے اضافی استعمال کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے جمعہ کو کئی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے ڈیاگو گارشیا اڈے پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں لیکن یہ میزائل بحر ہند میں امریکی اور برطانوی مشترکہ فوجی اڈے کو نہیں مارے۔
دوسری جانب برطانوی وزارت دفاع نے امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ ایران کی طرف سے ڈیاگو گارسیا پر امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کی طرف میزائل داغے گئے۔
وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے آج صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ایران کے حملے پورے خطے میں پھیل چکے ہیں اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنا چکے ہیں، برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔‘ص
دونوں میں سے کوئی بھی میزائل ہدف تک نہیں پہنچا: جوناتھن بیلے کا تجزیہ
بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے برطانوی خودمختار فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا کی جانب دو میزائل فائر کیے تھے تاہم دونوں میں سے کوئی بھی میزائل ہدف تک نہیں پہنچا۔
امریکی حکام کے حوالے سے سب سے پہلے وال سٹریٹ جرنل نے اس واقعے کی خبر دی تھی۔ بی بی سی نے علیحدہ ذرائع سے بات کر کے اس کی تصدیق کی ہے۔
برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے خود اس بات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کہ دو ایرانی میزائل اس اڈے کی جانب داغے گئے تھے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کے خطے میں اندھا دھند حملے برطانوی مفادات اور اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ نے امریکہ کو ڈیاگو گارسیا سے دفاعی نوعیت کی فضائی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
تاحال اس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ امریکہ نے بحرِ ہند میں واقع اس برطانوی اڈے سے کوئی فضائی کارروائی کی ہو۔
البتہ امریکہ نے گلوسٹرشائر میں آر اے ایف فئیر فورڈ سے فضائی حملے کیے ہیں۔
ڈیاگو گارشیا کہاں واقع ہے
یاد رہے کہ ڈیاگو گارشیا جزیرہ ایران کے سب سے جنوبی جغرافیائی مقام، پاسبندر کی بندرگاہ سے 3,800 کلومیٹر دور ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی رینج 2000 سے 2500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔
پوتن کی ایرانی رہنماؤں کو نئے سال کی مبارکباد، ’ماسکو تہران کا وفادار اور قابل اعتماد دوست ہے‘
،تصویر کا ذریعہEPA
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی رہنماؤں کو ’نوروز‘ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو تہران کے لیے ہمیشہ ایک وفادار دوست اور قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے۔
کریملن کے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’ صدر ولادیمیر پوتن نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ایرانی نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ایرانی عوام وقار کے ساتھ مشکل آزمائشوں پر قابو پالیں گے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور توانائی کا ایک بڑا عالمی بحران پیدا کر دیا ہے۔
روسی صدر نے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل میں امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی بھی شدید مذمت کی تھی۔
تاہم اس جنگ میں روس کی جانب سے ایران کی حمایت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
کچھ میڈیا اداروں نے پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ روس ایران کو انٹیلیجنس مدد فراہم کر رہا ہے، تاہمن کریملن نے وال سٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی تھی کہ روس ایران کے ساتھ سیٹلائٹ کی تصاویر اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا اشتراک کر رہا ہے۔
بغداد میں عراقی انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر پر ڈرون حملے میں ایک اہلکار ہلاک: حکام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بغداد میں انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے والے حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
عراقی انٹیلیجنس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ سنیچر کے روز بغداد میں انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر کے قریب ’کالعدم تنظیموں‘ کی طرف سے کیے گئے ڈرون کے حملے میں ان کا ایک افسر ہلاک ہو گیا ہے۔
بیان میں میجر جنرل سعد مان نے کہا کہ دارالحکومت کے ضلع منصور میں واقع اس مقام کو مقامی وقت کے مطابق 10:15 پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
نطنز جوہری تنصیب کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، ایران
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسات مارچ 2026 کو نطنز جوہری تنصیب کی لی گئی تصویر
