لائیو, ’قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے، ایرانی عوام حکومت کے خاتمے کے لیے باہر نکلیں‘: نیتن یاہو

ایرانی عوام کے نام اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اب نہیں رہے۔ انھوں نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے خاتمے کے لیے جوق در جوق باہر نکلیں۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل ہے اور امریکہ نے ایران میں ’بڑے پیمانے پر اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں
  • پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران پر آج کے حملوں کے بعد اسرائیل کے خلاف ’بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے‘ شروع کر دیے گئے ہیں۔
  • ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر بھی جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔ بحرین، ابوظہبی اور قطر میں میزائل حملے ہوئے ہیں جبکہ ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ابوظہبی میں ملبہ گرنےسے ایک ایشیائی نژاد شخص ہلاک ہو گیا ہے۔
  • خطے میں سلامتی کے خدشات کے پیش نظر دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے لیے اپنے فضائی آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، متعدد ایئرلائنز نے یا تو اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں یا انھیں دوسرے راستوں پر موڑ دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: ثنا آصف ڈار، اعظم خان، دانش حسین

  1. ایران: سپریم لیڈر محفوظ ہیں, غنچے حبیب زاد

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پریشکان محفوظ ہیں۔

    اسی طرح ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق رہبر اعلیٰ کے آفس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ سید مہرداد مہدی نے کہا ہے کہ ’دشمن نے نفسیاتی جنگ کا سہارا لیا ہے، ہم سب کو اس کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔‘

  2. ایرانی رہبر اعلیٰ کی موت سے متعلق غیر مصدقہ رپورٹس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد کہ قوی امکان ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے، ہمیں یہ غیر مصدقہ رپورٹس موصول ہو رہی ہیں کہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت مل چکی ہے تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    خبر رساں ادارے ایگزیؤس نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے امریکی حکام کو مطلع کیا ہے کہ خامنہ ای سنیچر کی صبح ان کے دفتر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسی طرح اسرائیل کے متعدد ذرائع ابلاغ بشمول نیوز 12 اور ٹائمز آف اسرائیل نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کی ہے۔

  3. ’نیتن یاہو کے رہبر اعلیٰ سے متعلق بیان سے واضح نہیں ہوتا کہ ان کا کیا مطلب ہے‘, تنشوئی یانگ، لائیو پیج ایڈیٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کے رہبر اعلیٰ سے متعلق بیان سے واضح نہیں ہوتا کہ ان کا کیا مطلب ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے آج صبح تہران کے اوپر سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

    اب تک سپریم لیڈر کی جانب سے موجودہ حالت کے حوالے سے کوئی تازہ بیان نہیں آیا اور اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہ زندہ ہیں یا وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    تاہم بی بی سی کے امریکی پارٹنر این بی سی نیوز کو ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جس حد تک انھیں معلومات ہیں رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔

    Airbus DS 2026

    ،تصویر کا ذریعہAirbus DS 2026

    ،تصویر کا کیپشنبی بی سی ویریفائی کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ایک حصے کو امریکی حملے میں شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔
  4. ایران میں آپریشن طویل بھی ہو سکتا ہے یا دو، تین دن میں ختم بھی: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران میں امریکی فوجی کارروائی طویل بھی ہو سکتی ہے یا پھر دو تین دن میں ختم بھی کی جا سکتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کئی راستے موجود ہیں جن کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں چاہوں تو پورا معاملہ سنبھال لوں، یا پھر دو تین دن میں کارروائی ختم کر کے ایرانیوں سے کہہ دوں: ’اگر آپ نے چند سال بعد دوبارہ اپنا جوہری پروگرام شروع کیا تو ہم پھر آ جائیں گے۔‘

