ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ کے خلاف اقوامِ متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل دو، پیراگراف چار کی خلاف ورزی ہیں اور ایران اپنے دفاع کا حق آرٹیکل 51 کے تحت محفوظ رکھتا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ دشمن افواج کے تمام اڈے اور اثاثے ایران کے لیے جائز فوجی اہداف ہیں۔
ایران نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کریں اور اجتماعی کارروائی کریں۔
خط کی کاپی تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی بھیجی گئی ہے اور اسے سلامتی کونسل کی دستاویز کے طور پر شائع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
’حملے مکمل اور غیر مشروط طور پر بند ہونے تک ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل اور صدر کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ایران حملے مکمل اور غیر مشروط طور پر بند ہونے تک اپنا ’جائز دفاع‘ جاری رکھے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ان حملوں کو ’ایران کے خلاف مسلح جارحیت‘ کی واضح مثال قرار دیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی مسلح افواج اس مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمنانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام دفاعی صلاحیتوں اور سہولیات کو بروئے کار لائیں گی۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ’خطے میں دشمن قوتوں کے تمام ٹھکانوں، تنصیبات اور اثاثوں کو ایران کے اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے فریم ورک کے اندر جائز فوجی اہداف تصور کیا جائے گا۔‘