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (اے ای او آئی) کا کہنا ہے کہ وسطی ایران میں واقع نطنز کی جوہری تنصیب کو آج صبح ایک بار پھر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ تابکار آلودگی سے متعلق ’تکنیکی اور ماہرین کی جانچ‘ مکمل کر لی گئی ہے اور نتائج کے مطابق ’اس تنصیب سے تابکار مواد کے کسی بھی اخراج کی اطلاع نہیں ملی، اور آس پاس کے رہائشی علاقوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
تنظیم نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’این پی ٹی (جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے) اور جوہری سلامتی و تحفظ سے متعلق دیگر ضابطوں کی خلاف ورزی‘ ہے۔
یاد رہے کہ اے ای او آئی اس سے قبل بھی نطنز پر حملے کی تصدیق کر چکی ہے اور اس کی جانب سے تین مارچ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دو روز قبل (یکم مارچ) تنصیب پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی تابکار مواد کے اخراج کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا تھا۔
گذشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات—نطنز، فردو اور اصفہان—پر بمباری کی تھی، اور بعدازاں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں نے ’ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا‘ ہے۔
ایران کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرے گا جس سے جنگ مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرے گا جس سے اس جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تنازع ان کے ملک پر ’مسلط‘ کیا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کو بتایا کہ ایران ’اس طرح کی کسی بھی تجویز کو سننے اور ان پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ممالک مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل تلاش کر رہے ہیں، لیکن ’ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ اپنی جارحیت روکنے کے لیے تیار ہے۔‘
عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران محض جنگ بندی نہیں بلکہ ’جنگ کے مکمل، جامع اور دیرپا خاتمے‘ کا خواہاں ہے۔
جاپانی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو انھوں اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا اور اس انٹرویو کا ایک ٹرانسکرپٹ مہر نیوز ایجنسی نے بھی شائع کیا ہے۔
ایران کا بیلسٹک میزائلوں سے 3,800 کلومیٹر دور امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے پر حملہ: رپورٹ
امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے متعدد ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ دونوں میزائل بحر ہند میں واقع فوجی اڈے کو نہیں لگے۔
سی این این نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ میزائل مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی صبح داغے گئے۔
ایران سے ڈیاگو گارشیا کا فاصلہ تقریباً 3,800 کلومیٹر ہے۔ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ نے حکم دیا تھا کہ ایرانی میزائلوں کی رینج 2,000 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
بی بی سی نے پینٹاگون اور برطانیہ کی وزارت دفاع سے رابطہ کیا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ’فی الحال فراہم کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘
جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کو تیار
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
جنوبی کوریا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے جمعرات کے روز جاری ہونے والے اس اعلامیے پر دستخط کیے تھے جس میں مختلف ممالک نے آبنائے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات میں حصہ لینے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس اعلامیے پر سب سے پہلے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں کے دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، لیٹویا، سلووینیا، ایسٹونیا، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، چیک ریپبلک، رومانیہ، بحرین اور لتھوانیا بھی اس میں شامل ہو گئے۔
تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات لیں گے۔
’ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی اس احساس کی جانب اشارہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ اکیلے حل نہیں کر سکتے‘, سمی جولاسو، شمالی امریکہ سے بی بی سی کی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
آبنائے ہرمز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سٹریٹجک دلدل ثابت ہو رہا ہے۔
یہ ان کے اور اس تنازع میں فتح کے اعلان کے درمیان حائل رکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔
ٹرمپ اب آبنائے ہرمز کی بندش کو صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وہ اصرار کرتے تھے کہ امریکہ اسے کسی نہ کسی طرح محفوظ بنا لے گا اور انھوں نے نیٹو اتحادیوں اور جاپان اور جنوبی کوریا جیسے اہم شراکت داروں کی حمایت کی ضرورت کو مسترد کر دیا تھا۔
