یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
23 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
23 جنوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق مطالبات پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک ایک ’خودمختار ریاست ہے اور ہم اس پر بات چیت نہیں کر سکتے۔‘
لیکن انھوں نے مزید کہا کہ وہ (اپنے حصے کا) کام کرنے کے لیے تیار ہیں، ’جیسا کہ ہم ہمیشہ سکیورٹی کے حوالے سے کرتے آئے ہیں۔‘
فریڈرکسن نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے نیٹو سے آرکٹک خطے میں زیادہ موجودگی کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق ’ہمیں آرکٹک خطے میں، بشمول گرین لینڈ کے ارد گرد، نیٹو کی مستقل موجودگی کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ احترام کے ساتھ کام کرنا ہوگا، بغیر اس کے کہ ایک دوسرے کا احترام نہ کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے لیے امریکی صدر کو سکیورٹی ضمانتوں پر آمادہ کرنا ایک اہم کامیابی ہے، لیکن اب توجہ امریکہ اور روس کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات پر ہوگی جو متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ہیں۔
ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ وہ ماسکو سے ابو ظہبی جائیں گے اور زیلینسکی پہلے ہی اپنی ٹیم کا اعلان کر چکے ہیں جس میں ان کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
سٹیو وٹکوف پرامید ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑا اختلافی مسئلہ ’حل طلب‘ ہے۔۔۔۔ اور زیلینسکی نے تصدیق کی ہے کہ یہ سب مشرقی یوکرین کی زمین کے بارے میں ہے۔
کیا پوتن امریکی منصوبے پر رضامند ہوں گے جس کے تحت ڈونباس کو غیر فوجی اور آزاد تجارتی زون بنایا جائے، یا وہ روسی کنٹرول کا مطالبہ جاری رکھیں گے؟
سفارت کاری کی رفتار واضح طور پر تیز ہو گئی ہے، لیکن امریکی سکیورٹی ضمانتیں جلد دستخط نہیں ہوں گی۔ زیلینسکی کا کہنا ہے کہ انھیں پہلے امریکی کانگریس اور یوکرینی پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہوگا۔
اور ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ان میں کیا شامل ہوگا — کئیو چاہتا تھا کہ امریکہ 50 سال تک فولادی عزم کے ساتھ یوکرین کی مدد کرے اگر اس پر حملہ ہو۔ یہ ہمیشہ ایک پرامید خواہش رہی ہے۔
لیکن زیلینسکی کا یقین ہے کہ ٹرمپ کے بیک سٹاپ‘ کے بغیر، برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم اتحادی اتحاد کافی نہیں ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل یعنی جمعے کے روز متحدہ عرب امارات میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سب کو تیار ہونا ہوگا، صرف یوکرین نہیں۔ یہ کسی بھی قسم کے مکالمے نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘
زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو اپنی ملاقات کو ’انتہائی اہم‘ اور مثبت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے امریکہ کا ’بہت مضبوط‘ کردار ضروری ہے، جبکہ یورپ بھی اثرانداز ہو سکتا ہے مگر اسے وقت درکار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات ’تقریباً تیار‘ ہیں۔‘
زیلنسکی نے کہا کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا ایک ’انتہائی مہنگا کام‘ ہے۔ انھوں نے عالمی کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ یوکرین میں سرمایہ کاری کریں اور اس یقین کے ساتھ آئیں کہ امن قائم ہوگا۔
زیلنسکی نے کہا کہ ’نوکریاں، سرمایہ، سرمایہ کاری – یہ سب یوکرین کو پیش کریں۔‘
یورپ اور امریکہ پر تنقید
زیلنسکی نے یورپ اور امریکہ کو روس کو میزائل پرزہ جات فروخت کرنے سے نہ روکنے پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’یورپ خاموش ہے، امریکہ تقریباً خاموش ہے، اور پوتن میزائل بنا رہا ہے۔‘
زیلنسکی کے مطابق یورپ ایک ’خوبصورت مگر منتشر کالیڈوسکوپ‘ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی طاقتوں میں بٹا ہوا ہے۔
یورپ کو اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی
زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو اپنی حفاظت کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کئی ممالک نے دفاعی وعدے اس وقت پورے کیے جب ٹرمپ نے دباؤ ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ پیغام پوتن اور چین کو کیا دیتا ہے؟‘ اور مزید کہا کہ صرف چند فوجی بھیجنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی‘
یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی تیل کی آمدنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو، تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی۔‘ انھوں نے تجویز دی کہ یورپ کو اپنی مسلح افواج قائم کرنی چاہئیں کیونکہ نیٹو صرف اس یقین پر قائم ہے کہ امریکہ مدد کرے گا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’لیکن اگر امریکہ (مدد) نہ کرے تو کیا ہوگا؟‘

