گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو: ٹرمپ کے وزیر خزانہ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو، اور اگر وہ امریکہ کا حصہ ہو تو اسے دفاع کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ یورپی ممالک سمجھ جائیں گے کہ یہ گرین لینڈ کے لیے بہتر ہے، یورپ کے لیے بہتر ہے اور امریکہ کے لیے بھی بہتر ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ایک کارروائی میں تین امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث القاعدہ کے ایک رہنما مارے گئے ہیں۔
  • کراچی کے گُل پلازہ میں لگنے والی آگ میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی۔ آگ بجھانے کا عمل تاحال جاری۔
  • ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا اعتراف، امریکی صدر کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔
  • امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے الزامات پر کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلا جائے۔‘
  • مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر 'غزہ بورڈ آف پیس' کے رُکن نامزد

لائیو کوریج

  1. بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    19 جانوری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ٹرمپ کی محصولات کی دھمکیاں انتہائی غیرمنطقی ہیں: ڈنمارک

    ّڈنمارک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اوسلو میں ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن کے ہمراہ نیوز کانفرنس کے دوران ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ٹرمپ کے فیصلے کو ’انتہائی غیرمنتطقی‘ قرار دیا ہے، جس کے تحت یورپی نیٹو اتحادیوں پر محصولات عائد کیے جا رہے ہیں۔

    ڈنمارک کے نشریاتی ادارے ڈی آر کے مطابق لارس لوکے نے حالیہ سیکیورٹی آپریشن ’آرکٹک انڈیورنس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ڈنمارک اور اس کے اتحادیوں کی خطے کے تحفظ کے لیے وابستگی کی واضح مثال ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اور اسی نے ان محصولات کو جنم دیا ہے۔ یہ بہت ہی، بہت ہی غیرمنطقی ہے۔‘

    ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے موجودہ صورتحال کو ’ایک تاریخی اور ڈرامائی وقت‘ قرار دیا۔

    ڈینش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ڈی آر) کے مطابق ایسپن بارتھ ایڈے نے ٹرمپ کے محصولات کو ’دھمکیاں‘ کہا۔ تاہم وزیرِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ناروے اور اس کے اتحادی ’اپنے اوپر دباؤ ڈالنے نہیں دیں گے۔‘

    ناروے کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک، جن میں وہ آٹھ یورپی ممالک بھی شامل ہیں جنھیں ٹرمپ نے ٹیرف کی دھمکی دی ہے‘ امریکہ کے ساتھ مل کر آرکٹک خطے میں سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    بارتھ ایڈے نے کہا کہ ’آٹھ ممالک میں سے جو آرکٹک میں واقع ہیں، سات نیٹو کے رکن ہیں۔ اس لیے ہم دراصل موجودہ اور مستقبل کے سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اچھی طرح تیار ہیں۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کے خدشات کے باعث گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ناروے کے وزیرِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ’نیٹو کی اصل روح اپنے رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے‘ اور اس موقع پر انھوں نے ڈنمارک کے لیے اپنے ملک کی حمایت کو دہرایا۔

  3. مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کا خواب ترک کریں: ڈنمارک کے وزیر خارجہ

    Denmark

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن واشنگٹن کے دورے سے واپس ہی آئے تھے کہ ٹرمپ نے نئے محصولات کا اعلان کر دیا۔

    لارس لوکے نے بتایا کہ ان کی ٹرمپ کے حکام کے ساتھ ایک ’تعمیری گفتگو‘ ہوئی ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات جاری رہیں گے ’تاکہ صدر گرین لینڈ پر قبضے کا خواب ترک کر دیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب یورپی اتحادی اس کام کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ’جسے ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نظرانداز کیا ہے۔‘

    اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’دنیا کا امن خطرے میں ہے‘ اگر امریکہ روس اور چین کی دھمکیوں کے باعث ڈنمارک پر کنٹرول حاصل نہ کر سکا۔ تاہم یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

  4. گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو: ٹرمپ کے وزیر خزانہ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ٹرمپ کے محصولات کے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے اتوار کو این بی سی نیوز کے پروگرام میٹ دی پریسمیں کہا کہ ٹرمپ ایک ’سٹریٹجک‘ جغرافیائی سیاسی فیصلہ کر رہے ہیں، جس میں امریکہ کی ’معاشی طاقت‘ کو استعمال کر کے خوفناک جنگ سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’قومی ایمرجنسی دراصل قومی ایمرجنسی سے بچنا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ گرین لینڈ کو ضم کر کے ’تنازع سے بچنے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’ہم جانتے ہیں کہ گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو، اور اگر وہ امریکہ کا حصہ ہو تو اسے دفاع کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ یورپی ممالک سمجھ جائیں گے کہ یہ گرین لینڈ کے لیے بہتر ہے، یورپ کے لیے بہتر ہے اور امریکہ کے لیے بھی بہتر ہے۔‘