اب، وہ ایک بار پھر ان ممالک سے آگے بڑھ کر اس تنازع میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ کچھ ریاستوں کی جانب سے ہچکچاہٹ کو ’بزدلی‘ قرار دے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہرمز کی بندش سے واشنگٹن کا ایک ایک پیٹرول پمپ اتنا ہی متاثر ہوتا ہے جتنا فرق ٹوکیو کے کسی فیول سٹیشن کو پڑتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی اس جانب اشارہ ہے کہ انھیں احساس ہوگیا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا انھیں سامنا کرنا ہے، ایک ایسا مسئلہ جسے وہ اکیلے حل نہیں کر سکتے۔
امریکہ ایران کا جوہری مواد قبضے میں لینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے، سی بی ایس نیوز
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنیکم نومبر 2025 کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں جوہری تنصیبات کا دورہ کیا تھا۔
بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے لینے کے مختلف طریقوں پر کام کر رہی ہے۔
دو ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اس کام کے لیے جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایلیٹ ملٹری یونٹ ہے جسے اکثر انتہائی حساس آپریشنز کا کام سونپا جاتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایسی کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے سی بی ایس کو بتایا کہ تیاریاں کرنا پینٹاگون کا کام ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد سے بارہا ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا ہے۔
امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے اب تک 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، رپورٹ, ڈینیئل بش، پال براؤن اور ایلکس مرے، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہPlanet labs PBC and Airbus
،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کے الصدر اور الرویس میں ریڈار سائٹس کو ہونے والا نقصان۔
ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دو ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے زیرِ استعمال فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر (60 کروڑ پاؤنڈ) کا نقصان ہوا ہے۔
سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ اور بی بی سی کے تجزیے کے مطابق اس نقصان کا بڑا حصہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد پہلے ہفتے میں ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں ہوا تھا۔
امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تو واضح نہیں تاہم امریکی فوجی ڈھانچے کو ہونے والے 80 کروڑ ڈالر کے تخمینے — جو پہلے سامنے آنے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں — جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ امریکہ کو پڑنے والی بھاری قیمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سی ایس آئی ایس کے سینیئر مشیر اور رپورٹ کے شریک مصنف مارک کانسین کہتے ہیں، ’خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان کم رپورٹ ہوا ہے۔ نقصان کافی زیادہ دکھائی دیتا ہے، لیکن صحیح اعداد و شمار مزید معلومات آنے پر ہی سامنے آئیں گے۔‘
بی بی سی نے امریکی وزارتِ دفاع کو اس بارے میں تبصرے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ سے رجوع کرنے کا کہا جو کہ اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تاحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں اردن، متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں موجود امریکی فضائی دفاعی نظام اور سیٹیلائیٹ کمیونی کیشن سسٹمز کو نشانہ بنایا ہے۔
سب سے بڑا نقصان اردن میں ایک امریکی اڈے پر تھاد (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے ریڈار کو نشانہ بنائے جانے سے ہوا ہے۔
سی ایس آئی ایس کے مطابق اے این/ٹی پی وائی-2 (AN/TPY-2) ریڈار سسٹم کی قیمت تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ نظام بیلسٹک میزائلوں کو دور سے مار گرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایرانی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی عمارتوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 31 کروڑ ڈالر کا اضافی نقصان بھی پہنچا ہے۔
بی بی سی ویری فائی کے سیٹیلائیٹ تجزیے کے مطابق ایران نے کم از کم تین فضائی اڈوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ نشانہ بنایا۔ یہ حملے اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ایران مخصوص امریکی اثاثوں کو بار بار ٹارگٹ کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس نے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں ایران کو انٹیلی جنس بھی فراہم کی ہے۔