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ڈیووس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ روسی جارحیت کے خلاف ٹریبونل کے قیام پر ’کئی ملاقاتوں‘ کے باوجود ’کوئی حقیقی پیش رفت‘ نہیں ہو سکی ہے۔
انھوں نے یورپ کا شکریہ ادا کیا کہ روسی اثاثے منجمد کیے گئے، لیکن کہا کہ جب ان اثاثوں کو یوکرین کے دفاع کے لیے استعمال کرنے کا وقت آیا تو فیصلے پر عملدرآمد ’روک دیا گیا‘۔
زیلنسکی نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ معاملہ ’وقت کا ہے یا سیاسی عزم کا‘۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے سکیورٹی گارنٹی پر کام کرنے والے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور بعد میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں کا افواج کے حوالے سے ان کے وعدوں پر شکریہ ادا کیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ ’ہر کوئی بہت مثبت ہے، لیکن۔ ہمیشہ لیکن۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن صدر ٹرمپ کی بیک سٹاپ یعنی ضمانت کی ضرورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک فوری اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی یوکرین کے صدر کے ساتھ ملاقات ’تقریباً ایک گھنٹہ‘ جاری رہی ہے۔
ڈیووس میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ملاقات میں کیا بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا کیا ہوتا ہے‘، اور مزید کہا کہ امریکہ کل روس سے ملاقات کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہر کوئی چاہتا ہے کہ جنگ ختم ہو۔‘
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے لیے جانے والی انڈین فوج کی گاڑی کو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں 10 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منہوج سنہا نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اموات پر افسوس کا اظہار اور اسے قومی نقصان قرار دیا ہے۔
انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن کے لیے جارہی فوج کی ایک گاڑی خراب موسم کے دوران نہایت دشوار گزار پہاڑی راستے سے گزر رہی تھی، جب وہ سڑک سے پھسل کر کھائی میں جا گری۔ زخمیوں کو ہیلی کاپتر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
فوج کے مطابق یہ حادثہ کشمیر اور انڈیا کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کی سرحد پر ہوا۔ بلند پہاڑیوں پر انڈین فوجی ٹھکانوں تک رسائی کے لیے اسی شاہراہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈوڈہ کے پڑوسی ضلع کشتواڑ میں گذشتہ کئی روز سے مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے۔ چند روز قبل عسکریت پسندوں نے محاصرہ کرنے والی فوجی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
فوج کا کہنا ہے کہ حملہ آور گھنے جنگلات اور پہاڑی درّوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تاہم ان کی تلاش کے لئے وسیع آپریشن شروع کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی اس بورڈ کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی غزہ ’بورڈ آف پیس‘ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے بورڈ کے باضابطہ اجرا کے بعد رُکن ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے اس معاہدے پر فرداً فرداً دستخط کیے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی معاہدے پر دستخط کیے اور اس دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تقریب میں موجود تھے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بورڈ میں دُنیا کے مختلف ممالک کے کئی ذہین رہنما شریک ہیں اور وہ اُمید کرتے ہیں کہ وہ مل کر غزہ میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ہر ملک کے شکر گزار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کے چیئرمین کے طور پر کام کرنا اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اور یہ قیام امن کی کوششوں کے لیے بننے والا تاریخ کا سب سے شاندار بورڈ ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ گذشتہ برس کے اختتام پر سلامتی کونسل کی منظور قرارداد کی روشنی میں بنایا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں ہم نے جنگ بندی کو یقینی بنایا، جس کی وجہ سے ہزاروں جانوں کو بچایا گیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے دوسری مدت کے لیے اقتدار میں آنے کے بعد آٹھ جنگیں رکوائی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُنھیں یقین ہے کہ جلد ایک اور جنگ کا تصفیہ ہونے والا ہے۔
