بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کی شب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔
غلام رضا سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ عہدیداروں میں شمار ہوتے تھے۔ متعدد فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد جن میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن کمانڈر اِن چیف کی ہلاکت بھی شامل ہے سلیمانی کی موت جنگ کی اہم خبروں میں سے ایک ہے۔
بسیج جو تنظیمی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت ہے ایران کی حکومتی سکیورٹی قوتوں میں سے ایک ہے اور داخلی مسائل کے انتظام، نیز احتجاج کو دبانے اور کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
غلام رضا سلیمانی کون تھے؟
سپاہ نیوز کی ویب سائٹ نے ان کی بسیج کے کمانڈر کے طور پر تقرری کے وقت ان کے پس منظر پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق، وہ سن 1964 میں صوبہ چهارمحال و بختیاری کے شہر فارسان میں پیدا ہوئے۔
اپنی تقرری کے وقت وہ تاریخ میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے اور ان کا مقالہ ’دورِ اسلام میں ایران کی تاریخ‘ کے موضوع پر تھا، جبکہ انھوں نے کمانڈ اور سٹاف کے کورسز بھی مکمل کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غلام رضا سلیمانی سن 1988 میں بسیج میں شامل ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران درجنوں آپریشنز میں حصہ لیا، جن میں فتح المبین، بیت المقدس، رمضان، محرم اور خیبر شامل ہیں، جہاں انھوں نے بسیج کے کمپنی کمانڈر اور بٹالین کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انھوں نے فوجی درجہ بندی میں ترقی کی اور 44 قمر بنی ہاشم بریگیڈ، 57 ابوالفضل بریگیڈ کے کمانڈر رہے اور بیک وقت لرستان ریجن کے کمانڈر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ 19 فجر ڈویژن، قرارگاہ قدس، 41 ثارالله ڈویژن اور 41 امام حسین ڈویژن کے بھی کمانڈر رہے۔





