لائیو, ایران کے ساتھ معاہدہ ’بہت جلد‘ ہو سکتا ہے، تیل کے لیے خارگ پر قبضہ زیرِ غور: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کا ’تیل حاصل کر سکتے ہیں‘ اور ملک میں تیل کے بڑے پیداواری مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں۔ ایران جنگ شروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان جاری ہے۔

خلاصہ

  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
  • ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  • ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرے گا جس میں یونیورسٹیوں اور امریکی و اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • تہران کا کہنا ہے کہ وسطی شہر اسفہان کی ایک یونیورسٹی پر اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے۔
  • ایرانی حکومت کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں ایک صنعتی مقام پر ایرانی حملے سے لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک آئندہ چند دنوں میں امن مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکہ نے شرکت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

لائیو کوریج

  1. بیروت پر اسرائیل کی زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مزید فضائی حملے

    لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ بیروت میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    آج صبح لی گئی تصاویر میں لبنان کے دارالحکومت کے جنوبی مضافات میں دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ گروہ سے منسلک ’دہشت گردی کے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    لبنانی میڈیا نے بھی جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملوں کی ایک نئی لہر رپورٹ کی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا اثر پورے خطے پر پڑ رہا ہے اور لبنان میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

  2. اسحاق ڈار منگل کو چین کے دورے پر روانہ ہوں گے

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 31 مارچ کو چین کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق چینی دعوت پر اسحاق ڈار ’باہمی اور عالمی امور پر بات چیت کریں گے۔‘

  3. ایرانی پاسداران انقلاب کے بحری کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق

    علی رضا تنگسیری

    ،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری ہلاک ہو گئے ہیں۔ چار روز قبل اسرائیل نے انھیں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم پر شائع بیان کے مطابق تنگسیری ’فوج کی تنظیمِ نو اور جزائر و ساحلی علاقوں کے دفاعی حصار کو مضبوط بنانے کے عمل میں مصروف تھے‘ اور وہ ’زخموں کی تاب نہ لا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاسداران انقلاب نے اپنے کمانڈر کی گذشتہ دنوں عدم موجودگی کے باوجود ’دشمن پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز پر فیصلہ کن کنٹرول برقرار رکھا۔‘

    پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں یہ عہد بھی کیا کہ وہ ’اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کو مکمل طور پر تباہ نہ کر دیا جائے۔‘

    تنگسیری کا شمار ایرانی بحریہ کے سینیئر کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ وہ حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر کہا گیا تھا کہ ’ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات میں ملوث کسی بھی جہاز کو گزرنے کا حق حاصل نہیں۔‘

    وہ کھل کر بات کرنے والے کمانڈر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور ماضی میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متعدد سخت بیانات دے چکے تھے۔

    تنگسیری پر 2019 میں اس وقت امریکی محکمۂ خزانہ نے دیگر ایرانی کمانڈروں سمیت پابندیاں لگائی تھیں۔ اس وقت ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔

  4. خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں کے دوران حادثات میں 21 افراد ہلاک, عزیز اللہ خان اور محمد کاظم، بی بی سی اردو

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حکام کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران حادثات میں 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث 17 افراد ہلاک جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 11 گھر وں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، دیر اپر، باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق ضلع کوہاٹ میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچوں کی جانیں چلی گئیں۔

    مقامی صحافی فرحت اللہ نے بتایا کہ گذشتہ روز دوپہر کے وقت بنوں کے علاقے کوٹکہ غلام قادر میں شادی کی تقریب میں شریک افراد پر اچانک برآمدے کی چھت گرنے سے دو افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق بارش کے باعث لوگ برآمدے کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھے۔

    اسی طرح بنوں کے علاقے ممہ خیل میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے دو بچوں کی جان گئی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شمدی کلہ مندیو میں کمرے کی چھت گرنے سے ایک خاتون ہلاک ہوئیں۔

    بنوں کے علاقے منڈیان ریشمی کلے میں مکان کی چھت گرنے سے تین بچوں کی جان چلی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بارشوں اور حادثات سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ تمام متاثرہ افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

    ادھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ دو اضلاع میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق گھروں کو دو اضلاع کیچ اور قلعہ عبداللہ میں نقصان پہنچا ہے۔

    بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ گذشتہ بدھ کے روز شروع ہوا تھا، جو صوبے کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں تاحال جاری ہے۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان عطا اللہ مینگل نے بتایا کہ حالیہ بارشوں میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

  5. ٹرمپ کی ایرانی تیل حاصل کرنے کی کوشش سے خلیجی ممالک کیسے متاثر ہوں گے؟, کیٹی واٹسن، بی بی سی/دوحہ

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ٹرمپ کی ایران کا ’تیل حاصل کرنے‘ کی خواہش نے یقیناً خلیجی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہوگا کہ اس اقدام کے ممکنہ نتائج پر کیا ہوں گے۔

    اس وقت خطے میں جاری کارروائیاں ادلے کے بدلے جیسی ہیں۔ جیسے ہی ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے تو خلیجی ریاستوں کو بھی اپنے انفراسٹرکچر پر میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

    اس ماہ کے آغاز میں قطر میں راس لفان کے ایل این جی مرکز پر حملہ کیا گیا تھا جس سے قبل اسرائیل نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا تھا۔

    گذشتہ شب ایران کی ایک بجلی کی تنصیب پر حملہ ہوا اور اس کے فوراً بعد کویت نے ایک بجلی اور ڈیسیلی نیشن پلانٹ پر حملے کی اطلاع دی۔ اس واقعے میں ایک انڈین کارکن ہلاک ہوا اور تنصیب کو شدید نقصان پہنچا۔

    خلیجی ممالک کی قیادت نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

    خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ایک بہت بڑا خدشہ ہے کیونکہ خلیج کا بیشتر حصہ توانائی کے انفراسٹرکچر پر کسی بھی حملے کے اثرات کے لیے انتہائی حساس ہے۔

    خلیج بنیادی طور پر صحرائی اور خشک خطہ ہے جہاں قدرتی میٹھا پانی انتہائی کم ہے۔ اسی لیے یہاں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والی سینکڑوں ڈیسیلینیشن تنصیبات نہ صرف معیشت بلکہ عام زندگی کو بھی ممکن بناتی ہیں۔

    چونکہ خلیج کے 90 فیصد پینے کے پانی کا انحصار انھی ڈیسیلینیشن پلانٹس پر ہے اس لیے اگر یہ تنصیبات متاثر ہو جائیں تو خطہ سخت کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے انسانی و معاشی اثرات شدید ہو سکتے ہیں۔

  6. لبنان میں چھ اسرائیلی فوجی زخمی

    لبنان، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیش آنے والے دو الگ واقعات میں اس کے چھ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے مطابق دو فوجی شدید زخمی ہوئے جب گذشتہ روز جنوبی لبنان سے ان پر اینٹی ٹینک میزائل فائر کیا گیا۔

    فوج کا کہنا ہے کہ تین دیگر فوجی اس وقت زخمی ہوئے جب ایک ڈرون ان کے قریب آ کر گرا۔ مزید ایک فوجی ’آپریشنل حادثے‘ میں زخمی ہوا۔ تمام اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    لبنان میں اسرائیل کی نئی کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ نے ایران کے رہبر اعلیٰ کی ہلاکت اور گروہ پر ہونے والے تقریباً روزانہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق تب سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اپنی زمینی کارروائی کے حصے کے طور پر جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

  7. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، 4000 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج مندی کا نمایاں رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں 7050 پوائنٹس تک کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد انڈیکس 144,000 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا تھا۔ فی الحال یہ مندی چار ہزار پوائنٹس سے زیادہ ہے۔

    مارکیٹ شروع سے ہی دباؤ کا شکار رہی جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت میں اضافہ تھا۔

    مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ میں شدت اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ یہی رجحان آج جاپان اور انڈیا کی مارکیٹوں میں بھی دیکھا گیا۔

    تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے اب بحیرہ احمر سے تجارت بھی خطرات سے دوچار ہے جبکہ تیل کی مہنگائی نے عالمی منڈیوں پر شدید اثر ڈالا۔