یوکرین کی جنگ کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ رکوانے کا معاملہ وہ بہت آسان سمجھتے تھے، لیکن یہ سب سے مشکل ثابت ہوا ہے۔
ٹرمپ نے تقریب میں آنے والے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا بھی شکریہ ادا کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ اب مکمل طور پر ختم ہونے والی اور اب حماس کو بھی غیر مسلح ہونا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
افغانستان میں شدید برفباری کی وجہ سے کابل کو مختلف صوبوں سے ملانے والی کئی رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ کابل اور مختلف صوبوں میں دو روز سے جاری شدید برف باری کی وجہ سے کابل اور ملحقہ اضلاع میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارت برائے پبلک ورکس نے بی بی سی کو بتایا کہ برفباری کی وجہ سے سالنگ ہوئی وے بھی بند ہو گئی ہے۔ یہ ہائی وے افغانستان کا ایک اہم پہاڑی راستہ ہے جو شمالی اور جنوبی افغانستان کو ملاتی ہے۔
طالبان حکومت کی وزارت برائے پبلک ورکس کے مطابق سالنگ ہائی وے کو بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے اور جب موسم کی صورتحال کچھ بہتر ہو گی تو برف ہٹانے کے بعد یہ اہم شاہراہ کھول دی جائے گی۔
مسافر بس کمپنیوں کے مطابق کابل اور غزنی شاہراہ کی خراب صورتحال اور برفباری کی وجہ سے متعدد حادثات بھی پیش آ رہے ہیں۔
برفباری کے دوسرے روز ہزاروں مسافر اور سینکڑوں ٹرک سالنگ ہائی وے بند ہونے سے شمالی اور جنوبی حصوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کو ہونے والی برفباری، بدھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی، جس کی وجہ سے برف ہٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک مقامی صحافی اور عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ برفباری کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ سالنگ ہائی وے کے شمالی حصے اتنی بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ وہاں برف ہٹانے کے لیے آنے والے بلڈوزرز کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں صوبائی دارالحکومتوں کو ملانے والی کئی شاہراہیں بھی برفباری کی وجہ سے بند ہیں۔
ورک اور غزنی صوبوں بھی برفباری سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔ کابل، ہرات شاہراہ پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے 20 سے 27 صوبوں میں آئندہ دو روز کے دوران بارش اور برفباری کا امکان ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے ایک چھوٹے سے قصبے میں فائرنگ کے واقعے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، اس واقعے کی تصدیق مقامی پولیس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق اسی واقعے میں زخمی ہونے والے چوتھے شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اُن کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 40 منٹ پر لیک کارجیلیگو کے علاقے میں پیش آیا۔ مقامی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے سے دور رہیں، جبکہ مقامی رہائشیوں کو گھروں کے اندر رہنے کا کہا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک کسی حملہ آور کو حراست میں نہیں لیا جا سکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاق کی جانب سے ایک رپورٹ جمع کروائی گئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے زیرِ استعمال ایکس اکاونٹ کی بندش سے متعلق گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران کی گئی حکومتی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے 21 اگست 2022 کو عمران خان کا ایکس اکاونٹ بند کروانے کے لیے خط لکھا تھا۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف درج مقدمات جن میں توشہ خانہ، سائفر، عدت کیسز میں سزائیں ہوچکی ہیں، کا حوالہ دیکر 18 اپریل 2024 کو عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے ایکس کو لکھا گیا۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 27 نومبر 2025 کو عمران خان کی ایکس پر 47 ٹویٹس بلاک کرنے کے لئے ایکس کو لکھا اس کے علاوہ اس عرصے کی دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بھی اس ضمن میں ایکس کو درخواستیں دیں لیکن وہ مسترد کردی گئیں۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ 27 نومبر 2025 کو 47 ٹویٹس بلاک کی درخواست میں سے ایکس نے ایک ٹویٹ بلاک کی۔ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستان میں اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کرنے کا کہا لیکن سوشل کمپنیز نا رجسٹرڈ ہوئیں نا پاکستان میں کوئی فوکل پرسن مقرر کیا اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیز اپنے اپنے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں دوسرے ممالک کے قوانین کی پابند نہیں اور سوشل میڈیا کمپنیز دوسرے ممالک کی شکایات بھی اپنے قوانین کے مطابق دیکھتیں ہیں۔
