مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
  • ایرانی صدر کی اسلام آباد میں 10 اپریل (جمعہ) کو ہونے والے تہران، واشنگٹن مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
  • سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کا پاکستان کی جانب سے مستقل معاہدے کے لیے ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • 15 نکات میں کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا، ایران کے ساتھ پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ
  • عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رحجان جبکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کا آغاز ہونے کی رپورٹس
  • یورپی رہنماؤں کا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم اور پاکستان کی ’کامیاب ثالثی کوششوں‘ پر شکریہ

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    نو اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ایرانی صدر کی جنوبی ایران میں آئل ریفائنری پر حملے کی مذمت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنوبی ایران میں واقع لاوان آئل ریفائنری پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ارنا کے مطابق اس واقعے کو جنگ بندی کی ’متعدد خلاف ورزیوں‘ میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘

  3. جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے: ایمینوئل میکخواں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ’امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

    انھوں ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں کے جنگ بندی پر رضامندی کے فیصلے کو بہترین قرار دیا ہے اور یہ امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، مکمل طور پر نافذ کی جائے گی۔‘

    فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ ’اس پیش رفت سے جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی جو ایک طویل المدتی امن معاہدے تک لے جا سکتی ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’فرانس مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔‘

    میکخواں کے مطابق انھوں نے اس معاملے پر قطر، متحدہ عرب امارات، لبنان اور عراق کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سے قبل بدھ کے روز میکخواں نے دو فرانسیسی شہریوں سے ملاقات کی جو ایران میں تین سال سے زائد حراست کے بعد رہا ہوئے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیل نے بدھ کے روز بھی لبنان کے دارالحکومت بیروت کو نشانہ بنایا اور ان حملوں میں 180 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

  4. لبنان میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 180 سے تجاوز کر گئی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق لبنان میں بدھ کو ہونے والے اسرائیلی فوج کے حملوں میں 180 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت، جنوبی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں میں اب تک کے سب سے شدید حملے کیے ہیں۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے شور ہونے کے بعد سے اب تک بدھ کے روز حملوں میں سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    نیشنل نیوز ایجنسی نے وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ 182 افراد ہلاک اور 890 زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک اور بیان میں لبنانی سول ڈیفنس ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا کہ 254 افراد ہلاک اور 1165 زخمی ہوئے اور ان اعداد و شمار کی تصدیق ادارے کی جانب سے بی بی سی کو بھی کی گئی۔

    بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے ’بدھ کے روز لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ہونے والی تباہ کن حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

    انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  5. لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ کبھی امریکہ کی طرف سے نہیں کیا گیا: جے ڈی وینس

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے کا کبھی وعدہ نہیں کیا، لیکن شاید ایرانی ایسا ہی سوچ رہے ہوں۔

    وینس نے کہا کہ ’اگر ایرانی چاہتے ہیں کہ لبنان کے مسئلے پر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو ’یہ ان کا انتخاب ہوگا،‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اس فیصلے کو ’غیر دانشمندانہ‘ سمجھتے ہیں۔

    انھوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کے دوبارہ کھلنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ اہم تجارتی آبی راستہ اب بھی بند ہے۔‘

    اس سے قبل ایران نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے راستے سے بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کو ’نشانہ بنایا جائے۔‘

  6. مذاکرات کی بنیاد بننے والی تجاویز کی خلاف ورزی کے بعد بات چیت یا جنگ بندی غیرمعقول ہے: باقر قالیباف

    NurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری اور اس کے ردعمل میں ایران کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیے جانے سے اس کے مستقبل پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے امریکہ کو متنبہ کیے جانے کے بعد کہ اسے جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا اب ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل 10 نکاتی تجاویز کی، جو کہ متفقہ فریم ورک ہے، تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    ایرانی سپیکر کی ٹویٹ کا عکس

    ،تصویر کا ذریعہX

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جمعے کو اسلام آباد میں متوقع ہیں جن کے لیے امریکی صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرقِ وسطی کے لیے اپنے اہلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا انتخاب کیا ہے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو پاکستانی وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے ان مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی تاہم رات گئے محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر واضح طور پر کہا تھا کہ ایران کی 10 نکاتی تجاویز وہ قابلِ عمل بنیاد ہے جس پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تاہم، ان تجاویز کی تین شقوں کی اب تک خلاف ورزی کر دی گئی ہے۔

    ایرانی سپیکر کا کہنا تھا کہ ان خلاف ورزیوں میں لبنان میں جنگ بندی نہ کرنے اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار کے علاوہ ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی شامل ہیں۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ وہی ’قابلِ عمل بنیاد جس پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں‘ مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی واضح طور پر پامال کر دی گئی ہے اور ایسی صورتحال میں، دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول چیز ہیں۔

