لائیو, ایرانی فوج کے سربراہ کی علی لاریجانی کے قتل پر ’فیصلہ کُن‘ جوابی کارروائی کی دھمکی، بغداد میں امریکی سفارتخانے پر تازہ حملہ

ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے ملک کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو ’مناسب وقت پر فیصلہ کن' جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ہونے والے ایرانی میزائل حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
  • ایرانی فوج کے سربراہ نے علی لاریجانی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو 'مناسب وقت پر فیصلہ کن' جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے
  • علی لاریجانی کی ہلاکت پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا ایرانی عوام کے لیے پیغام: 'جشن منائیں، ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں'
  • صدر ٹرمپ کی نیٹو ممالک پر کڑی تنقید: ' ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی خواہش ہے '
  • اقوامِ متحدہ کی میناب میں لڑکیوں کے سکول پر مبینہ امریکی حملے کی تحقیقات کے لیے رسائی کی کوششیں جاری

لائیو کوریج

  1. بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کون تھے؟

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    منگل کی شب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔

    غلام رضا سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے۔ متعدد فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد جن میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن کمانڈر اِن چیف کی ہلاکت بھی شامل ہے سلیمانی کی موت جنگ کی اہم خبروں میں سے ایک ہے۔

    بسیج جو تنظیمی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت ہے ایران کی حکومتی سکیورٹی قوتوں میں سے ایک ہے اور داخلی مسائل کے انتظام، نیز احتجاج کو دبانے اور کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    غلام رضا سلیمانی کون تھے؟

    سپاہ نیوز کی ویب سائٹ نے ان کی بسیج کے کمانڈر کے طور پر تقرری کے وقت ان کے پس منظر پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

    اس رپورٹ کے مطابق، وہ سن 1964 میں صوبہ چهارمحال و بختیاری کے شہر فارسان میں پیدا ہوئے۔

    اپنی تقرری کے وقت وہ تاریخ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے اور ان کا مقالہ ’دورِ اسلام میں ایران کی تاریخ‘ کے موضوع پر تھا، جبکہ انھوں نے کمانڈ اور سٹاف کے کورسز بھی مکمل کیے تھے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غلام رضا سلیمانی سن 1988 میں بسیج میں شامل ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران درجنوں آپریشنز میں حصہ لیا، جن میں فتح المبین، بیت المقدس، رمضان، محرم اور خیبر شامل ہیں، جہاں انھوں نے بسیج کے کمپنی کمانڈر اور بٹالین کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    انھوں نے فوجی درجہ بندی میں ترقی کی اور 44 قمر بنی ہاشم بریگیڈ، 57 ابوالفضل بریگیڈ کے کمانڈر رہے اور بیک وقت لرستان ریجن کے کمانڈر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ 19 فجر ڈویژن، قرارگاہ قدس، 41 ثارالله ڈویژن اور 41 امام حسین ڈویژن کے بھی کمانڈر رہے۔

  2. ایرانی فوج کے سربراہ کی علی لاریجانی کے قتل پر ’فیصلہ کُن‘ جوابی کارروائی کی دھمکی

    Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد ’فیصلہ کن‘ جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    حاتمی نے ایک بیان میں کہا کہ ’مناسب وقت اور جگہ پر امریکہ اور خونخوار صیہونی حکومت کو ایک فیصلہ کن اور انتہائی شدید جواب دیا جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ لاریجانی اور دیگر ’شہدا‘ کی موت کا بدلہ ہر قیمت پر لیا جائے گا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ لاریجانی کی موت کے ’بدلے‘ میں مرکزی اسرائیل پر پہلے ہی میزائل داغ چکی ہے۔

  3. ایک پروجیکٹائل نے ایرانی جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے: اقوامِ متحدہ

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے جنوب مغرب میں ایک جوہری بجلی گھر کو ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایک بیان میں آئی اے ای اے جو جوہری ٹیکنالوجیز کی نگرانی کرنے والا اقوامِ متحدہ کا ادارہ ہے نے کہا کہ ایران نے منگل کی شام بوشہر جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے واقعے کی اطلاع دی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی عملے کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔‘

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تنازع کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیل دہرائی ہے تاکہ جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے بچا جا سکے۔

  4. بغداد میں امریکی سفارتخانے پر تازہ حملہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں اداروں کی جانب سے عراقی دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر نئے حملوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز نے بدھ کی صبح دھماکوں کے حوالے سے خرب دی ہے۔