عمران خان کے ایکس اکاونٹ سے متعلق درخواست پر سماعت فروری کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔
اس درخواست میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ اس درخواست سے متعلق انھوں نے اپنے موکل یعنی عمران خان سے ہدایات لینی ہے لہذا ان کی اپنے کلائینٹ سے ملاقات کروائی جائے اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینٹ کے اراکین نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دایر کی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی یہ درخواست پی ٹی آئی کے 14 ارکان کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کی عمران خان سے ملاقات کروانے کے لیے متعقلہ حکام کو احکامات جاری کرے۔
اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے سابق وزیر اعظم سے مشاورت ضروری ہے۔
اس درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی ختم کرنے کا حکم دے اور ان دونوں کو قانون کے مطابق حقوق دیے جائیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں پنجاب کے محکمہ داخلہ اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہnetblocks
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نیٹ بلاکس کی جانب سے ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران میں انٹرنیٹ کی بندش آج دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔‘
ادارے کی جانب سے ایک ایک چارٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’دو ہفتے قبل اسی دن ایران کا رابطہ دنیا سے حکومتی احکامات کے بعد منقطع کر دیا تھا۔‘
نیٹ بلاکس کے مطابق ’جب عوام مُلک میں مہنگائی میں اضافے اور ملکی کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی خلاف مظاہروں کے لیے سڑکوں پر آئے تو انٹرنیٹ کی بند کر دیا گیا اور ایرانی عوام کی آواز دبائی گئی۔ اس دوران حکام نے مظاہرین پر شدید کریک ڈاؤن کیا اور انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔‘
نیٹ بلاکس کی رپورٹ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش آٹھ جنوری کی شام سے شروع ہوئی تھی اور اب تک جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہNHA
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق مُلک میں 22 اور 23 جنوری کے دوران تیز بارشوں، ژالہ باری اور پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کا امکان ہے۔
محکمے کے مطابق بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جبکہ پہاڑوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور مُلک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے سڑکیں بند ہو سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں شام یا رات کے وقت شدید برفباری ہو سکتی ہے۔
جمعرات کے روز اسلام آباد اور گردونواح میں بھی مطلع ابر آلود رہے گا جب کہ دوپہر کے بعد تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں شام یا رات میں چند مقامات پرتیز بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارش اور برفباری بدھ کی رات سے ہی شروع ہو گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہNHA
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
کوئٹہ، وسطی اور شمالی بلوچستان میں بارش اور برفباری کا سلسلہ گزشتہ شب شروع ہوا۔
برفباری کی وجہ سے کوئٹہ، زیارت، کان مہترزئی، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، توبہ کاکڑی اتوبہ اچکزئی اور نوشکی میں کیشنگی سمیت مختلف علاقوں میں زمین نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ بارش اور برفباری سے متاثرہ علاقوں میں ریسکو ٹیمیں موجود ہیں اور برفباری کے باعث شاہراہوں پر جمی برف ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور برفباری سے متاثرہ علاقوں میں پہلے سے ہی مشنری اور امدادی سامان بھجوا دیا گیا تھا۔ مسلم باغ کے علاقے میں قومی شاہرہ پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی بحالی کے لئے کاروائیاں جاری ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے برفباری کے دوران فوری امدادی کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی مُشکل صورتحال سے نمٹنے کے لئے پی ڈی ایم اے مکمل طور پر تیار ہے۔

،تصویر کا ذریعہNHA
بارش اور برفباری کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں باالخصوص مستونگ، قلات، سوراب، کوئٹہ اور زیارت سمیت شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے سردی کی شدت میں اضافے کی باعث لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔
تاہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے جن علاقوں گیس کی سہولت ہے وہاں گیس کی پریشر میں کمی کے باعث لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔
سردی میں گیس پریشر میں کمی اور اس کی بندش کا وزیر اعلی بلوچستان نے نوٹس لیکر گیس کمپنیوں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا۔
وزیر اعلی نے وفاقی حکومت سے بلوچستان کے سرد علاقوں کے لیے گیس کی ایلوکیشن کو بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر لیونارڈو ڈی کیپریو کی فلم ’کیچ می اِف یو کین‘ کا کبھی سیکوئل بنایا جاتا، تو استغاثہ کے مطابق حقیقی زندگی شاید اس کی کہانی پہلے ہی لکھ چکی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق کینیڈا کے شہری ڈیلاس پوکورنک پر الزام ہے کہ انھوں نے پائلٹ اور فضائی میزبان کا روپ دھارا اور مبینہ طور پر چار سال تک سینکڑوں بار مفت فضائی سفر کیا۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ ٹورنٹو کے رہائشی 33 سالہ ڈیلاس پوکورنک نے ایسی شناختی دستاویزات جعلی طور پر تیار کیں جو صرف ملازمین کو دی جاتی ہیں اور پھر ان دستاویزات کو استعمال کرتے ہوئے امریکی فضائی کمپنیوں کے جہازوں میں مفت سفر کیا۔ ایک موقع پر تو انھوں نے کاک پٹ میں بیٹھنے کی درخواست بھی کی۔
پوکورنک کو پانامہ میں گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیے گئے، جہاں اب وہ فراڈ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے موقف جاننے کے لیے پوکورنک کے وکیل سے رابطہ کیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق پوکورنک کا طریقہ کار حیران کن حد تک لیونارڈیو ڈی کیپریو کی سنہ 2002 میں آنے والی فلم سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں ایک دلکش نو عمر لڑکا ایف بی آئی سے بچنے کے لیے پائلٹ کا روپ دھار کر دنیا بھر میں سفر کرتا ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ پوکورنک نے سنہ 2017 سے لے کر سنہ 2019 تک کینیڈا کی ایک فضائی کمپنی میں باضابطہ فضائی میزبان کے طور پر کام کیا تھا، لیکن مبینہ فراڈ کے وقت وہ کسی فضائی کمپنی کے ملازم نہیں تھے۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ ملازمت کے بعد کے برسوں میں پوکورنک نے جعلی بیج استعمال کرتے ہوئے تین امریکی فضائی کمپنیوں کو دھوکا دیا اور ایسی پروازوں پر سفر کیا جو صرف پائلٹس اور فضائی میزبانوں کے لیے مختص ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالتی دستاویزات میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک موقع پر پوکورنک نے طیارے کے کاک پٹ میں ’جمپ سیٹ‘ پر بیٹھنے کی بھی درخواست کی، یہ وہ جگہ ہے جو صرف ڈیوٹی سے فارغ پائلٹس کے لیے مختص ہوتی ہے، تاہم نہ تو پوکورنک پائلٹ تھے نہ ان کے پاس ایئر مین کا سرٹیفیکیٹ تھا۔
لیکن کیا پوکورنک نے واقعی کسی پرواز میں پائلٹس کے ساتھ سفر کیا؟ یہ بات ابھی غیر واضح ہے۔
فرد جرم میں امریکی فضائی کمپنیوں کے نام تو نہیں دیے گئے لیکن یہ شناخت ضرور فراہم کی گئی ہے کہ ان کمپنیوں کے صدر مقام امریکی شہروں ہونولولو، شکاگو اور فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں ہیں۔
محکمہ انصاف کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ فرد جرم میں صرف جنوری سے اکتوبر 2024 تک کی مدت شامل ہے، لیکن استغاثہ چار سال تک پوکورنک کی مبینہ بدعنوانی سے واقف ہے۔ یہ عرصہ جنوری 2020 سے لے کر اکتوبر 2024 تک ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق، اگر پوکورنک پر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں 20 سال تک قید اور 250,000 ڈالرز تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میں اس ہال میں موجود تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اندر داخل ہوئے اور یہ کہنا بجا ہوگا کہ کم از کم آغاز میں شرکا کی جانب سے کھڑے ہو کر اُن کا استقبال کیا اور تالیاں بجائیں۔
اس کے علاوہ ہال میں داخل ہونے کے لیے غیر معمولی بھگدڑ دیکھنے میں آئی، جہاں کئی افراد کو اندر آنے سے روک دیا گیا، حتیٰ کہ بعض سربراہانِ مملکت بھی داخل نہ ہو سکے۔
سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت تھے، یہاں تک کہ بعض نہایت معروف شخصیات کو بھی ہال میں داخل ہونے یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
تقریر کے ابتدائی لمحات میں صدر ٹرمپ پُرسکون نظر آئے اور انھوں نے برطانیہ کے لیے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ ’ترقی کرے اور آگے بڑھے۔‘
جس دن کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ امریکی صدر اپنی نئی عالمی معیشت کے قوانین کا اعلان کریں گے، وہ دن درحقیقت زیادہ تر نصیحتوں اور مشوروں پر مشتمل رہا۔