    یہ پہلا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ نے سنیچر کی صبح حملوں کے اعلان کے بعد اس آپریشن پر براہِ راست تبصرہ کیا ہے۔ یہ باتیں انھوں نے امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کو فون پر پانچ منٹ کے ایک انٹرویو میں بتائیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جوہری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے حملوں کی منظوری دی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایرانی کبھی قریب آئے اور پھر پیچھے ہٹ گئے، قریب آئے اور پھر پیچھے ہٹ گئے۔ اس سے مجھے سمجھ آیا کہ وہ دراصل کسی معاہدے کے خواہاں نہیں ہیں۔‘

  5. ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    ایران

    سنیچر کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کی موجودگی کوئی راز نہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے اگست 2024 میں بتایا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اِس کے تقریباً 40 ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔

    ایرانی میزائلوں حملوں کی لپیٹ میں آنے والے متعدد خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوط رکھتے ہیں۔

    تو ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اہداف کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے اور تہران کی اس حکمتِ عملی کے مشرقِ وسطیٰ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

  6. ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اقوامِ متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ

    ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ کے خلاف اقوامِ متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل دو، پیراگراف چار کی خلاف ورزی ہیں اور ایران اپنے دفاع کا حق آرٹیکل 51 کے تحت محفوظ رکھتا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ دشمن افواج کے تمام اڈے اور اثاثے ایران کے لیے جائز فوجی اہداف ہیں۔

    ایران نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کریں اور اجتماعی کارروائی کریں۔

    خط کی کاپی تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی بھیجی گئی ہے اور اسے سلامتی کونسل کی دستاویز کے طور پر شائع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    ’حملے مکمل اور غیر مشروط طور پر بند ہونے تک ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل اور صدر کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ایران حملے مکمل اور غیر مشروط طور پر بند ہونے تک اپنا ’جائز دفاع‘ جاری رکھے گا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے ان حملوں کو ’ایران کے خلاف مسلح جارحیت‘ کی واضح مثال قرار دیا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی مسلح افواج اس مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمنانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام دفاعی صلاحیتوں اور سہولیات کو بروئے کار لائیں گی۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ’خطے میں دشمن قوتوں کے تمام ٹھکانوں، تنصیبات اور اثاثوں کو ایران کے اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے فریم ورک کے اندر جائز فوجی اہداف تصور کیا جائے گا۔‘

  7. حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں اور ہمارا ساتھ دیں: نیتن یاہو کی ایرانی عوام سے اپیل

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ انھیں ’ظلم اور ستم سے آزاد کروا سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان کے پاس ایرانی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا ایک بار ملنے والا موقع ہے۔‘

    انھوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں اور یہ کام مکمل کریں۔‘

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ آپ متحد ہوں اور تاریخی مشن کی تکمیل کے لیے ایک ہو جائیں۔‘

  8. قطر کی ایرانی میزائل حملوں کی مذمت

    تصدیق شدہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک میزائل رہائشی علاقے میں بے قابو ہو کر گرتا ہے، جس کے بعد لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہیں اور ایک بڑا دھماکہ و آگ کا گولہ نظر آتا ہے۔

    ویڈیو میں فلم بنانے والے شخص کی آواز آتی ہے جو کہتا ہے کہ ’سائیڈ پر ہو جاؤ، بھاگو!‘ اس کے بعد کیمرہ دکھاتا ہے کہ درجنوں افراد چیختے ہوئے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جب میزائل زمین کی طرف آتا ہے۔

    ویڈیو میں فلم بنانے والا شخص میزائل گرنے کے بعد کیمرہ مختصر طور پر اپنی طرف موڑتا ہے اور کہتا ہے کہ ’یہ بالکل میرے کمرے کے سامنے ہے‘۔ اس کے فوراً بعد وہ دعا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’اللہ ہمیں محفوظ رکھے‘۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے قطری علاقے کو نشانہ بنانا قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ ہے اور ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی ہے۔‘

  9. قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے: نیتن یاہو کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGPO

    اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے ہیں۔

    اپنی تقریر میں اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے آفس کمپاؤنڈ پر حملے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ ڈکٹیٹر (خامنہ ای) اب نہیں رہے۔‘