    ان کے مطابق صبح پہلے جاپان اور پھر انڈیا کی سٹاک مارکیٹوں میں گراؤٹ ریکارڈ ہوئی اور یہی منفی رجحان پاکستان سٹاک ایکسچینج پر بھی اثر انداز ہوا جس کے باعث فروخت کا رجحان دن بھر غالب رہا۔

  8. ٹرمپ کی دی گئی مہلت کے باوجود ایران میں توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری

    تہران، ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناتوار کو تہران میں رہائشی عمارت پر حملے کے بعد کا منظر

    27 مارچ کو ایران سے بالواسطہ مذاکرات کے پیش نظر ٹرمپ نے 10 روز تک کی مہلت دی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ایران میں توانائی کی تنصیبات پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔

    مگر اس کے بعد بھی ایران میں توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری رہے ہیں۔

    گذشتہ شب ایران کی وزارتِ توانائی کا کہنا تھا کہ ملک کے ’بجلی کے انفراسٹرکچر‘ پر حملوں کے باعث تہران اور البرز صوبوں کے بعض حصوں میں بجلی معطل ہو گئی تھی تاہم بیشتر علاقوں میں یہ بحال ہو چکی ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا یہ حملے امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان سے جڑے ہیں جس میں انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے جنگ بندی کے لیے معاہدہ نہ کیا اور آبنائے ہرمز بحال نہ کی تو توانائی کی تنصیبات پر حملے کیے جائیں گے۔

    ایران کے نائب وزیرِ توانائی مصطفیٰ رجابی مشہدی نے گذشتہ رات سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ ’(تہران کے قریب) کراج شہر کے داخلی راستے پر واقع ایک بجلی کے ٹاور کو شریپنل لگا تھا۔‘

    28 مارچ کو ایک پیغام میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ’ایران کے دو بڑے سٹیل کے کارخانوں، ایک پاور پلانٹ اور سویلین جوہری تنصیبات سمیت متعدد شہری عمارتوں پر حملہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا تھا کہ یہ ’امریکی صدر کی سفارت کاری کے لیے دی گئی اضافی مہلت کے منافی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران اس کی ’بھاری قیمت‘ وصول کرے گا۔

  9. کویت میں انڈین شہری کی ہلاکت اور سعودی عرب کا میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    Iranian drone hit a fuel depot at Kuwait International Airport

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فیول ڈپو پر ایرانی ڈرون کے حملے کے بعد کا منظر
    • کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویت نیشنل گارڈ نے آج صبح بتایا ہے کہ اس نے پانچ ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ اس سے قبل کویت میں ایک ایرانی حملے میں انڈین شہری ہلاک ہوا ہے۔ کویت کی وزارتِ بجلی و پانی نے رات گئے جاری بیان میں کہا کہ یہ حملہ بجلی اور ڈی سیلی نیشن پلانٹ پر ہوا تھا۔
    • گذشتہ روز کویتی مسلح افواج نے بتایا تھا کہ ایران کے فوجی کیمپوں پر حملوں میں اس کے 10 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک نجی لاجسٹکس کمپنی کے گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔
    • ادھر ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کا بجلی کا نظام مستحکم ہے۔ توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد تہران اور البرز صوبوں کے بعض حصوں میں بجلی معطل ہو گئی تھی۔
    • اقوام متحدہ کی لبنان میں تعینات فورس (یونیفِل) کے ایک اہلکار کی اتوار کی شب ایک پروجیکٹائل حملے میں ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ انڈونیشیا نے تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک امن کار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اہلکار یونیفِل مشن کے ساتھ خدمات انجام دے رہے تھے۔ انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ گروہ اپنی تعیناتی کے مقام کے قریب بالواسطہ توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بنا۔
    • سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے کی جانب داغے گئے پانچ بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔
  10. خارگ پر امریکی قبضے کے باوجود ایران ٹینکروں کو نشانہ بنا سکتا ہے, نِک مارش، بزنس رپورٹر/سنگاپور

    خارگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایشیا کی منڈیوں میں منگل کی صبح کاروبار کے آغاز پر نمایاں مندی دیکھی گئی ہے کیونکہ تیل کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔ اسی طرح امریکہ نے جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے بعد وہاں کے تیل پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔

    ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ امریکہ یہ کام خلیج فارس میں واقع خارگ پر قبضے سے کر سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایران کی 90 فیصد تیل برآمدات لادی جاتی ہیں۔

    اگرچہ خارگ پر قبضہ ممکن ہو سکتا ہے لیکن یہ امریکہ کے لیے وینزویلا جیسی کارروائی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے بڑی تعداد میں افرادی قوت درکار ہوگی اور اس سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول بھی نہیں بدلے گا۔

    اگر خارگ جزیرہ امریکی کنٹرول میں بھی آ جائے تو وہاں سے روانہ ہونے والے تیل بردار جہاز اب بھی ایرانی حملوں کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔

  11. اسحاق ڈار ٹھیک ہیں، کندھے میں ہیئر لائن فریکچر ہے: بیٹا

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو اتوار کے روز سفارتی مصروفیات کے دوران گِرنے سے چوٹ آئی تھی۔

    فیس بک پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسحاق ڈار صاحب نے آج مصر کے وزیرِ خارجہ کے استقبال کے دوران چوٹ لگنے کے باوجود پورا دن پین کلرز لے کر انتہائی اہمیت کی حامل تمام میٹنگز الحمدللہ احسن طریقے سے مکمل کیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’تقریباً 9 بجے آفیشل سٹیٹمنٹ کی ریکارڈنگ اور پاکستان کے لیے ایک بڑے دن کے بہترین اختتام کے بعد فیملی کے اصرار پر ان کا طبی معائنہ کروایا گیا۔ ان کے ایکسرے مجموعی طور پر ٹھیک ہیں۔

    ’کندھے میں ایک ہیئر لائن فریکچر ہے۔ اگلے چند روز ان کی درد کو دوائیوں اور دیگر احتیاطی اقدامات کے ذریعے مینج کیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں کمی کی کوششوں کے سلسلے میں ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے اسلام آباد میں ملاقاتیں کی تھیں۔

  12. ٹرمپ نے معاہدے کے امکان پر زور دیا جبکہ فوج زمینی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے, ٹام بیٹمین، نامہ نگار برائے امریکی محکمۂ خارجہ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران مطالبات ماننے کے قریب ہے۔ مگر امریکی حکام کی جانب سے متعدد بریفنگز بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مبینہ طور پر زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    خطے میں اس وقت ہزاروں امریکی میرینز موجود ہیں، جبکہ خصوصی دستے اور پیرا ٹروپرز بھی پہنچ رہے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ یہ تاثر دے رہی ہے کہ صدر جزیرہ خارگ پر زمینی کارروائی یا یورینیئم ضبط کرنے کے آپریشنز پر غور کر رہے ہیں۔

    گذشتہ رات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران یہ مواد حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کے پاس ’ملک ہی نہیں بچے گا۔‘

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی بات کو زمینی حملے کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ایران سرینڈر قبول نہیں کرے گا اور اس کے جوان امریکی فوجیوں کے ’انتظار میں ہیں۔‘

  13. ایران نے احتراماً 20 تیل بردار جہاز گزرنے کی اجازت دی: ٹرمپ

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ بالواسطہ اور براہ راست بات چیت کر رہا ہے۔

    ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اشارہ کیا کہ بذریعہ پاکستان ایران کو پیغامات بھیجے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایران نے 10 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی اور اس بار اس نے 20 بڑے تیل بردار جہاز ’بطور تحفہ‘ اور ’احتراماً‘ گزرنے کی اجازت دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم مذاکرات میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن آپ ایران پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ ہم ان سے بات چیت کرتے ہیں مگر ساتھ انھیں نشانہ بھی بنانا پڑتا ہے، چاہے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ہو یا جوہری معاہدے کا خاتمہ۔‘

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت چلنے والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    اسحاق ڈار کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور قابل ستائش قدم ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے۔ یہ امن کی علامت ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مدد دے گا۔‘