یہ انداز ان کے سوشل میڈیا بیانات کے نسبتاً سخت اور دھمکی آمیز لہجے سے خاصا مختلف تھا، جن میں وہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ امریکہ کا حصہ بنے گا چاہے اس کے لیے امریکہ کو طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل ڈونلڈ ٹرمپ کون سے ہیں؟ کیا انھیں اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ ان کے بعض بیانات کو عالمی سطح پر کس قدر منفی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا؟
ہال میں داخل ہوتے وقت مجھے گزشتہ رات کے ایک حیران کن واقعے کے بارے میں بتایا گیا، جب صدر ٹرمپ کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے یورپ کی معیشت کے بارے میں کہا کہ ’آپ معاشی طور پر ختم ہو چکے ہیں۔‘
اس بیان کے بعد ہال سے واک آؤٹ ہوا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا آج بھی ایسا ہی کوئی منظر دیکھنے کو مل سکتا تھا؟ تاہم صدر ٹرمپ کی آج کی تقریر سے ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی بھی ممکنہ ردِعمل سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ کی تقریر میں اچانک سختی کا عنصر دیکھائی دیا
ابتدا میں ایسا محسوس ہوا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی انداز اختیار کیے ہوئے ہیں، شاید انھوں نے اپنے خلاف ہونے والی نمایاں تنقید سن لی ہو اور لہجہ نرم رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
انھوں نے مغربی اتحادیوں کے بارے میں دوستانہ انداز میں بات کی، وہی اتحادی جو ان کے سوشل میڈیا بیانات سے سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتے رہے ہیں۔
انھوں نے یہاں تک تسلیم کیا کہ شاید انھیں گرین لینڈ جیسے متنازع معاملے پر بات نہیں کرنی چاہیے، جس پر وہ ماضی میں بارہا قبضہ کرنے اور طاقت کا استعمال کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
لیکن ایسا لگا جیسے وہ خود کو روک نہ سکے اور تقریر نے آہستہ آہستہ ایک موڑ لیا اور لہجے میں سختی کا عنصر دیکھائی دینے لگا۔
سب سے پہلے انھوں نے ماضی میں گرین لینڈ کی مدد میں امریکہ کے کردار کا ذکر کیا اور ڈنمارک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بات کی۔
تاہم اس کے بعد انھوں نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نہ ہوتا تو ہال میں موجود تمام لوگ ’جرمن زبان بول رہے ہوتے۔‘
اسی کے بعد اصل اعلان سامنے آیا جس کا شاید سب کو ہی انتظار تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوری مذاکرات چاہتا ہے۔
ان کے بقول یہ ایک طے شدہ معاہدے کے ذریعے ہوگا، اس میں طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا، تاہم امریکہ کو ’مکمل ملکیت‘ درکار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس زمین کو چاہتے ہیں‘ تاکہ وہاں ’اب تک کا سب سے عظیم گولڈن ڈوم‘ تعمیر کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ایک دن پہلے دیے گئے بیان پر بھی خبردار کیا، تاہم ساتھ ہی یہ زور دیا کہ گرین لینڈ کو کینیڈا کے دفاع کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں صرف برف کا ایک ٹکڑا مانگ رہا ہوں۔۔۔ یہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں ہے۔‘
یہ سب باتیں اپنے کانوں سے سننا واقعی حیران کن تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقریر پر ہال میں ملا جلا ردِعمل سُننے کو ملا، سکیورٹی سخت تھی اور فضا کشیدہ
الپس میں سخت حفاظتی انتظامات تھے، حالات نازک اور ماحول کشیدہ تھا کیونکہ ایک طاقتور عالمی رہنما وہاں پہنچا جو دنیا کا نیا ’شیرف‘ بننے اور اپنے نئے اصول نافذ کرنے کا دعویٰ کر رہا تھا۔‘
ہال میں موجود شرکا کا ردِعمل مختلف نوعیت کا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے نرم لہجے میں بات کرنے پر تالیاں بجائیں گئیں، تاہم جیسے ہی انھوں نے مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات اور دیگر عالمی رہنماؤں کی ڈیووس تقاریر پر اپنی ناراضی کا ذکر کیا، کئی شرکا حیرت اور بے یقینی کے عالم میں بیٹھے نظر آئے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا، لیکن یورپ کو یہ علاقہ امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادہ کرنے کی ان کی کوششوں نے بہت سوں کو حیران کر دیا۔
یلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے صدر کی تقریر کو ’ٹاکو ٹیوزڈے‘ کہا، جس کا مطلب انھوں نے یہ بتایا کہ ’ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔‘ یہ ایک طنزیہ جملہ تھا جس سے صدر کا مذاق اڑایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے سخت ردِعمل کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کیا اور اس میں نرمی کا عنصر دیکھائی دیا۔
ریپبلکن پارٹی کے ایک اہم سینیٹر تھامس ٹلس نے کہا کہ گرین لینڈ کے حصول کی کوشش، حتیٰ کہ مذاکرات کے ذریعے الحاق بھی، کانگریس کی حمایت حاصل نہیں کر سکے گی۔
