خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حکام کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران حادثات میں 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث 17 افراد ہلاک جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 11 گھر وں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، دیر اپر، باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان میں پیش آئے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق ضلع کوہاٹ میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچوں کی جانیں چلی گئیں۔
مقامی صحافی فرحت اللہ نے بتایا کہ گذشتہ روز دوپہر کے وقت بنوں کے علاقے کوٹکہ غلام قادر میں شادی کی تقریب میں شریک افراد پر اچانک برآمدے کی چھت گرنے سے دو افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق بارش کے باعث لوگ برآمدے کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھے۔
اسی طرح بنوں کے علاقے ممہ خیل میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے دو بچوں کی جان گئی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شمدی کلہ مندیو میں کمرے کی چھت گرنے سے ایک خاتون ہلاک ہوئیں۔
بنوں کے علاقے منڈیان ریشمی کلے میں مکان کی چھت گرنے سے تین بچوں کی جان چلی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بارشوں اور حادثات سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ تمام متاثرہ افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
ادھر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ دو اضلاع میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق گھروں کو دو اضلاع کیچ اور قلعہ عبداللہ میں نقصان پہنچا ہے۔
بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ گذشتہ بدھ کے روز شروع ہوا تھا، جو صوبے کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں تاحال جاری ہے۔
ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے بلوچستان عطا اللہ مینگل نے بتایا کہ حالیہ بارشوں میں اب تک چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