  7. کیا اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازع جنگ بندی کو سبوتاژ کر دے گا؟, یروشلم سے بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار ہیوگو باچیگا کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اہم سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کیا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو متاثر کر سکتی ہے؟

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان میں اس کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، جبکہ حزب اللہ، جس نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل پر کوئی حملہ نہیں کیا، اب یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ اسے جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

    آج اس تنازع کے دوران اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری دیکھنے میں آئی۔ جنوبی علاقوں سے لے کر مشرقی حصے اور بیروت تک، صرف 10 منٹ کے دوران ملک بھر میں شدید حملے کیے گئے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 112 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    بیروت میں سب سے بڑے فضائی حملے کے مقام پر کئی گھنٹوں بعد بھی امدادی کارکن تباہ شدہ عمارتوں میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے تھے۔ ملبے سے ملنے والے سامان میں مسکراتے خاندانوں کی تصاویر اور کپڑوں کے ٹکڑے شامل تھے۔ دارالحکومت کے مرکز کے قریب واقع اس علاقے میں تباہی کے پیمانے کا اندازہ لگانا مُشکل ہے۔

    عبدالقادر محفوظ اپنے زخمی بھائی کی عیادت کے لیے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں انسانی جسموں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ صرف عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام کیا کریں؟ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کاش میں خود اس سب کے ذمہ داروں کو سزا دے سکتا۔ دشمن ہم پر کوئی رحم نہیں کر رہا۔‘

    لبنان میں بہت سے لوگ حزب اللہ سے بھی ناراض ہیں اور کہتے ہیں کہ اس گروہ نے ملک کو ایک خطرناک اور ناپسندیدہ جنگ میں دھکیل دیا ہے، تاہم وہ ملک میں اتنی بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کا الزام اسرائیل پر لگاتے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  8. لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ جاری رہے گی، معاہدے ایران کے ساتھ ہوا ہے: نتن یاہو

    Israel Prime Minister's Office

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Prime Minister's Office

    چند منٹ قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ایک بیان دیا ہے۔

    جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران کے خلاف تنازع دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور ان کے الفاظ تھے کہ ’ہماری انگلی اب بھی بندوق کے ٹریگر پر ہے۔‘
    • لبنان میں آج کے مزید حملوں کے بعد انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل نے عارضی جنگ بندی میں حزب اللہ کو شامل نہیں کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم ان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مزید بتایا کہ ’آج بیروت میں ہونے والا حملے اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا جس میں 10 منٹ میں 100 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘
    • انھوں نے یہ بھی کہا کہ منگل کی شام ہونے والا جنگ بندی معاہدہ اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بعد ہوا ہے اور انھوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ انھیں اس معاہدے کے بارے میں آخری لمحات میں اطلاع دی گئی۔
  9. امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: عباس عراقچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘

    ایرنی وزیرِ خارجہ نے اب سے کُچھ دیر قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح اور دوٹوک ہیں، امریکہ کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’دونوں راستے ایک ساتھ اختیار نہیں کیے جا سکتے۔‘

    عباس عراقچی کا ایکس پر جاری بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’دنیا لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھ رہی ہے۔ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔‘

  10. امریکا نے ایران کے اُس فوجی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے جسے وہ ’دنیا میں دہشت پھیلانے‘ کے لیے استعمال کرتا تھا: وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اب سے کُچھ دیر قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے اُس فوجی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے جسے وہ ’دنیا میں دہشت پھیلانے‘ کے لیے استعمال کرتا تھا۔

    وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپنے اس آپریشن کے دوران ایران کے میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

    لیویٹ کے مطابق ’ایران کی بحریہ کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا ہے اور اب اس کے پاس ’ایک بھی آبدوز موجود نہیں‘، جبکہ اس کی 97 فیصد بحری بارودی سرنگیں بھی ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کی فضائیہ بھی اب عملی طور پر ’غیر مؤثر‘ ہو چکی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔‘

    کیرولین لیویٹ کا دعویٰ تھا کہ ’آپریشن ’ایپک فیوری‘ سے قبل ایران جارحانہ انداز میں اپنے قلیل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کو وسعت دے رہا تھا، جسے وہ ملک کے گرد ایک حفاظتی حصار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا تاکہ اپنے حتمی مقصد، یعنی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو حاصل کر سکے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ قیادت خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے اور اب انھیں آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت بھی حاصل نہیں رہی۔‘

  11. بریکنگ, ٹرمپ کا مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ، جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد آئیں گے: وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں جن میں جے ڈی وینس، وٹکوف اور جیرڈ کُشنر شامل ہیں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد، پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاوس میں پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کی اسلام آباد پہنچنے والی ٹیم میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات مقامی وقت کے مطابق سنیچر کی صبح شروع ہوں گے اور مزید کہا کہ ’ہم ان بالمشافہ ملاقاتوں کے منتظر ہیں۔‘