سیٹیلائیٹ تصاویر سے کویت کے علی السالم اڈے، قطر کے العدید اڈے اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر مختلف مواقع پر ہونے والے تازہ نقصان کی نشاندہی ہوتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز سے لے کر اب تک اس جنگ میں امریکہ کے 13 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹویسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اس جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 1400 شہریوں سمیت تقریباً 3,200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی، اس کی روایتی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا، اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی معاونت کا خاتمہ شامل ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم ایران میں بہت اچھا کر رہے ہیں۔‘
تاہم اس جنگ سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور اس غیر یقینی صورتحال کے باعث کہ جنگ کب تک چلے گی اور آیا صدر ٹرمپ زمینی فوج بھیجیں گے یا نہیں۔
سیٹیلائیٹ تصاویر کے حصول پر امریکی کمپنیوں کی جانب سے عائد پابندیوں سے نقصانات کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اس کے باوجود ایران کی جوابی کارروائیوں میں امریکی فوجی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کے کچھ واضح رجحانات سامنے آئے ہیں۔
جنگ کے ابتدا میں بحرین میں امریکی بحری اڈے پر ایرانی حملے سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ ایران کا نشانہ ریڈار اور سیٹیلائیٹ سسٹمز ہیں۔ یہ تنصیبات جدید فوجی کارروائیوں کے لیے آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سیٹیلائیٹ تصاویر میں حساس آلات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے دو ریڈار ڈومز کی تباہی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ غالب امکان ہے کہ اندر موجود سسٹمز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہو، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔
کویت کے کیمپ عریفجان اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس میں بھی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہزادہ سلطان ایئر بیس کی تصاویر میں تھاد سسٹم کے ایک حصے سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود امریکی اڈوں پر نصب تھاد سسٹمز کو زیادہ نقصان پہنچا۔ نقصان کی درست لاگت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ان سسٹمز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امریکہ کو جنوبی کوریا سے تھاد کے پرزے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے پڑے۔
ایرانی حملوں سے ہونے والا یہ نقصان امریکہ کے مجموعی جنگی اخراجات کا صرف ایک حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے کانگریس کے ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے جو 12ویں دن تک 16.5 ارب ڈالر ہو گئے۔
پینٹاگون نے جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق اس رقم میں ’مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’برے لوگوں کو مارنے کے لیے پیسے کی ضرورت تو پڑتی ہے۔‘
جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں: عباس عراقچی
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جاپان کے نشریاتی ادارے ’کیوڈو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔
کیوڈو نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جاپانی حکام کے ساتھ بات چیت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں موجود رکاوٹوں میں عارضی نرمی لانا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے پس منظر میں جاپانی حکومت کے ایک اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ ’ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہی (آبنائے ہرمز کا) محاصرہ ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔‘
اہلکار نے مزید کہا کہ اگرچہ جاپانی جہازوں کو گزرنے کی عارضی اجازت مل بھی جائے، تب بھی عالمی سطح پر جاری توانائی بحران کو حل کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملے گی۔
جاپان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اور اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ عباس عراقچی کے بیان کے ’اصل مقاصد‘ کا ’احتیاط سے جائزہ لینا‘ ضروری ہے۔
خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں اب بھی بہت خطرہ ہے، برطانوی میری ٹائم ادارہ
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں سمندری خطرے کی سطح بدستور بہت زیادہ ہے۔
اگرچہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سمندر کسی قسم کے واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم یکم مارچ سے تجارتی جہازوں اور سمندر کے کنارے موجود تنصیبات پر 21 حملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں صرف مغربی ملکوں کی ملکیت والے جہازوں ہی نشانہ نہیں بنے ہیں۔ ادارے کے مطابق ان حملوں سے وسیع پیمانے پر سمندری تجارت میں خلل ڈالنے کی مہم کی عکاسی ہوتی ہے۔