یوں اگرچہ صدر ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے اتحادی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنانا جاری رکھا، جن میں بعض عالمی رہنماؤں پر ذاتی حملے بھی شامل تھے۔
اور اگرچہ انھوں نے گرین لینڈ پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ علاقہ ’نئے امریکہ‘ کا حصہ بنے گا اور دنیا کو اس پر ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
تقریر بالآخر اختتام کو پہنچ گئی، لیکن اس پر بحث و مباحثہ طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے ملک میں حالیہ بدامنی کے دوران ہونے والے نقصانات سے متعلق تفصیلی جائزہ شائع کیا ہے۔
21 جنوری کو جاری کی گئی رپورٹ میں ایرنی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے 469 سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے اور انھیں آگ لگا کر مکمل تباہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ملک کے آٹھ صوبوں میں 702 بینک برانچز کو منہدم یا نذرِ آتش کیا گیا جبکہ 419 سپر مارکیٹس کو لوٹا گیا اور نذر آتش کیا گیا۔
ایران کے پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان نے کہا ہے ملک کے ’تمام صوبوں‘ میں گرفتاریاں جاری ہیں اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیزی سے جاری ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے پولیس چیف کے حوالے سے بتایا کہ مظاہروں کے پہلے روز سے ہی ’فسادات، بغاوت، لوٹ مار اور حتیٰ کہ قتل‘ میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا۔
پولیس چیف نے اعلان کیا کہ شرپسندوں (مظاہرین) کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مظاہروں میں شامل آخری فرد کو بھی گرفتار نہ کر لیا جائے۔
ایجنسی کے مطابق بدامنی کے دوران پولیس کی 740 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ 305 عوامی ٹرانسپورٹ بشمول بسوں اور ایمبولینسوں کو بھی شدید نوعیت کا نقصان پہنچایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ مُلک میں ہونے والے ان حالیہ مظاہروں میں عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان واقعات کے دوران 484 مساجد کو نقصان پہنچا یا انھیں آگ لگا دی گئی۔
رپورٹ میں ’سینکڑوں‘ دیگر گھروں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تہران کے میئر علیرضا ذکانی نے دارالحکومت میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30 کھرب ریال لگایا۔
خبر رسان ادارے تسنیم کے مطابق وزارتِ انٹیلیجنس نے جنوبی صوبہ فارس کے متعدد شہروں میں 162 مبینہ ’فسادی رہنماؤں‘ کو گرفتار کیا ہے، جن پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
ایجنسی کے مطابق زیرِ حراست افراد نے شیراز میں 20 بلدیاتی عمارتوں، 10 فائر بریگیڈ گاڑیوں، 18 ایمبولینسوں، 10 عوامی بسوں اور 47 مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا۔
وزارتِ انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دو اے کے 47 رائفلیں، 840 گولیاں، پانچ پستول اور تین شکاری رائفلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNETWORK ONE TV
ایران میں حالیہ بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کو ’شہید‘ کا درجہ دے دیا گیا
ایران کی ’شہدا اور سابق فوجیوں کی فاؤنڈیشن‘ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں حالیہ بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت کو ’شہید‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کی خبر رساں ایجنسی آئی آر آئی بی نیوز نے فاؤنڈیشن کے اس بیان کو نشر کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’کُل 3117‘ ہلاکتوں میں سے 2427 افراد جن میں عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار دونوں شامل ہیں، ’دہشت گردانہ واقعات‘ کے نتیجے میں ’شہید‘ ہوئے۔
یاد رہے کہ ایران میں بدامنی کا آغاز 28 دسمبر کو قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی حالت کے باعث ہوا تھا۔ یہ صورتحال جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئی جو آٹھ اور نو جنوری کو خاص طور پر شدت اختیار کر گئے۔
حکام نے ان مظاہروں کے جواب میں جنھیں انھوں نے ’مسلح دہشت گردوں‘ کی کارروائیاں قرار دیا، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا اور مُلک میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا جس کے باعث ملک کے اندر سے آزادانہ رپورٹنگ اور قابلِ تصدیق معلومات کی ترسیل شدید طور پر محدود اور متاثر ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہEPA
امدادی کارکنوں کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین فلسطینی صحافی ہلاک ہو گئے ہیں۔
غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ الزہرہ کے علاقے میں ان صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، انس غنیم اور عبد الرؤف شاعت کے نام سے کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مصری امدادی تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حماس سے منسلک ڈرون چلانے والے متعدد مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا جو ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔‘ فوج نے مزید کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بدھ کے روز غزہ بھر میں اسرائیلی توپ خانے اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، ان ہلاکتوں کی تصدیق حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔
طبی عملے کے مطابق، وسطی غزہ میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے تین افراد، جن میں ایک 10 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، ہلاک ہوئے۔ اسی طرح جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک 13 سالہ لڑکا اور ایک خاتون ہلاک ہوئے۔ یہ اطلاعات خبر رساں ادارے رائٹرز نے دی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح بیان میں کہا کہ اس کے فوجیوں نے ایک ’دہشت گرد کو ہلاک کیا جو ’یلو لائن‘ عبور کر کے ان کے قریب آنے کی کوشش میں تھے۔‘ یلو لائن اس علاقے کی حد بندی کرتی ہے جو جنگ بندی معاہدے کے تحت اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 466 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی مدت کے دوران فلسطینی مسلح گروہوں کے حملوں میں اس کے تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یورپی ممالک پر یکم فرروی سے نئے ٹیرف لگانے کے اعلان پر عمل نہیں کریں گے۔
ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک ’انتہائی تعمیری میٹنگ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے درمیان ’گرین لینڈ کے حوالے سے ایک معاہدے کے فریم ورک‘ پر گفتگو ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید لکھا: ’اگر اس حل پر عمل ہوتا ہے تو یہ امریکہ اور نیٹو ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا۔‘
’اس بنیاد پر میں یکم فروری سے نئے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان پر عمل نہیں کروں گا، مزید بات چیت جاری ہے۔‘
’بات چیت کے ساتھ ساتھ مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔ نائب صدر جے ڈی وینس، سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو، نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور دیگر افراد ان مذاکرات کے ذمہ دار ہوں گے، وہ مجھے براہ راست رپورٹ کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ کے آگے ’نہیں جھکیں‘ گے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے چاگوس جزیرے کے معاہدے پر برطانیہ پر تنقید کی ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم سٹارمر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے پہلے چاگوس کے معاہدے کی حمایت کی تھی اور اب اس پر تنقید کر رہے ہیں، جس کا ’مقصد گرین لینڈ کے مستقبل کے معاملے میرے اور برطانیہ کے اصولوں اور اقدار پر دباؤ ڈالنا ہے۔‘
منگل کو برطانیہ کی طرف سے چاگوس جزیرے کو موریشس کے حوالے کرنے سے متعلق معاہدے کو صدر ٹرمپ نے ایک ’بیوقوفانہ عمل‘ قرار دیا تھا۔
سر سٹارمر کا کہنا تھا کہ ’گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ گرین لینڈ کے لوگوں اور ڈنمارک کا ہوگا‘ اور یہ کہ وہ اگلے جمعرات کو لندن میں ڈنمارک کے پریمیئر کی میزبانی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز صدر ٹرمپ نے چاگوس کے معاملے پر جو الفاظ ادا کیے وہ ان سے مختلف تھے جو حمایت کے جملے انھوں نے وائٹ ہاؤس میں مجھ سے ملاقات کے دوران ادا کیے تھے۔‘
’انھوں نے یہ الفاظ مجھ پر اور برطانیہ پر گرین لینڈ کے مستقبل کے معاملے پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیے ہیں۔‘
’وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے مؤقف سے ہٹ جاؤں اور میں ایسا نہیں کروں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کے حصول کے لیے ’طاقت نہ استعمال‘ کرنے کی یقین دہانی خوش آئند ہے، تاہم ان کی تقریر سُن کر لگتا ہے کہ ان کے عزائم اب بھی ’برقرار‘ ہیں۔
کوپن ہیگن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لارس لوکے راسموسن کا کہنا تھا کہ یہ ’مثبت‘ بات ہے کہ ٹرمپ فوج کے استعمال سے دوری اختیار کر رہے ہیں، تاہم اس سے یہ معاملہ ’رفع دفع‘ نہیں ہوگا۔
ڈنمارک کے میڈیا کے مطابق راسموسن کا مزید کہنا تھا کہ ڈنمارک گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں آرکٹک کی سکیورٹی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