لائیو, بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملے، ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی ہلاک

منگل کی صبح بغداد میں امریکی سفارتخانہ پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’سفارتخانے پر تین ڈرون اور چار راکٹ داغے گئے جن میں سے کم از کم ایک سفارتخانے کے اندر گرا۔‘ دوسری جانب ابوظہبی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات میزائل کے ملبے کی زد میں آ کر ایک پاکستانی شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

خلاصہ

  • یورپی رہنماؤں کا اسرائیل اور حزب اللہ سے 'پائیدار سیاسی حل' کے لیے بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ
  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملے
  • جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار
  • خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
  • ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف سے کوئی نیا رابطہ نہیں ہے ہوا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
  • زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی ہلاک

    ابوظہبی میں سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ رات شارپنل لگنے سے ایک پاکستانی شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ’ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو روکنے‘ کے بعد پیش آیا۔

  2. سری لنکا میں ایندھن کی بچت کے لیے اب بدھ کے روز عام تعطیل ہوا کرے گی

    سری لنکا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسری لنکا میں لوگ پیٹرول پمپ پر قطار میں کھڑے ہیں۔

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایشیائی ممالک ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اقدامات متعارف کروا رہے ہیں۔

    گذشتہ سال آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تیل اور گیس کا تقریباً 90 فیصد حصہ ایشیائی کے لیے تھا، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا خطہ ہے۔

    سری لنکا نے ایندھن کی بچت کے لیے ہر بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی چلانے والوں کو بھی قومی ایندھن پاس کے لیے اندراج کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پاس کے تحت لوگ صرف ایک مخصوص مقدار میں ایندھن خرید سکتے ہیں۔

    میانمار میں، نجی گاڑیوں کو ان کی لائسنس پلیٹ نمبروں کے لحاظ سے صرف متبادل دنوں میں چلنے کی اجازت ہے۔

    بنگلہ دیش نے یونیورسٹیوں میں عید کی تعطیلات کا پہلے ہی کو اعلان کر دیا ہے اور ایندھن کی بچت کے لیے ملک بھر میں منصوبہ بند بلیک آؤٹ متعارف کروایا جا رہا ہے۔

    فلپائن میں، کچھ سرکاری دفاتر میں عملے کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک دن گھر سے کام کرنا (ورک فرام ہوم) لازمی قرار دیا ہے ۔

  3. یورپی رہنماؤں کا اسرائیل اور حزب اللہ سے ’پائیدار سیاسی حل‘ کے لیے بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنبیروت میں اسرائیلی حملوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد۔

    کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں نے لبنان میں جاری لڑائی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور لبنان پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ’پائیدار سیاسی حل‘ کے لیے بات چیت شروع کریں۔

    ایک مشترکہ بیان میں، ان ممالک نے لبنان کی حزب اللہ سے غیر مسلح ہونے اور اسرائیل پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ایران کی جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے کی بھی مذمت کی گئی۔

    یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کی جانب سے بڑے پیمانے پر زمینی حملے کے تباہ کن انسانی نتائج ہوں گے اور یہ ایک طویل تنازعہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اسے روکنا ضروری ہے۔‘

    یہ بیان بیروت میں رات بھر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان حملوں کا نشانہ شہر کے جنوبی علاقے تھے۔

  4. ساڑھے پانچ ہزار سے زائد پاکستانی چاغی اور گوادر کے راستے ایران سے واپس پہنچے ہیں، وزیرِ اعلی بلوچستان

    ایران پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد سے وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی سڑک کے راستے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 28 فروری سے لے کر گذشتہ روز تک ایران سے پانچ ہزار 615 پاکستانی شہری ضلع چاغی اور گوادر کے راستے واپس پہنچ چکے ہیں۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے علاوہ دو ہزار 117 ایرانی ڈرائیورز اور 431 دیگر ممالک کے شہری بھی ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کو گوادر اور چاغی کے انتظامیہ نے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دونوں سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کو ہر ممکن معاونت کی فراہمی کے لیے متحرک ہے۔

  5. عراق پر حملے منگل کے روز بھی جاری

    عراق اس ہفتے متعدد حملوں کی زد میں رہا ہے اور منگل کے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    پیر کے روز بغداد کے سخت سکیورٹی والے گرین زون میں ڈرون حملے کے بعد یہاں واقع ایک لگژری ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے موجود ہیں۔

