لائیو, ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔

خلاصہ

  • ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ'مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے'
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
  • صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا'
  • صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
  • اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. ملاقاتوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو حتمی نہ سمجھا جائے: وائٹ ہاؤس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوموار کے روز وائٹ ہاؤس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے متعلق ممکنہ مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو کم کرنے کی کوشش کی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ دونوں فریق کسی معاہدے کی جانب ’اہم‘ پیش رفت کے قریب ہیں۔

    جنگ سے متعلق بیانات کے درمیان گزرنے والے ایک مصروف دن کے میں ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق تبصروں کے بعد ایسی خبریں سامنے آئیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت میں انتظامیہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

    تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صورتحال ’تیزی سے بدل رہی ہے‘ اور اس نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان کسی باضابطہ ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بی بی سی کو ایک بیان میں بتایا کہ ’یہ حساس سفارتی مذاکرات ہیں اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

    لیویٹ نے کہا کہ ’یہ ایک بدلتی ہوئی صورتحال ہے اور ملاقاتوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہ کیا جائے۔‘

  2. کولمبیا میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، کم از کم 66 افراد ہلاک

    Daniel Ortiz / AFP via Getty Image

    ،تصویر کا ذریعہDaniel Ortiz / AFP via Getty Image

    کولمبیا کی فضائیہ کا ایک طیارہ ملک کے جنوب میں پرواز کے چند لمحے بعد گر کر تباہ ہوگیا۔ حکام کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم 66 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    فضائیہ کے کمانڈر کارلوس فرنینڈو سلوا روئدا کے مطابق طیارے میں 114 فوجی اہلکار سوار تھے اور عملے کے 11 ارکان بھی موجود تھے۔

    یہ طیارہ ایک امریکی ساختہ C-130 ہرکیولس، جو فوجی اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے پوتومایو صوبے کے قصبے پورٹو لیگویزامو کے نزدیک گر گیا۔

    ہنگامی کارکنان کو جائے حادثہ پر بھیجا گیا جہاں انھیں ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ حادثے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

    کولمبیہ کے وزیر دفاع پیڈرو سانچیز نے کہا کہ لاک ہیڈ مارٹن کی تیار کردہ ہرکیولس C-130 ٹرانسپورٹ طیارہ ’پورٹو لیگویزامو سے پرواز کے دوران، ہماری سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو لے جاتے ہوئے ایک المناک حادثے کا شکار ہوا۔‘

    انھوں نے اس واقعے کو جو پیرو کی سرحد کے نزدیک پیش آیا، ’ملک کے لیے انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا۔

    ایک فوجی ذرائع نےخبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 58 فوجی، چھ فضائیہ اہلکار اور دو پولیس افسر ہلاک ہوئے۔

    دو فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بھی بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد 66 ہے۔

    یہ واقعہ کولمبیہ کی فضائیہ کے حالیہ تاریخ میں سب سے مہلک حادثات میں سے ایک ہے۔

  3. جاپان کا قومی تیل کے ذخائر استعمال کرنے کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان کی وزیراعظم سناے تاکائیچی نے کہا ہے کہ جاپان بڑھتی ہوئی سپلائی کے خدشات کے پیشِ نظر جمعرات سے اپنے قومی تیل کے ذخائر کا کچھ حصہ جاری کرنا شروع کرے گا۔

    تاکائیچی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم اس ہفتے 26 تاریخ سے قومی ذخائر جاری کرنا شروع کریں گے۔‘

    پوسٹ میں کہا گیا کہ جاپان پہلے ہی گزشتہ ہفتے نجی ذخائر استعمال کر چکا ہے تاکہ ’پورے جاپان کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور مطلوبہ مقدار کو سسٹم میں یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ جاپان کے استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔

  4. امریکہ اور ایران کے ممکنہ مذاکرات پر مختلف بیانات

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور امریکہ نے اس بات پر متضاد بیانات دیے ہیں کہ آیا دونوں ممالک جنگ کے حوالے سے ممکنہ مذاکرات کے لیے رابطے میں ہیں یا نہیں۔

    سنیچر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کو ’بغیر کسی خطرے کے‘ کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت ہے، ورنہ امریکہ بجلی گھروں کو ’نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا۔‘

    تاہم پیر کے روز ٹرمپ نے اس مہلت کو پانچ دن کے لیے بڑھا دیا اور کہا کہ ایران کے پاس ’ایک اور موقع‘ ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں ’مکمل اور حتمی طور پر جنگ کے خاتمے‘ پر بات چیت ہو چکی ہے۔