  12. لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 89 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی: وزارتِ صحت

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارتِ صحت کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ آج اسرائیل کے ملک بھر میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 89 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق جنوبی لبنان میں ہلاک ہونے والوں میں 12 طبی عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی دفاعی افواج نے اعلان کیا کہ انھوں نے گزشتہ ماہ لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد اپنی سب سے بڑی فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

    لبنان سے موصول ہونے والی چند تازہ تصاویر جن میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں:

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. اسرائیل کا بیروت میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بیروت میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر پر حملہ کیا گیا ہے، جبکہ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی نے بھی بیروت اور جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں میں تازہ حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    اس سے قبل آئی ڈی ایف کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ ماہ شروع ہونے والی کارروائی کے بعد آج حزب اللہ کے خلاف ’سب سے بڑا حملہ‘ کیا ہے۔

  14. پاکستان تحریکِ انصاف کا نو اپریل کو لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں نو اپریل یعنی کل راولپنڈی کی لیاقت باغ میں ہونے والے جلسے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ علاقائی صورتحال اور پورے خطے کو تنازع کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے پیشِ نظر، پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی نے نو اپریل کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں منعقد ہونے والا عوامی اجتماع ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کا مؤقف ہے کہ قومی اور علاقائی ترجیحات کے پیشِ نظر اس مرحلے پر تمام توجہ امن مذاکرات کی کامیابی اور سفارتی کوششوں کے استحکام پر مرکوز رکھنا ناگزیر ہے۔‘

    پی ٹی آئی کے شعبہ اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ضروری امر اس وقت یہ ہے کہ خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم راولپنڈی میں جلسے کے حوالے سے نئی تاریخ کا اعلان پارٹی میں مشاورت کے بعد مناسب وقت پر کر دیا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نو اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اسی حوالے سے وکلاء اور ضلعی تنظیموں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس جلسے کے لیے متعلقہ انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔

  15. لبنان پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند: ’بغیر اجازت گزرنے والے جہازوں کو تباہ کر دیا جائے گا،‘ ایران کی تنبیہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔

    آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا ایک اہم نکتہ ہے۔

    تاہم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے منسلک خبر رساں ادارے فارس نے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ آج (بدھ کی) صبح ایران کی اجازت سے دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

    اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی نے بھی اطلاع دی ہے کہ بحری جہازوں کو روک دیا گیا ہے، اور دونوں خبر رساں اداروں نے اس اقدام کی وجہ لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کو قرار دیا ہے۔

    دریں اثنا تجارتی جہازوں کے بروکر ادارے ’ایس ایس وائی‘نے بی بی سی ویریفائی کو تصدیق کی ہے کہ خلیج میں موجود بحری جہازوں کو درج ذیل پیغام موصول ہوا ہے: ’تمام بحری جہازوں کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں موجود تمام بحری جہازوں کو اطلاع دی جاتی ہے۔ یہ آئی آر جی سی نیوی سٹیشن ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرگاہ بدستور بند ہے اور اس راستے سے گزرنے کے لیے پاسداران انقلاب سے اجازت لینا لازم ہے۔ جو بھی جہاز بغیر اجازت سمندر میں جانے کی کوشش کرے گا، اسے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا۔‘

    ایس ایس وائی میں ٹینکر ریسرچ کی سربراہ کلیئر گریئرسن نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ جہازوں کے عملے نے یہ پیغام ایک ایسے ریڈیو چینل پر سنا ہے جو بین الاقوامی بحری انتباہات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

  16. کیا امریکہ ایران کو ہرجانہ (ریپریشن) ادا کرنے پر رضامند ہو گا؟

    بی بی سی کی جانب سے ماہرین کا ایک پینل جنگ بندی کے بعد قارئین کے ذہنوں میں آنے والے اہم سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

    ایک سوال میں ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے بعد تعمیرِ نو کے لیے ہرجانے کے مطالبے کی اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کبھی اس پر آمادہ ہو سکتا ہے، یعنی وہ ایران کو ہرجانہ ادا کرے گا۔

    بی بی سی چیف پریزنٹر سُمی سومسکندا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے کسی مطالبے کو قبول کیے جانے کا امکان ’انتہائی کم‘ ہے، کیونکہ امریکہ ایران کے خلاف کیے گئے ان حملوں کو ’جائز‘سمجھتا ہے۔

    سومی سومسکندا کے مطابق، واحد ممکنہ معاشی معاہدہ جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ آمادگی ظاہر کر سکتے ہیں وہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس وصول کرنے کے معاملے پر کسی انتظام پر متفق ہوں۔