    منگل کی صبح گرین زون میں واقع امریکی سفارتخانہ بھی نشانہ بنا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’سفارتخانے پر تین ڈرون اور چار راکٹ داغے گئے جن میں سے کم از کم ایک سفارتخانے کے اندر گرا۔‘

    ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ انھوں نے کم از کم تین ڈرون امریکی سفارتخانے کی جانب جاتے دیکھے۔ روئیٹرز کے مطابق دو ڈرون مار گرائے گئے جبکہ تیسرا سفارتخانے کے احاطے کے اندر ٹکرایا۔

    عراقی سیکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ’حملوں کے آغاز سے اب تک کا سب سے شدید حملہ‘ تھا۔

  6. ایران کے متحدہ عرب امارات پر متعدد حملے

    فجیرہ کی بندرگاہ پر حملے کے بعد اٹھتا دھواں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات پر 1900 سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    ایران کا ہدف امارات کی ٹرانسپورٹ اور تیل کی تنصیبات رہی ہیں۔

    پیر کے روز دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ’ڈرون سے متعلقہ واقعہ‘ کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور پروازیں عارضی طور پر معطل رہیں۔ یہ بین الاقومی سفر کے لیے سب سے مصروف مرکز ہے۔

    فجیرہ کی اہم بندرگاہ میں بھی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی، یہاں خطے میں تیل ذخیرہ کرنے والی سہولیات میں سے ایک واقع ہے۔

    شہر کے میڈیا آفس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی کے مضافات میں ایک کار پر راکٹ حملے میں ایک فلسطینی شہری ہلاک ہوا۔

    ایران کی جوابی کارروائیوں کے آغاز سے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ متعدد حملوں کی زد میں رہا ہے، جس کے باعث پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا۔ فروری کے آخر میں دبئی کے ایک لگژری ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    بی بی سی کی نامہ نگار آزادہ مشیری نے پیر کو بی بی سی گلوبل نیوز پوڈکاسٹ پر بتایا کہ متحدہ عرب امارات کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسے ’ناحق اس جنگ میں گھسیٹا گیا ہے‘۔

    انھوں نے کہا: ’ایران شاید سمجھتا ہو کہ اس طرح کے حملوں سے یہاں کے رہنما امریکہ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے حکام شدید غصے میں ہیں۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے ایک وقت لگا کر یہ تاثر قائم کیا تھا کہ وہ ’ایک محفوظ اور خوشحال ملک ہے‘ اور اب ’بار بار حملوں کا نشانہ بننے کے بعد لوگ اس کے طویل المدتی اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘

  7. بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملے

    خبر رساں اداروں روئیٹرز اور اے ایف بی کے مطابق بغداد میں امریکی سفارتخانہ پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

    عراقی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حملوں کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے شدید حملہ تھا۔‘

    سفارتخانے نے تقریباً چھ گھنٹے قبل عراق میں موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک نیا سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’ایران سے منسلک دہشت گرد ملیشیا بار بار بغداد کے مرکزی انٹرنیشنل زون پر حملے کر رہی ہیں۔‘

  8. پاکستانی آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے طویل راستہ کیوں اختیار کیا؟

    MarineTraffic

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    ہم نے کئی جہازوں کو ٹریک کیا ہے جو آج آبنائے ہرمز سے گزرتے دکھائی دیے۔ ان میں سے ایک پاکستان کے جھنڈے والا جہاز ’کراچی‘ ہے جو خام تیل لے کر جا رہا ہے اور یہ سرکاری ادارے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملکیت ہے۔

    میرین ٹریفک کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز ایران کے خصوصی اقتصادی زون ای ای زیڈ) میں داخل ہوا، قشم اور لارک جزائر کے درمیان سے گزرا اور جنوبی سمت میں جاتے ہوئے ایرانی ساحل کے قریب سے گزرا۔

    ہم نے سابق امریکی بحریہ کے کپتان بریڈلی مارٹن سے پوچھا کہ جہاز نے اتنا طویل اور غیر معمولی راستہ کیوں اختیار کیا۔