  10. ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر حملے میں 85 ہلاکتیں: اہلکار

    Iran, USA

    یہ خبر ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز ایجنسی‘ کے حوالے سے سامنے آئی ہے، جس کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے سکول پر فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 85 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ابتدائی طور پر حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 53 بتائی تھی، لیکن بعد میں میناب کے ایک پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سکول آج ’تین میزائل حملوں‘ کا نشانہ بنا۔

    بی بی سی نے وضاحت کی ہے کہ وہ اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا کیونکہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو اکثر ایران میں ویزے نہیں دیے جاتے، جس کی وجہ سے وہاں سے براہِ راست معلومات اکٹھی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

  11. ایران خاموش نہیں بیٹھا رہ سکتا، افسوس کہ امریکی اہداف دوستانہ ریاستوں میں ہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ ’برادر پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ واضح کیا جا سکے کہ ایران صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے۔‘

    امریکی ادارے این بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امریکہ ہمارے عوام پر حملہ کر رہا ہے اور ایسے ایران خاموش نہیں بیٹھے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ ’افسوسناک ہے کہ اہداف دوستانہ ریاستوں میں واقع ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ امریکی انتظامیہ کیوں ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر اصرار کرتی ہے اور پھر بات چیت کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیتی ہے۔‘ عباس عراقچی نے کہا کہ ’یہی بات گذشتہ جون میں بھی ہوئی تھی، جس کی عمان کے وزیرِ خارجہ نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا۔ شاید امریکی انتظامیہ کو اس میں گھسیٹا گیا ہو۔ لیکن ایک بات مجھے معلوم ہے: ایران اُن لوگوں کو سزا دے گا جو ہمارے بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ ہماری دشمنی امریکی عوام سے نہیں ہے، جنھیں ایک بار پھر جھوٹ بتایا جا رہا ہے۔‘

  12. سینیئر ایرانی سفارتکار ’اس پوزیشن میں نہیں‘ کہ اعلیٰ قیادت سے متلعق کچھ بتا سکیں

    Iran, Israel, USA

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بَقائی کا کہنا ہے کہ وہ ’اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تصدیق کر سکیں‘ کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی ایران کی اعلیٰ قیادت محفوظ ہے یا نہیں۔

    اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ’زندہ ہیں‘ جہاں تک اُنھیں علم ہے، لیکن شاید ایران کے ایک یا دو کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے بعد کہ خامنہ ای کے دفاتر اور رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی بی سی نیوز کی چیف انٹرنیشنل نمائندہ لیز ڈوسیٹ نے اسماعیل بقائی سے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے کو کہا۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ملک بھر میں کئی مقامات، کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 150 سے زیادہ لڑکیاں ہلاک اور زخمی ہوئیں۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (اِرنا) نے پہلے خبر دی تھی کہ ملک کے صوبہ ہُرمزگان میں ایک لڑکیوں کے سکول پر حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

    جب اُنھیں بتایا گیا کہ سمجھا جا رہا ہے کہ سکول پاسداران انقلاب کے ایک اڈے کے قریب تھا، تو اُنھوں نے جواب دیا کہ ’یہ محض ظلم اور سنگین جرم کو معمول کا مدعا بنانے کا ایک طریقہ ہے۔‘

    دیگر عرب ممالک پر بھی ایران کی جانب سے حملے کی اطلاعات ہیں۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ نے ان ممالک کو ایران کے خلاف جارحانہ حملے کرنے کے لیے استعمال کیا، اور مزید کہا کہ ’ہم اپنے دوستوں کی قدر کرتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ’ہم خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کر رہے، ہمیں اپنے عرب پڑوسیوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم صرف وہی کر رہے ہیں جو ایک دفاعی اقدام ہے، ان (امریکی) اڈوں پر۔‘