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ، دونوں نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات میں سہولت کاری پر ’اعتماد کا اظہار‘ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ’بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت فراہم کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔‘

    تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایران یا امریکہ میں سے کسی نے بھی یہ تصدیق کی ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

  14. ٹرمپ کا ایران سے یورینیئم نکالنے کے آپریشن پر غور: رپورٹ

    والسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ایران سے ایک ہزار پاؤنڈ وزنی یورینیئم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

    اس رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس آپریشن میں امریکی فوج ’کئی دنوں یا طویل عرصے تک‘ ایران میں رہ سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے تاحال اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا مگر وہ ’اس پر غور کر رہے ہیں کیونکہ اس سے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کا مرکزی ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘

    موقف جاننے کے لیے بی بی سی نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

    نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خطے میں تعینات فوجی دستوں کو اصفہان میں جوہری تنصیبات پر موجود افزودہ یورینیئم حاصل کرنے کے مشن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ’لیکن انھیں جزیرہ خارگ یا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اس ماہ کے اوائل میں رپورٹ کیا تھا کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اصفہان کے پہاڑ کے اندر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے مواد رکھا گیا ہے جسے ضبط کر کے تباہ کرنے کے امریکی آپریشن پر ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔

    دونوں اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ ایسا کوئی بھی آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور ہوگا۔

  15. پاکستان میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ سے متعلق نوٹیفیکیشن جعلی قرار

    پاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے ایک نوٹیفیکیشن گردش کر رہا ہے جس میں ملک بھر میں سنیچر اور اتوار کے دنوں مکمل لاک ڈاؤن کا ذکر ہے۔ تاہم وزارت اطلاعات کے مطابق یہ نوٹیفیکیشن جعلی ہے۔

    یہ نوٹیفیکیشن سنیچر کے روز کئی صحافیوں کی طرف سے بھی شیئر کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سنیچر سے لے کر اتوار تک لاک ڈاؤن نافذ ہوگا جس دوران تمام مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو گی۔ جبکہ شادی کی تقریبات پر بھی پابندی ہوگی اور موٹروے بھی بند رکھی جائے گی۔

    مگر ایکس پر ایک بیان میں وزارت اطلاعات نے نوٹیفیکیشن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ جعلی ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ ’آپ کی ایک شیئر معاشرے میں غلط فہمی پھیلا سکتی ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران وفاقی حکومت توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔

  16. تہران میں اسرائیلی بمباری کی اطلاعات

    ہمیں ابھی یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر نئے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آئی ڈی ایف اس وقت تہران بھر میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘

  17. آسٹریلیا میں ایندھن پر عائد ٹیکس نصف کر دیا گیا

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ عوام کے گھریلو اخراجات کم رکھنے کے لیے جون کے آخر تک ایندھن پر لگنے والا ٹیکس (فیول ایکسائز) نصف کر دیا جائے گا۔

    آسٹریلوی حکومت یہ ایکسائز پیٹرول پمپ پر ایندھن کی فروخت پر عائد کرتی ہے۔ اسے پیٹرول کے لیے 26.3 سینٹ فی لیٹر کم کیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم تین ماہ کے لیے فیول ٹیکس آدھا کر رہے ہیں تاکہ آپ کو فیول ٹینک بھرتے وقت کم پیسے خرچ کرنے پڑیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بیرونِ ملک جاری تنازعے نے ملک میں قیمتوں کو بڑھا دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آسٹریلوی عوام دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔‘

    آسٹریلیا کی دو ریاستیں وِکٹوریا اور تسمانیہ عارضی طور پر عوام کو سفر سے باز رکھنے اور ڈرائیونگ میں کمی لانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر رہی ہیں تاکہ شہریوں کو بلند ایندھن قیمتوں کا بوجھ کم محسوس ہو۔

  18. ایشیائی منڈیوں میں مندی میں رجحان

    ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں پیر کی صبح کاروبار کے آغاز پر نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ ایک ماہ میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ اضافے کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