    بریڈلی مارٹن، جو اب امریکی دفاعی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن میں سینیئر محقق ہیں، کہتے ہیں کہ یہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ جہاز ’ایران کی جانب سے گزرگاہ کے حوالے سے دیے گئے کسی ہدایت نامے پر عمل کر رہا تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس راستے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ علاقے میں بارودی سرنگیں موجود ہیں، یا ایران نے یہ راستہ اس لیے منتخب کیا تاکہ جہاز کو دیگر ٹریفک میں زیادہ آسانی سے شناخت کیا جا سکے۔

    امریکی ادارے سینٹر فار نیول اینالیسز کے پرنسپل ریسرچ سائنسدان جوناتھن شروڈن بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جہاز کا راستہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ علاقے میں بارودی سرنگیں ہیں یا ایران یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ بارودی سرنگیں موجود ہیں تاکہ یہ ایک ڈیٹرنس (روک تھام یا خوف) قائم کرے۔

  9. ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف سے کوئی نیا رابطہ نہیں ہے ہوا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی امریکی میڈیا کی خبروں کی تردید

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے ذریعے تہران سے دوبارہ رابطہ قائم کیا ہے۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’میرا سٹیو وٹکوف سے آخری رابطہ اُس وقت ہوا تھا جب ان کے مالک (ٹرمپ) نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارت کاری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے برعکس کوئی بھی دعویٰ صرف تیل کے تاجروں اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے نظر آتا ہے۔‘

  10. زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کے خلاف جاری جنگ اس ہفتے ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت کو ’تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہاں، بالکل‘۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ واقعی اس ہفتے ختم ہو جائے گی تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ سب کرنا ان پر ’فرض‘ تھا اور جنگ کے بعد دنیا ’زیادہ محفوظ‘ ہو جائے گی۔

    ٹرمپ نے B-2 بمبار طیارے کا ماڈل اٹھایا اور کہا کہ اگر انھوں نے گذشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کا حکم نہ دیا ہوتا تو تہران کے پاس اب تک جوہری ہتھیار موجود ہوتے۔

    ان حملوں میں B-2 بمبار طیارے استعمال کیے گئے تھے، جنھیں امریکہ نے ’مڈنائٹ ہیمر‘ کا کوڈ نام دیا تھا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ اگر ’ہم نے یہ نہ کیا ہوتا‘ تو ایک ’ایٹمی جنگ، تیسری عالمی جنگ‘ شروع ہو جاتی۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب صرف تقریباً 8 فیصد میزائل اور چند حملہ آور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک نے انھیں ’شدید مایوس‘ کیا ہے کیونکہ انھوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون نہیں کیا۔

    ٹرمپ نے خاص طور پر نیٹو ممالک کا ذکر کیا اور بتایا کہ انھوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر سے بات کی تھی، جو پہلے ہچکچائے لیکن بعد میں کچھ مدد کی پیشکش کی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے آپ کے ایئرکرافٹ کیریئرز کی ضرورت نہیں، جب ہم پہلے ہی جنگ جیت چکے ہیں۔‘

    تاہم ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک امریکہ کے منصوبے میں مدد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کی نشاندہی نہیں کی لیکن کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان اور چین جیسے ممالک کو بھی امریکہ کی مدد کرنی چاہیے۔

  11. معلوم نہیں کہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای ’زندہ ہیں یا نہیں‘: ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’اپنے سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر موجود ہر ملک پر میزائل داغ رہا ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ایران ہزاروں میزائل ان ممالک پر داغ رہا ہے جو اس جنگ میں شامل ہونے کی توقع نہیں رکھتے تھے۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی تمام قیادت ’ختم ہو چکی ہے‘ اور انھیں ’کوئی اندازہ نہیں‘ کہ وہ اس وقت کس سے معاملہ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ سب ختم ہو گئے ہیں۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم ہم کس سے بات کر رہے ہیں۔ کسی نے ان لوگوں کے بارے میں کبھی نہیں سنا، وہ سب مر چکے ہیں۔‘

    اس سے قبل ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ ’امریکہ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’زندہ ہیں یا نہیں۔‘