  13. اسرائیلی فوج کا اصفہان کے صنعتی زون سے عملے کو فوری انخلا کا حکم

    کچھ دیر پہلے اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایک ہنگامی الرٹ جاری کیا، جس میں ایران کے اصفہان خطے کے ایک صنعتی زون میں موجود ’تمام عملے‘ کو ’فوری طور پر انخلا‘ کی ہدایت دی گئی۔

    اس ہدایت کے مطابق چند منٹوں میں اسرائیلی فوج اس زون میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرے گی۔

    صوبے کے گاؤں ’مزرعہ‘ کے رہائشیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ صبح تک اپنے گھروں کے اندر رہیں اور حملے کے بعد صنعتی زون کے قریب جانے سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ اصفہان اہم جوہری اور فوجی صنعتی تنصیبات کا مرکز ہے۔

  14. آج 500 ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیلی دفاعی افواج

    ISNA/WANA/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہISNA/WANA/Reuters

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے آج ’اسرائیلی فضائیہ کی تاریخ کی سب سے طویل پرواز‘ مکمل کی ہے۔

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ان طیاروں نے ’ایرانی دہشت گرد حکومت کے مغربی اور وسطی ایران میں میزائل نظام اور دفاعی ڈھانچے پر وسیع پیمانے پر حملے مکمل کیے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ طیاروں نے ’سینکڑوں دھماکہ خیز مواد تقریباً 500 اہداف پر برسایا۔‘

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی نے ’ایرانی حکومت کی جارحانہ صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’اسرائیلی فضائیہ ایران میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  15. ایران پر حملوں میں اب تک 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی

    ایران میں ہلال احمر کے ترجمان مجتبیٰ خالدی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں آج امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 201 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ترجمان مجتبیٰ خالدی کے مطابق ان حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 747 ہے جبکہ ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  16. تہران ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی فارسی کو ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ آج شام مغربی تہران میں پھر دھماکے ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی بتایا ہے کہ اس کے صحافیوں نے ’دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔‘

    دوسری جانب ایران کا سرکاری میڈیا بھی بتا رہا ہے تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ کچھ دیر قبل اسرائیلی ایئر فورس نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’اس نے ایک اور فضائی حملہ کیا ہے اور وہ وسطی ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس اور دفاعی نظام پر حملہ کر رہا ہے۔‘

  17. دبئی میں طویل عرصے سے مقیم غیرملکی آج کے مناظر کو ناقابلِ یقین قرار دے رہے ہیں, برنڈ ڈبسمین جونیئر کا تجزیہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہم میں سے جو صدر ٹرمپ کے ساتھ اس ہفتے سفر کر رہے ہیں، اب تک یہ نہیں معلوم کر سکے کہ آج وہ کب یا آیا کچھ کہیں گے یا نہیں۔

    فی الحال ہمیں معلوم ہے کہ ٹرمپ مار-اے-لاگو میں اپنی رہائش گاہ پر ہیں، جہاں سے انھوں نے وزیرِاعظم نیتن یاہو سے بات کی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    جبکہ میں وائٹ ہاؤس سے تازہ معلومات لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرے فون پر مسلسل دبئی سے خبریں موصول ہو رہی تھیں، جہاں میں تقریباً چھ سال رہا اور کام کیا۔

    یہاں تک کہ دبئی میں طویل عرصے سے رہنے والے غیرملکی بھی آج کے مناظر کو مشکل سے تسلیم کر رہے ہیں: پرتعیش پام جمیرا آگ کی لپیٹ میں ہے اور اطلاعات ہیں کہ ڈرون حملے شیخ زید روڈ، جو شہر کی مرکزی شاہراہ ہے، کے قریب ہوئے ہیں۔

    ایک طرف، یہ وہ منظر ہے جسے اماراتی حکام بدترین صورتحال تصور کرتے ہیں۔ دبئی نے طویل عرصے سے خود کو ایک ایسے محفوظ جزیرے کے طور پر پیش کیا ہے جہاں لوگ اور ان کا سرمایہ خطے کی مشکلات سے دور رہ سکیں۔