  5. انڈیا میں نفرت انگیز تقاریر میں دو برس میں 97 فیصد اضافہ، امریکی تھنک ٹینک

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم نے انڈیا میں نفرت انگیز تقاریر پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

    ’ہیٹ سپیچ ایونٹس ان انڈیا‘ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں 2025 میں نفرت انگیز تقاریر کے کل 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

    نفرت انگیز تقاریر کی فہرست میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سرفہرست ہیں، اور اتر پردیش سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر والی ریاست بتائی گئی ہے۔ بی جے پی نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے۔

    بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں خواہ امریکہ سے ہوں یا کسی اور جگہ سے، ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے ایسی رپورٹیں شائع کرتی ہیں۔

    ساتھ ہی سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو قانون کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔

  6. افغان طالبان کے تجارتی وفد کا دورہ بنگلہ دیش، دونوں ممالک میں تجارت کا حجم کیا ہے؟

    کابل، ڈھاکہ

    ،تصویر کا ذریعہMoCI

    طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وزارت صنعت و تجارت کا ایک 50 رکنی وفد بنگلہ دیش روانہ ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت کے نائب وزیر احمد اللہ زاہد کی سربراہی میں وفد نے دو طرفہ تجارتی تعلقات پر بات چیت کے لیے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ گیا ہے۔

    وزارت کے بیان کے مطابق دورے کے اہداف میں برآمدات اور درآمدات کے لیے سہولیات پیدا کرنے، مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع اور مستقبل کی مشترکہ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے پر بات چیت شامل ہے۔

    کابل اور ڈھاکہ کے تعلقات کیسے ہیں؟

    بنگلہ دیش میں جولائی 2024 میں مظاہروں کے دوران شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ ملک کے عوام پارلیمنٹ کے اراکین کو منتخب کرنے کے علاوہ 12 فروری کو آئین پر ریفرنڈم میں حصہ لینے اور ملک کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کے بارے میں فیصلہ کرنے والے ہیں۔

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ایک سینیئر مشیر پروفیسر محمد یونس نے جون 2025 میں لندن میں معروف تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے دورے کے دوران اپنے ملک کی نئی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا جس میں کہا گیا کہ سب سے دوستی۔

    یہ ایک ایسا اقدام جسے ماہرین نے اپنی پیشرو شیخ حسینہ کی ’انڈیا سپیسفک‘ پالیسی سے ایک تبدیلی قرار دیا ہے۔ ڈھاکہ اور کابل کے درمیان تعلقات کی قربت اگرچہ ابھی زیادہ گرمجوش نہیں ہے، لیکن اس سمت میں یہ آگے جا سکتی ہے۔

    ستمبر 2025 میں مولانا مامون الحق کی قیادت میں بنگلہ دیشی علما کے سات رکنی وفد نے ’طالبان حکومت کی دعوت‘ پر افغانستان کا دورہ کیا۔

    بنگلہ نیوز-24 نے رپورٹ کیا کہ بات چیت کے لیے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ’سائنسی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت، صحت اور تعلیم میں تعاون کو بڑھانے‘ پر تھا۔

    دسمبر 2025 کے آخر میں کئی علاقائی ذرائع ابلاغ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے نور احمد نور، طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے پہلے سیکریٹری، جو اب دہلی میں طالبان حکومت کے سفیر ہیں، کے بنگلہ دیش کے دورے کی اطلاع دی۔

    کابل سے ڈھاکہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    طالبان حکومت نے نور احمد کے دورے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ڈھاکہ میں ایک سفارتی ماہر پوریم پالما نے بی بی سی دری کو بتایا کہ نور احمد کا بنگلہ دیشی دارالحکومت کا دورہ ایک تھنک ٹینک کی تقریب میں شرکت کے لیے ذاتی حیثیت میں تھا۔ ان کے بقول بنگلہ دیش طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تعلقات نہیں ہیں۔

    طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق ڈھاکہ میں افغانستان کا سفارت خانہ ہے لیکن افغانستان میں کوئی بنگلہ دیشی نمائندہ سرگرم نہیں ہے۔

    افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز: تجارت میں توسیع کے بہت امکانات ہیں