امریکہ ایران میں زمینی دستے بھیجنے کے متعلق منصوبہ بندی کر رہا ہے، سی بی ایس کی رپورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نے خبر دی ہے کہ امریکی فوجی حکام ایران میں زمینی دستوں کی تعیناتی کے متعلق تفصیلی تیاریاں کر رہے ہیں۔ سی بی ایس کو یہ معلومات متعدد نامعلوم ذرائع نے دی ہیں جو اس بارے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ ہیں۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے سینیئر اہلکار اس طرح کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے لیے درخواستیں کر رہے ہیں۔
سی بی ایس نے دو عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ایرانی فوجیوں کو کیسے حراست میں رکھیں گے۔
جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل ازیں صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ ’کہیں بھی زمینی دستے‘ بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر میرا ارادہ ہوتا بھی تو یقیناً آپ کو نہ بتاتا۔
محکمہ دفاع نے اس فوجی نقل و حرکت کے بارے میں بی بی سی کی درخواست پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی سینٹرل کمانڈ نے ممکنہ فوجی نقل و حرکت کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔
جزیروں کی ملکیت کا تنازع: ایران کا متحدہ عرب امارات کے شہر راس الخیمہ پر ’فیصلہ کن‘ حملے کی دھمکی
ایران نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دو جزیروں کی ملکیت کے تنازع کو لے کر امارات کے شہر راس الخیمہ پر ’فیصلہ کن‘ حملے کی دھمکی دی ہے۔
متحدہ عرب امارات ایک طویل عرصے سے ان دونوں جزیروں کی ملکیت کا دعویدار ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی طرف سے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک پیغام میں، ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ابو مسا اور گریٹر تنب کے جزائر پر مزید کسی بھی ’مزید جارحیت‘ کا جواب اماراتی شہر پر حملہ کر کے دیا جائے گا۔
پیغام میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جارحیت سے کیا مراد ہے۔ یہ دونوں جزائر کئی دہائیوں سے ایران کے زیر قبضہ ہے تاہم متحدہ عرب امارات بھی ان پر دعویٰ کرتا آیا ہے۔
امریکہ کا سمندر میں پھنسے ایرانی تیل پر سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان
امریکی محکمہ خزانہ اس وقت سمندر میں موجود ایرانی تیل پر سے پابندیاں عارضی طور پر ہٹا رہا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے اسے بیشتر ممالک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعے کو ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ ’مختصر مدت کی اجازت‘ سے تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈیوں کے لیے دستیاب ہو سکے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ ایران کو فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی مالی منافع تک رسائی حاصل کرنے میں دُشواری ہو گی۔
بیسنٹ نے کہا کہ اجازت ’سختی سے تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ہی ٹرانزٹ میں ہے اور نئی خریداری یا پیداوار کی اجازت نہیں دیتا ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اصل میں ہم قیمت کم رکھنے کے لیے تہران کے خلاف ایرانی تیل ہی استعمال کریں گے۔‘
جنگ شروع ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر ہونے سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 112 ڈالر فی بیرل برقرار ہے، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہTruthSocial/@realDonaldTrump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہیں کیونکہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے جاری بڑی عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر غور کر رہے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسے ’ان دیگر ممالک کی جانب سے محفوظ اور نگرانی میں رکھا جانا ہوگا جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ اسے استعمال نہیں کرتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم سے کہا گیا تو ہم ان ممالک کی آبنائے ہرمز سے متعلق کوششوں میں مدد کریں گے۔ لیکن ایران کا خطرہ ختم ہونے کے بعد یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے۔‘
آخر میں انھوں نے کہا کہ ’اہم بات یہ ہے کہ یہ اُن کے لیے ایک آسان عسکری کارروائی ہوگی۔‘
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت میں حملوں کی اطلاعات
خلیج کے مختلف ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات دوبارہ سامنے آ رہی ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری تازہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں چھ ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