    اداروں نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اے ایف پی کے صحافیوں نے شہر میں سفارت خانے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ یہ علاقہ سخت سکیورٹی والے گرین زون میں واقع ہے، جہاں کئی سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیمیں موجود ہیں۔

  5. سعودی عرب اور کویت پر ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری

    سعودی عرب اور کویت دونوں ہی مُمالک کی جانب سے جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ہونے والے متعدد ڈرون اور میزائل حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔

    سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے میں چھ ڈرونز ناکارہ بنایا اور انھیں فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب، کویت کی فوج کا کہنا ہے کہ اُن کے فضائی دفاعی نظام ’میزائل اور ڈرونز‘ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ حفاظت اور سکیورٹی سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔

    مزید کہا گیا ہے کہ ’جو بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں‘ وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو روکنے کا نتیجہ ہیں۔

  6. تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے میں دو افراد ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملے میں تل ابیب کے اردگرد متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی ایمبولینس سروس ماگن ڈیوڈ ادوم کے ایک ایمرجنسی ریسپانڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے ایک عمارت سے ’اٹھتا ہوا دھواں‘ اور ’وسیع پیمانے پر تباہی دیکھی ہے۔

    بعد ازاں طبی عملے نے تل ابیب کے مشرق میں رامات گان کے علاقے میں ایک مرد اور ایک خاتون کی موت کی تصدیق کی، جنھیں ’شریپنل لگنے سے گہرے‘ آئے تھے۔

    بنی براق کے علاقے میں، ایم ڈی اے ٹیموں نے ایک اور زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کیا۔

  7. امریکی افواج کا آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل تنصیبات پر اور ٹھکانوں پر حملہ

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے 5000 پاؤنڈ وزنی متعدد گہری ضرب لگانے والے بموں کو ایران کے ’مضبوط‘ میزائل ٹھکانوں پر ’کامیابی سے استعمال‘ کیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ بم ایران کے ساحلی علاقے میں آبنائے ہرمز کے قریب اہداف پر گرائے گئے ہیں۔

  8. ’جشن منائیں، ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں: نیتن یاہو کا ایرانی عوام کے لیے ویڈیو پیغام

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ فوجی کمانڈروں کے درمیان کھڑے ہو کر ایرانی عوام کے لیے پیغام دے رہے ہیں۔

    بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں اسرائیل کے وزیرِ دفاع، ہمارے چیف آف سٹاف، موساد کے سربراہ، فضائیہ کے سربراہ اور ہمارے سینیئر کمانڈروں کے ساتھ موجود ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے اس جابرانہ حکومت کے دو بڑے دہشت گرد سرغنوں کو ختم کر دیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اب ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جس کا اعلان اسرائیل نے پہلے ہی کر دیا تھا۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’ہمارے طیارے دہشت گرد عناصر کو میدانوں میں، چوراہوں پر اور شہر کے مرکزی مقامات پر نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    اس کے بعد وہ جمعے کو آنے والے ایرانی نئے سال نوروز کے حوالے سے پیغام دیا کہ ’یہ سب اس لیے ہے کہ ایران کے بہادر لوگ جشنِ آتش (چہارشنبہ سوری) منا سکیں۔ تو جشن منائیں اور نوروز مبارک۔ ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں۔‘

  9. ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے ’قتل‘ کی تصدیق کر دی ہے۔

    تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔

    قبل ازیں اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

  10. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے پہلے آئیے گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • منگل کے روز ایران کی پاسداران انقلاب نے بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی موت کی تصدیق کی۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ’بزدلانہ قتل‘ اُن کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ’جنگ‘ میں بسیج کی ’اہمیت اور کردار‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا کہ اکثر نیٹو اتحادی ممالک کی طرف سے امریکہ کو کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا نہیں چاہتے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ہمیں اس قدر عسکری کامیابی ملی ہے، ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی خواہش ہے۔ ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں تھی۔‘
    • امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کے اعلان میں جو کینٹ نے کہا کہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘
    • اقوامِ متحدہ کے تحقیق کار ایران میں میناب کے اس سکول کے مقام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر جنگ کے آغاز میں حملہ کیا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے ایران فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ایک رکن کے مطابق ادارے کے پاس معتبر اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں کم از کم 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت طالبات کی تھی جن میں سے کئی سات سال کی عمر کی بھی تھیں۔
  11. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں سے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Trending Now