    جاپان کے نکیئی 225 انڈیکس میں 4.5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جنوبی کوریا کی کوسپی مارکیٹ بھی 4.3 فیصد گر گئی۔ دونوں ملکوں کی معیشتیں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی توانائی پر بھاری انحصار رکھتی ہیں اسی لیے تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ان کی سٹاک مارکیٹوں پر فوری اثر ڈالا ہے۔

    آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 200 انڈیکس بھی 1.4 فیصد نیچے آیا۔

    تیل کی قیمتیں اس وقت سے مسلسل بڑھ رہی ہیں جب ایران کی جنگ ہفتے کے آخر میں شدت اختیار کر گئی اور یمن کے ایران نواز حوثی عسکریت پسند بھی لڑائی میں شامل ہو گئے۔ جبکہ مزید امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچے ہیں۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت ایشیا میں ابتدائی کاروبار کے دوران تین فیصد اضافے کے ساتھ 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    امریکہ میں فروخت ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 102.50 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

  19. نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو لبنان میں ’سکیورٹی زون‘ وسیع کرنے کا حکم

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے جنوبی لبنان میں موجود اُس ’سیکورٹی زون‘ کو مزید وسعت دینے کا حکم دیا ہے جسے وہ ’موجودہ حفاظتی علاقہ‘ قرار دیتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے دراندازی کے خطرے کو مکمل طور پر روکنا اور اینٹی ٹینک میزائلوں کی فائرنگ کو سرحد سے دور دھکیلنا ہے۔

    انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ توسیع اسی زون کے اندر ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ اب یہ دریائے لیطانی تک پھیلا دیا جائے گا اور اس وقت تک کسی لبنانی شہری کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل کو لاحق خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہو جاتا۔

    کاٹز کا بیان لبنان میں اسرائیلی حکومت کے عزائم کے بارے میں اب تک کا سب سے سخت موقف سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ایسا قدم ہے جس سے ملک کا تقریباً دسواں حصہ اسرائیلی کنٹرول میں آ جاتا ہے۔

    اس زون کی حد بندی اور اسے ’بفر‘ علاقہ قرار دینا اُن دنوں کی یاد دلاتا ہے جب 1985 سے 2000 تک اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے پر قبضہ کیے رکھا تھا۔

    اس علاقے میں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں گروہ کے کئی ارکان مارے گئے ہیں جبکہ ایک اور اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ لبنان میں اسرائیل کی تازہ پیش قدمی کے بعد ہلاک ہونے والا پانچواں اسرائیلی فوجی ہے۔

  20. ایران میں نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے خیال میں ایران میں نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے۔

    یہ وہی مؤقف ہے جو انھوں نے گذشتہ ہفتے فاکس نیوز کو دیے انٹرویو میں بھی دہرایا تھا جہاں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس رجیم چینج ہے کیونکہ وہ مارے جا چکے ہیں۔‘

    طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر آپ دیکھیں تو رجیم چینج پہلے ہی ہو چکی ہے کیونکہ پہلی حکومت مکمل طور پر ختم کر دی گئی، تباہ کر دی گئی، وہ سب مر چکے ہیں۔

    ’دوسری حکومت زیادہ تر ختم ہو چکی ہے اور تیسری حکومت میں ہم جن لوگوں سے نمٹ رہے ہیں وہ پہلے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک بالکل نیا گروہ ہے اس لیے میں اسے رجیم چینج سمجھوں گا۔ اور صاف بات یہ ہے کہ وہ کافی معقول رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تو میرے خیال میں ہمارے پاس رجیم چینج ہے، اس سے بہتر آپ اور کیا کر سکتے ہیں؟‘

    ٹرمپ کے مطابق ’وہ حکومت جو واقعی بُری تھی، بہت بُری۔۔۔ سب ختم ہو چکے ہیں، مر چکے ہیں، سوائے ایک کے جس میں شاید کچھ جان باقی ہو۔‘

    وہ ایک ماہ طویل جنگ کے دوران ایرانی قیادت کے ہلاک ہونے والے ارکان کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ایران غالباً امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نہ ہو۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ ایران کے بارے میں کبھی نہیں جانتے کیونکہ ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں اور پھر ہمیں انھیں اڑا دینا پڑتا ہے۔‘

Trending Now