دبئی حکام کا کہنا ہے کہ ’شہر کے بعض حصوں میں سنے جانے والے دھماکے کامیاب فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ تھے۔‘
اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ وہ ’ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔‘
کویت کی وزارتِ دفاع نے بھی کہا ہے کہ وہ ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہی ہے۔‘
ایرانی میزائل کا ملبہ مسجد اقصیٰ کے قریب گِرا, سباسچن اُشر، عالمی امور کے نامہ نگار/بی بی سی
ہم ابھی اس مقام کا دورہ کر کے آئے ہیں جہاں مشرقی یروشلم کے پرانے شہر کے کنارے میزائل کا ملبہ گرا تھا۔
آج عید کا پہلا دن ہے اور عام طور پر یہاں مسجد اقصیٰ میں بہت بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔
اس سال سکیورٹی وجوہات کے باعث لوگوں کو آنے سے روکا گیا ہے لیکن میزائل کے ملبے کے گرانے کی جگہ مسجد اقصیٰ، دیوارِ گریہ اور چرچ آف دی ہولی سیپلکر سے صرف تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر ہے۔
میری رائے میں یہ ایران کی جانب سے اپنے خلاف کیا گیا اون گول ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اس کا تصور نہیں تھا کہ ایران اپنے میزائلوں سے اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
مشرقی یروشلم کے لوگ اس تنازعے کے دوران خود کو نسبتاً محفوظ سمجھتے تھے کیونکہ مقدس مقامات بالکل قریب تھے۔
یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایران اتنا خطرہ مول نہیں لے گا۔
سٹامر نے برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا: عراقچی
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ نے آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے والی ایرانی تنصیبات پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس پر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے وزیرِاعظم کیئر سٹامر نے ’برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنے ’حقِ دفاع‘ کا استعمال کرے گا۔
ایکس پر پیغام میں عراقچی نے لکھا کہ ’برطانوی عوام کی بھاری اکثریت اسرائیل۔امریکہ کی ایران کے خلاف اس مرضی کی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سٹامر اپنے عوام کی رائے کو نظرانداز کر رہے ہیں اور ایران کے خلاف جارحیت کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے کر برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
جنگ بندی نہیں چاہتا، برطانیہ نے اڈے دینے میں تاخیر کی: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران جنگ بندی نہیں چاہتے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جنگ بندی نہیں چاہتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب آپ عملی طور پر دوسرے فریق کو صفحۂ ہستی سے مٹا رہے ہوں تو جنگ بندی نہیں کی جاتی۔‘
اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کو ’انتہائی شدت سے‘ نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ آپ اس سے زیادہ سختی سے کسی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
انھوں نے ایرانی قیادت کو ’خوفناک لوگ‘ قرار دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کے ساتھ اسرائیل بھی ایران میں جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے، ایسا ہی ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ’بہت اچھے‘ ہیں اور یہ کہ ’ہم کم و بیش ایک جیسی چیزیں چاہتے ہیں، اور وہ ہے فتح۔‘
آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’ہم اسے استعمال نہیں کرتے لیکن دوسرے ممالک اسے استعمال کرتے ہیں۔‘
ٹرمپ کے مطابق مغربی اتحاد نیٹو نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق کارروائیوں کے بارے میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک سادہ سا عسکری آپریشن ہے لیکن اس کے لیے بہت مدد درکار ہوتی ہے، یعنی آپ کو بحری جہاز چاہییں۔ اور نیٹو ہماری مدد کر سکتا ہے، لیکن اب تک انھوں نے ایسا کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔‘
انھوں نے جاپان اور چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو بھی آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اپنے اڈوں کے استعمال سے متعلق قدم ’بہت تاخیر سے‘ اٹھایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’سچ یہ ہے کہ میں برطانیہ سے کچھ حیران ہوا۔ انھیں بہت تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے تھی۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’تعلقات تو بہت اچھے ہیں لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ وہ عملی طور پر ہمارے پہلے اتحادی تھے۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم اُس جزیرے، اس نام نہاد جزیرے، کو استعمال کریں، جس کے حقوق انھوں نے کسی وجہ سے چھوڑ دیے تھے۔‘
انھوں نے دوبارہ کہا کہ ’سچ کہوں تو میں برطانیہ سے کچھ حیران ہوا۔ انھیں بہت تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے تھی۔‘