  12. صدر ٹرمپ کا 100 زیادہ ایرانی بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران مختصراً ایران میں جاری جنگ کے حوالے سے بات کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت ’تباہ‘ کر دی گئی ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اس جنگ میں اب تک 7 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور 100 سے زیادہ بحری جہازوں کو تباہ کر چکا ہے۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو ’عملی طور پر تباہ‘ کر دیا گیا ہے، ان کی فضائیہ، بحریہ اور رہنما ختم ہو چکے ہیں اور ان کی اینٹی ایئر کرافٹ ٹیکنالوجی بھی ’بری طرح تباہ‘ ہو چکی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ’وہ کر رہے ہیں جو برسوں پہلے ہو جانا چاہیے تھے۔‘

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے پیر کو ایسی تین تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جہاں میزائل اور ڈرون بنائے جا رہے تھے۔

    ٹرمپ کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو ’بری طرح نقصان‘ پہنچا رہا ہے۔‘

    امریکی صدر کے مطابق انھیں نہیں معلوم کہ ایران نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں لیکن امریکہ نے اس کام پر مامور ایران کے 30 جہازوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایران کو ٹھکانے لگا چکے ہیں‘ اور دیگر ممالک کو چاہیے کو وہ ’آگے آئیں اور آبنائے ہرمز (کو کھلوانے) کے لیے مدد فراہم کریں۔‘

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ متعدد ممالک ان کی مدد کے لیے آگے آر ہے ہیں۔

    تاہم امریکی صدر نے ان ممالک کا نام لینے سے اجتناب کیا اور کہا: ’میں ان کے نام لینا چاہوں گا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ ایسا چاہیں گے یا نہیں کیونکہ شاید وہ (اس جنگ میں) نشانہ نہیں بننا چاہیں گے۔‘

  13. مشرقِ وسطیٰ میں نئے حملوں کی اطلاعات: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنبیروت میں اسرائیلی حملوں کے بعد کا ایک منظر

    اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے متعدد شہروں پر تازہ فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی ممالک نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے بھی دعوے کیے ہیں۔

    ہم اب تک ان حملوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    • اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے تہران، شیراز اور تبریز میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ’وسیع پیمانے پر حملوں کی نئی لہر‘ کا آغاز کیا ہے۔
    • اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ایک خلائی شعبے سے متعلق کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
    • اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ’محدود اور مخصوص‘ کارروائیاں کی ہیں۔
    • پیر کو بھی اسرائیل بھر میں سائرن بجتے رہے کیونکہ شمال میں حزب اللہ اور جنوب میں ایرانی میزائل حملوں کا خطرہ تھا۔
    • قطر کا کہنا ہے کہ اس نے دن کے آغاز میں ہونے والے حملے کے بعد ایران سے داغے گئے میزائلوں کی دوسری لہر کو بھی روک لیا ہے۔ دوحہ میں بی بی سی کی مریم مشیری کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
    • متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں کے باعث فجیرہ میں تیل کے صنعتی علاقے اور ام القوین کی ایک عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق ابوظہبی میں ایک فلسطینی شہری اس وقت ہلاک ہوا جب ایک میزائل شہری علاقے میں آ گرا۔
    • سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے رات میں درجنوں ڈرونز مار گرائے ہیں، جبکہ عراق اور کویت نے بھی نئے حملوں کی اطلاع دی ہے۔
  14. کیا برطانوی بحریہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں امریکہ کی مدد کر سکتی ہے؟, تھامس سپینسر

    برطانوی ٹائپ 23 فریگیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنبرطانوی ٹائپ 23 فریگیٹ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے لیے مدد فراہم کریں۔ برطانوی رائل نیوی کے پاس ایسے متعدد جہاز ہیں، جو ایران کی سمندری بارودی سرنگوں، میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

    خیال رہے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس کے سبب مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

    انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی رائل نیوی کے پاس بارودی سرنگوں کی صفائی کے قابل آٹھ جہاز موجود ہیں، اس کے علاوہ دیگر ساز و سامان بھی موجود ہے جن میں خودکار ڈرونز بھی شامل ہیں۔