    تاہم ان کے بقول، اس بات کا بھی امکان کم ہے کہ ایران اس طرح کے کسی انتظام پر رضامند ہو جائے۔

  17. اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے، تو کیا امریکہ، ایران جنگ بندی برقرار رہ سکے گی؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بی بی سی کی جانب سے ماہرین کا ایک پینل جنگ بندی کے بعد قارئین کے ذہنوں میں آنے والے اہم سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

    ایک سوال یہ پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو کیا امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی قابلِ عمل امن معاہدہ ممکن ہو سکے گا یا جنگ بندی برقرار رہ پائے گی؟

    بی بی سی کی عالمی اُمور کی نامہ نگار لیز ڈوسٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کے اعلان کی بات کی ہے، تاہم لبنان میں حملے نہ صرف جاری ہیں بلکہ اِن میں شدت بھی آتی نظر آ رہی ہے۔

    لیز ڈوسے کے مطابق ایران ان حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قرار دے رہا ہے، یہاں تک کہ یہ اشارہ بھی دے رہا ہے کہ اگر یہ حملے نہ رُکے تو جنگ بندی مکمل طور پر ختم سمجھی جا سکتی ہے۔

    اسی طرح پاکستان کے وزیر اعظم اور ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’تنازع کے شکار مختلف علاقوں میں چند مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘ شہباز شریف نے فریقین سے معاہدے پر عمل درآمد اور جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

    لیز ڈوسٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے لیک ہونے والے ایک دس نکاتی منصوبے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لبنان پر اپنے حملے بند کرے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انھیں [اسرائیل کو] روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو فون کر کے واضح طور پر کہیں کہ (لبنان پر) حملے بند کریں۔‘

  18. چند مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا اطلاعات ہیں، یہ خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں: شہباز شریف

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’تنازع کے شکار مختلف علاقوں میں چند مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کی یہ خلاف ورزیاں ’امن عمل کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہ کہ ’میں نہایت خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ تمام فریقین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور طے شدہ معاہدے کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی کا احترام کریں تاکہ سفارتکاری کو تنازع کے پرامن حل میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔‘

  19. اب نعیم قاسم کی باری آئے گی: اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان بھر میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر اچانک حملوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے بعد اب ’اُن کی باری‘بھی آئے گی۔

    اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے نعیم قاسم کو خبردار کیا تھا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے عوض حزب اللہ کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی—اور آج ہم نے اس وعدے کی ایک اور تکمیل کر دی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’سرکردہ دہشت گرد نعیم قاسم کی باری بھی آئے گی۔‘

    ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں وسیع پیمانے پر حملے جاری رہنے کے تناظر میں اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ’ایران اور لبنان کے محاذوں کو الگ رکھنے‘ پر زور دیا ہے، تاکہ ’لبنان میں زمینی حقیقت کو تبدیل کیا جا سکے اور اسرائیل کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔‘

  20. لبنانی وزیر اعظم کی تمام ’دوست ممالک‘ سے اسرائیلی کارروائیاں رکوانے کی اپیل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لبنان کے وزیرِ اعظم نے اسرائیلی فضائی حملوں کی بڑی لہر کے بعد ’لبنان کے تمام دوست ممالک‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو ’تمام دستیاب ذرائع سے‘رکوانے میں مدد کریں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان دیتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ ’اسرائیل اپنی جارحیت کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہا ہے، جس کے تحت گنجان آباد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور لبنان کے مختلف حصوں، بالخصوص دارالحکومت بیروت میں، نہتے شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔‘

    ان کی یہ اپیل اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائی کے آغاز کے بعد آج لبنان بھر میں ’سب سے بڑے حملے‘ کیے ہیں۔

    نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے بین الاقوامی قانون کے لیے ’مکمل بے اعتنائی‘ کا اظہار ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’لبنان کے تمام دوستوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے ہر دستیاب ذریعے سے ہماری مدد کریں۔‘

    دوسری جانب مغربی ممالک کے ایک گروپ نے ایران میں ’تیز رفتار اور دیرپا امن‘ کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مکمل پابندی کریں، جس میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔

    اس مشترکہ بیان پر برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز اور سپین کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔

    بیان میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور پاکستان اور دیگر ثالثوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنھوں نے ’اس اہم معاہدے کو ممکن بنانے میں سہولت کاری‘ کی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ چند دنوں میں جنگ کے فوری اور دیرپا خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ یہ صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ ہم ایک بامعنی اور مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے حل کی طرف تیز پیش رفت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایران کی شہری آبادی کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔‘

    آخر میں بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، بشمول لبنان میں۔‘

Trending Now