    لیکن ایران کے سپیکرِ پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘ انھوں نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’جعلی خبریں‘ مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو ’متاثر کرنے‘ کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

    تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

    سی بی ایس نے وضاحت کی کہ یہ قدم ’ممکنہ طور پر مذاکرات کے پیش خیمے کے طور پر اٹھایا گیا ہے،‘ اور یہ کہ مذاکرات کی نہ تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی وہ جاری ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال ’تیزی سے بدل رہی ہے‘ اور ’اجلاسات سے متعلق قیاس آرائیوں کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہ کر دیا جائے۔‘

  5. میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے: کویت فوج کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس وقت ان حملوں کا ’مقابلہ کر رہا ہے‘ جنھیں اُن کی جانب سے ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملے‘ قرار دیا ہے۔

    کویتی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب ہونے والا تیسرا حملہ ہے اور اس سے متعلق جاری کیا جانے والا یہ تیسرا اسی نوعیت کا بیان ہے۔

    فوج کے مطابق ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو روکنے کا نتیجہ ہیں،‘ کویتی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ’متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔‘

  6. ایران میں امریکی کارروائیاں ’بے ترتیب‘ ہیں: جان بولٹن

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے ایران پر امریکی حملوں کو ’بے ترتیب اور بغیر سوچے سمجھے کیا گیا عمل‘ قرار دیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران ایک سال سے کچھ زیادہ مدت تک قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے جان بولٹن طویل عرصے تک تہران کی مذہبی حکومت کی تبدیلی کے حامی رہے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ جس بے ربط انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے زیادہ بہتر یہ تھا کہ یہ کام درست طریقے سے اور تحمل سے انجام دیا جاتا۔‘

    جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ’امریکی عوام تیار نہیں تھی، کانگریس تیار نہیں تھی، یہاں تک کہ ہمارے اتحادی بھی تیار نہیں تھے۔‘

    سابق مشیر قومی سلامتی کے مطابق ایران کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے کتنی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اس اہم تجاری آبی گزر گاہ سے دنیا بھر میں موجود تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی حکومت اقتدار میں رہتی ہے تو اس کے پاس واضح ثبوت موجود ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ یہ کوئی جوہری ہتھیار تو نہیں لیکن اس کے ذریعے وہ خلیج سے نکلنے والے تیل پر آئندہ کے لیے اپنی مرضی مسلط کر سکتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ سنہ 2019 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد سے جان بولٹن ٹرمپ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اپنی خود نوشت میں وہ اپنے سابق باس کو ’حیران کن حد تک لا علم‘ اور عہدے کے لیے نا اہل قرار دے چکے ہیں۔

  7. ایران میں دو گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے: پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاسدارنِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے وسطی اصفہان میں ایک ہی سڑک پر واقع گیس کی ایک انتظامی عمارت اور گیس پریشر کم کرنے والے سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اس حملے سے ان تنصیبات کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’رپورٹس سامنے آئیں کہ مغربی ایران میں واقع خرمشہر پاور پلانٹ کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘

    تاہم فارس نیوز کے مطابق خرمشہر کے گورنر کا کہنا ہے کہ ایک میزائل گیس پائپ لائن سٹیشن کے باہر ایک علاقے میں گرا مگر اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  8. یورپی یونین کی سربراہ کا مشرقِ وسطیٰ میں جھڑپوں پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یورپی یونین کی سربراہ ارسولا وان درلائن نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی مدد سے امن لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انھیں خلیج میں جاری جنگ پر ’گہری تشویش‘ ہے۔

    کینبرا میں وزیرِاعظم انتھونی البانیز کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے وان درلائن نے کہا کہ ’یہ نہایت اہم ہے کہ ہم ایک ایسا حل نکالیں جو مذاکرات کے ذریعے ہو اور اس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو۔‘

    وان درلائن نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے کچھ ممالک جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے ایک ’مشن‘ میں مدد دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سب گیس اور تیل کی قیمتوں، اپنی کاروباری سرگرمیوں اور معاشروں پر اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں،‘ اور یہ بھی کہ یہ اہم آبی تجارتی گزرگاہ ’دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔‘

  9. ایران کو امریکی ثالثوں سے نکات موصول ہونے کی اطلاعات: سی بی ایس نیوز کا دعویٰ

    امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی متضاد خبروں کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا: ’ہمیں ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

    سی بی ایس کی وضاحت کے مطابق یہ قدم ’مذاکرات سے پہلے کا ایک ممکنہ عمل‘ ہے اور نہ تو مذاکرات کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی وہ جاری ہیں۔

    یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت کی ہے، تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اس کی تردید کرتے ہیں۔

    ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے مراکز پر بمباری کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر حملے مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ روکنے کے لیے امریکہ ایک معاہدے تک پہنچ سکتا ہے۔

  10. سلووینیا: ایران جنگ کے باعث ایندھن کا کوٹہ مقرر کرنے والا پہلا یورپی یونین کا رکن ملک

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سلووینیا یورپی یونین کا پہلا رکن ملک بن گیا ہے جس نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایندھن کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ خلیجی ممالک عالمی توانائی کی منڈیوں میں سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خوا اضافہ ہوا ہے۔

    اس کے نتیجے میں سلووینیا میں نام نہاد ’ایندھن کی سیاحت‘ شروع ہو گئی تھی۔ کئی ہمسایہ ممالک خصوصاً آسٹریا کے ڈرائیورز سلووینیا میں فیول کی کم قیمتوں کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔

    حکومت کی جانب سے لاگو کیے گئے نئے اقدامات کے تحت اب سلووینیا میں نجی گاڑی چلانے والوں کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 50 لیٹر ایندھن خریدنے کی اجازت ہوگی جبکہ مختلف کاروبار اور کسان 200 لیٹر تک ایندھن خرید سکیں گے۔

  11. جنگ کا بڑھتا دائرہ کار اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور کا تجزیہ

    NurPhoto via Getty Images/Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images/Getty Images

    امریکہ سے آنے والی ایک خبر کے مطابق اتوار کی رات مذاکرات ہوئے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔

    ایک اور خبر یہ ہے کہ ان مذاکرات میں مصر، ترکی اور پاکستان بطور ثالث شامل تھے۔ میرے خیال میں یہ بہت مستند رپورٹ ہے۔

    گذشتہ ہفتے ریاض میں جمع ہونے والے عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس جنگ کے دوران ایرانی اقدامات کی مذمت کی۔ تاہم اس اجلاس میں اسرائیل کے اقدامات خاص طور پر جنوبی پارس گیس کی تنصیب پر حملے کی بھی مذمت کی گئی۔

    اس جنگ کے بڑھتے دائرہ کار اور فوجی اڈوں سے ہٹ کر اب اقتصادی اہداف پر حملے نے حقیقتاً اس خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    خیال رہے کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہوئی ہے تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے ان ’جعلی خبروں‘ کو تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

  12. ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ’جنگ کے اہداف حاصل‘ کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن کی ’زبردست کامیابیوں سے فائدہ اٹھا کر‘ ایران کے ساتھ معاہدہ کے ژرےعی ’جنگ کے اہداف کو حاصل‘ کیا جا سکتا ہے۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی آج ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی تھی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ’ہمارے اہم مفادات کا تحفظ کرے گا۔‘

    نیتن یاہو کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوج ایران اور لبنان دونوں میں مسلسل حملے کر رہی ہے، تہران کے جوہری پروگرام کو ’تباہ‘ کر رہی ہے اور حزب اللہ کو ’بھاری نقصان‘ پہنچا رہی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ صرف چند دن روز قبل ہم نے دو اور جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کیا ہے اور مزید ایسی کارروائیاں ہونا باقی ہے۔ ’ہم کسی بھی صورت اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔‘

  13. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سوموار کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
    • لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک لبنان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1039 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران مزید 90 افراد زخمی ہوئے ہیں جس کے بعد کل زخمیوں کی تعداد 2,876 ہو گئی ہے۔
    • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران پر حملوں کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے مرکزی سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر فوجیوں کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے اور حالات کا جائزہ لینے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ’یہاں سے بسیج بٹالینز کو بھی ہدایات دی جاتی تھیں۔‘
    • برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے سوموار کے روز اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے جمعہ کے روز بحر ہند میں برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر دو میزائل داغے تھے۔
    • ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں مختلف مقامات اور تین امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں، پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرونز کی مدد سے اسرائیل کے ’شمالی، وسطی اور جنوبی‘ علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Trending Now