    رائل نیوی کے پاس ٹائپ–45 ڈسٹرائرز اور ٹائپ–23 فریگیٹس بھی موجود ہیں، جو نہ صرف میزائل اور ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ سمندر اور ساحل دونوں پر اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    عسکری تجزیہ کار اور سابق برطانوی فوجی افسر جسٹن کرمپ نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ان میں سے کچھ ڈسٹرائرز کے تعیناتی کے لیے تیار ہونے کا امکان کم ہے یا وہ پہلے ہی دیگر کاموں کے لیے مختص ہیں۔

  15. آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کے کتنے ذخائر موجود ہیں؟, روحان احمد، بی بی سی اردو اسلام آباد اور صحافی تنویر ملک

    سیکریٹری پیٹرولیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور ایندھن کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔ ساتھ ہی حکومت توانائی کی سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے کے لیے درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

    یہ بات وزارتِ خزانہ میں پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی، جس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری، سٹیٹ بینک کے گورنر اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی لاجسٹکس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں اس وقت 392 ہزار میٹرک ٹن کروڈ آئل کا ذخیرہ موجود ہے۔

    سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو سیکریٹری پیٹرولیم نے قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا کہ ملک میں اس وقت 404 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل اور 564 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہے۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بین الاقوامی صورتحال کے سبب روس پر عائد پابندیاں ہٹنے کے بعد 11 مارچ سے پاکستان کو روس سے بھی تیل خریدنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    تاہم سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس روسی تیل کے حصول کے لیے منظم بینکنگ چینلز موجود نہیں ہیں اور اس پورے عمل میں 30 سے 40 روز لگتے ہیں۔

    ’روسی آئل ٹینکرز پاکستان بندرگاہوں پر اپنے حجم کے باعث لنگر انداز نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ تیل پہلے عمان جاتا ہے اور پھر وہاں سے پاکستان آتا ہے۔‘

    سیکریٹری پیٹرولیم کے مطابق حکومت تیل کے ممکنہ بحران بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    دوران بریفنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان تقریباً 25 فیصد کروڈ آئل، 30 فیصد ڈیزل اور 70 فیصد پیٹرول خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کرتا ہے اور ’اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کو شاید پیٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے طویل روٹس کا سہارا لینا پڑے۔‘

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں مارچ کے مہینے کے لیے ایندھن کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ موجودہ کارگو منصوبہ بندی اور سپلائی انتظامات کے مطابق ذخائر اپریل کے وسط تک دستیاب رہیں گے، جبکہ انھیں اپریل کے اختتام تک بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

    اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں درآمدی طریقہ کار اور بحری نقل و حمل کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ توانائی کی قومی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے درآمدی ذرائع کو مزید متنوع بنانا ضروری ہے تاکہ کسی ایک راستے یا ذریعہ پر انحصار کم کیا جا سکے۔

    اس موقع پر وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ذخائر اور سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے اور دستیاب رپورٹس کی روشنی میں عوام کو گھبراہٹ میں پیٹرول خریدنے یا غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کی ضرورت نہیں۔

    اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اوگرا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ذخائر اور مارکیٹ کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھیں تاکہ ذخیرہ اندوزی کے کسی بھی امکان کو روکا جا سکے۔ حکام نے خبردار کیا کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے یا سپلائی میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    وزیرِ خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ توانائی کی منڈی میں استحکام برقرار رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انھوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ مضبوط رکھیں اور ذخائر و سپلائی کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں تاکہ ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پیٹرولیم ذخائر، درآمدی بہاؤ، مارکیٹ کی صورتحال اور سپلائی چین کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھے جائیں گے۔

  16. متحدہ عرب امارات کے شہر ام القوین میں ڈرون حملہ، ایرانی حملوں میں اب تک سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    دبئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنڈرون سے متعلق واقعے کے بعد دبئی ایئرپورٹ سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے علاقے ام القوین میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک عمارت میں آگ لگ گئی۔

    یہ متحدہ عرب امارات کا سب سے کم آبادی والا شہر ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں تاحال کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس میں ایران کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی قومیتوں کے متعلق بتایا گیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک کل سات افراد مارے گئے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے دو ارکان کے علاوہ پانچ شہری بھی شامل ہیں۔ ان افراد کا تعلق پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور فلسطینی سے ہے۔

    اس کے علاوہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 145 ہے۔

  17. ایران حملے روک دے تو سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں: قطر