    ابوظہبی کے مقابلے میں دبئی خود کو خلیج ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سیاحتی مقام اور ایک اہم سفری مرکز سمجھتا ہے۔

    دوسری طرف، امارت کو طویل عرصے سے معلوم تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ممکن ہے۔ یو اے ای کی افواج نے یمن میں براہِ راست ایرانی اتحادیوں سے لڑائی کی ہے، اور دبئی و ابوظہبی میں اکثر امریکی فوجی موجود رہتے ہیں۔ جبل علی کی بندرگاہ، جو دبئی کی مشہور مرینہ کے قریب ہے، خلیج میں امریکی بحری جہازوں کی ایک عام منزل ہے۔

    اسی پس منظر میں، یو اے ای کی چھوٹی مگر نہایت جدید فوج نے فضائی جہازوں اور فضائی دفاعی نظام میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جنھیں پہلے بھی الرٹ پر رکھا گیا تھا، جیسے کہ 2020 میں امریکی حملے کے بعد جب پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا تھا۔

  18. کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے ہوئے ہیں: مقامی میڈیا

    کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے یو این اے کے مطابق ملک کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ایوی ایشن نے اعلان کیا کہ ایک ڈرون نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ٹرمینل کو معمولی نقصان پہنچا۔

    محکمہ کے ترجمان عبداللہ راجی نے کے یو این اے کو بتایا کہ حکام نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات نافذ کیے، واقعے سے نمٹا اور جائے وقوعہ پر حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

    کے یو این اے کے مطابق ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ صورتحال قابو میں ہے اور مسافروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

    کویتی حکام نے حملے کا ذریعہ نہیں بتایا لیکن ایران نے آج کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں پورے خطے میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

  19. کئی ہفتوں تک دنیا کو اپنے ارادوں سے بے خبر رکھنے والے ٹرمپ نے اب اپنا ارادہ ظاہر کر دیا, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی

    جمعرات کے روز سفارت کاری کی کوشش اور ایران پر حملے سے عین پہلے عمان کے وزیر خارجہ کی طرف سے کوشش بھی اسرائیل اور امریکہ کے حملے کو نہیں روک سکی۔

    گذشتہ برس ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جوہری مذاکرات ختم ہو گئے تھے اور آج کے حملوں نے مذاکرات کا راستہ ہی ختم کر دیا۔

    عمان کے بدر البوسیدی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ اور براہ راست بات چیت کے مرکزی ثالث تھے، اس پیغام کے ساتھ واشنگٹن گئے کہ ’اہم پیش رفت‘ ہو رہی ہے لیکن انھیں ’تھوڑا اور وقت‘ درکار ہے۔

    لیکن صدر ٹرمپ کے لیے الٹی گنتی شروع ہو چکی تھی۔ گذشتہ رات انھوں نے واضح کیا کہ ’جس طرح سے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم اس بارے میں پر جوش محسوس نہیں کر رہے۔‘

    آج ایران کے سینیئر مذاکرات کار اور وزیر خارجہ نے این بی سی کو بتایا کہ ’اگر امریکی ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو انھیں معلوم ہے کہ ہم سے رابطہ کیسے کرنا ہو گا۔‘

    لیکن ٹرمپ نے کئی ہفتوں تک دنیا کو اپنے ارادوں سے بے خبر رکھا اور اب انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر اپنے ارادوں کو ظاہر کر دیا۔۔۔ اور آخری گیم جوہری مذاکرات نہیں بلکہ ایرانی رجیم کا خاتمہ ہے۔

    کم از کم اس وقت تو مذاکرات کا وقت ختم نظر آ رہا ہے۔

  20. آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا: تسنیم نیوز ایجنسی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب میں واقع سٹریٹجک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا۔

    تسنیم نے ’ذرائع‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی کہا ہے کہ انھیں متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے وارننگ دی گئی ہے۔

    یہ آبنائے دنیا کی سب سے اہم بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم مقام ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں ترسیل ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

Trending Now