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کا کہنا ہے کہ سفارت کاری تبھی ممکن ہے اگر ایران حملے کرنا بند کر دے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ حملے روک دیتے ہیں، تو ہم سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔ لیکن جب تک ہمارے ممالک پر حملے ہوتے رہیں گے، تو یہ کمیٹیاں قائم کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘

    ’یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ممالک کی حفاظت کے لیے ایک اصولی موقف اختیار کریں اور ان کے لیے کہ وہ فوری طور پر ہم پر حملے کرنا بند کر دیں۔‘

    ماجد الانصاری جس کمیٹی کا حوالہ دے رہے ہیں اس کی کی تجویز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دی تھی تاکہ خلیجی ریاستوں میں شہری انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کی جا سکے۔ ایران ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا آیا ہے۔ ماجد الانصاری اس بات کو صاف طور پر مسترد کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک شہری اہداف پر حملے اور ان کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ انھوں نے سنیچر کے روز داغے گئے ایک میزائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نشانہ دوحہ کا ایک رہائشی علاقہ تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انخلا کے احکامات جاری کرنے کا فیصلہ جزوی طور پر ایرانی میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کے بعد کیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ رہائشی اور تجارتی علاقوں میں واقع مخصوص کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ان علاقوں میں گوگل، امریکن ایکسپریس اور مائیکروسافٹ جیسی امریکی کمپنیوں کے دفاتر واقع تھے۔

    الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر بحران کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کسی باضابطہ ثالثی سے آگاہ نہیں۔

  18. آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں بنتا، جرمن وزیرِ خارجہ

    جرمن وزیرِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول کا کہنا ہے کہ انھیں آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں دکھائی دیتا۔

    ’مجھے نہیں دکھائی دیتا کہ نیٹو نے اس متعلق کوئی فیصلہ کیا ہے یا آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی ذمہ داری لے سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو نیٹو کے ادارے اس کے مطابق اس سے نمٹ رہے ہوتے۔

    وہ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اظہار خیال کر رہے تھے۔

    وڈیفل کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورت حال کے باوجود یورپ کی اولین سکیورٹی ترجیح یوکرین ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    جرمن وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیوں میں نرمی غلط راستہ ہے۔

  19. افغانستان تمام مسلم ممالک کے ساتھ ’مضبوط اور مثبت تعلقات‘ کا خواہاں ہے: افغان طالبان کے رہبرِ اعلیٰ کا پیغام

    ہیبت اللہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان کے رہبرِ اعلیٰ ہبت اللہ اخونزادہ کا کہنا ہے کہ افغانستان تمام مسلم ممالک کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر مضبوط اور مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔

    سوموار کے روز افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اخونزادہ کا عید کے موقع پر جاری بیان شیئر کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دیگر ممالک کے ساتھ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اچھے اور فائدہ مند تعلقات قائم رکھنے کا خواہشمند ہے۔

    اپنے پیغام میں ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا ہے کہ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ’وہ افغانستان کے عوام کے عقائد اور اقدار کا احترام کریں اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی تمام ناانصافیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

  20. آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث نہیں بننے دے سکتے: برطانوی وزیرِ اعظم

    سٹارمر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی پہلی ترجیح خطے میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔

    سوموار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب تک 92٫000 برطانوی شہریوں کو واپس لایا جا چکا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس بڑی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔

    کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ تو واضح ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی حکومت کی فوجی صلاحیتیں ’بہت کمزور‘ ہوئی ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ تنازعے کے اختتام کے بعد ایران کو جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی نہ کسی قسم کے ’معاہدے‘ کی ضرورت ہو گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے تاہم ’یہ کوئی آسان کام نہیں‘۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ برطانیہ خطے میں جہازوں کے آزادانہ نقل و حمل کو بحال کرنے کے لیے ایک ’قابل عمل منصوبہ‘ لانے کے لیے اپنے ’تمام اتحادیوں‘ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

    سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنا کسی بھی وزیر اعظم کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ آج صبح ان کی کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ جلد ہی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یوکرین کی حمایت پر توجہ مرکوز رکھیں۔

    سٹارمر نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث بننے نہیں دیا جا سکتا۔

Trending Now