    چابہار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت کے اچھے امکانات ہیں، افغان وفد بنگلہ دیش میں ہونے والے تجارتی میلے میں شرکت کرے گا۔

    چیمبر کے نائب سربراہ خان جان الکوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں کپڑوں، چاول، چائے اور ادویات کی پیداوار میں بڑی صلاحیت ہے۔

    بنگلہ دیش میں تازہ اور خشک میوہ جات اور افغان ادویاتی پودوں میں دلچسپی رکھنے والی بہت سے ادارے بھی ہیں۔

    جان الکوزی کے مطابق بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت ایرانی بندرگاہوں چابہار اور بندر عباس کے ذریعے ہوتی ہے اور اس وقت اس ملک کے ساتھ تجارت میں دلچسپی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

    افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت 20 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے لیکن اس میں سالانہ ایک بلین ڈالر تک اضافے کے کافی امکانات ہیں۔

  7. پاکستان میں ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت 8600 روپے فی تولہ اضافے کے بعد 481862 روپے فی تولہ کی سطح تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    Gold

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں موجودہ ہفتے میں سونے کی قیمت میں 8600 روپے فی تولہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موجودہ ہفتے میں فی تولہ سونے کی قیمت 481862 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    گذشتہ ہفتے ایک تولہ سونے کی قیمت 473262 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔ آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں دس گرام سونے کی قیمت 413118 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ گذشتہ ہفتے دس گرام سونے کی قیمت 405745 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں ہفتہ وار بنیاد پر سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ اس کی عالمی سطح پر قیمت میں اضافہ رہا ۔ موجودہ ہفتے میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4595 ڈالر فی اونس رہی جو گذشتہ ہفتے 4509 ڈالر فی اونس تھی۔

    ملک میں موجودہ ہفتے میں چاندی کی قیمت 9482 روپے فی تولہ کی سطح پر بند ہوئی۔ گذشتہ ہفتے فی تولہ چاندی کی قیمت 8465 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔

  8. ٹرمپ کی گرین لینڈ دھمکی اور یورپ کا ردعمل، اس بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    24 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے دھمکی دی کہ آٹھ یورپی ممالک کی برآمدات پر 10 فیصد محصولات عائد کیے جائیں گے، جب تک کہ ’اس نیم خودمختار علاقے کی مکمل اور حتمی خریداری کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہو جائے۔‘

    • ٹرمپ کی محصولات کی دھمکی کا نشانہ بننے والے آٹھ ممالک نے خبردار کیا کہ امریکی صدر کا منصوبہ ایک ’خطرناک منفی سلسلے‘ کو جنم دے سکتا ہے۔
    • ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، نیدرلینڈ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا کہ وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ’مکمل یکجہتی‘ میں کھڑے ہیں۔
    • یورپی یونین کے سفیر اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے جا رہے ہیں۔
    • ٹرمپ نے کہا کہ آٹھ ممالک پر 10 فیصد محصولات یکم فروری سے نافذ ہوں گے، اور اگر ’معاہدہ نہ ہوا‘ تو یکم جون کو یہ شرح 25 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
    • گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد ٹرمپ کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
    • ہمارے معاشی ایڈیٹر فیصل اسلام نے لکھا ہے کہ یہ دھمکی ایک قسم کی ’معاشی جنگ‘ ہے۔
  9. زیر حراست افراد کی صحیح تعداد کا اعلان تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا: ایرانی عدلیہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے کہا کہ ’بدامنی اور افراتفری کے مناظر‘ میں گرفتار کیے گئے افراد کو ’دستاویزی‘ اور تحقیقات ’مکمل‘ کی جانی چاہئیں۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ حراست میں لیے گئے کچھ افراد کے خلاف الزامات کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ لوگوں کو گرفتار کرنے کے فوراً بعد سزا سنائی جائے گی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد درست اعدادوشمار کا اعلان کیا جائے گا۔‘

    عدلیہ کے ترجمان نے کہا کہ ’بنیادی مقصد ملکی نیٹ ورکس کے سربراہان اور ان کے غیر ملکی روابط کی نشاندہی کرنا ہے، اس لیے عدالتی احکام جاری کرنے کے لیے ان تحریکوں کے حامیوں، مینیجرز اور معاونین کی شناخت کے لیے قانونی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    اصغر جہانگیر نے یہ بھی تنبیہ کی کہ ’وہ تمام لوگ جو مظاہروں کے انعقاد اور لوگوں کا خون بہانے اور خزانے کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے وہ اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتیں گے۔‘

    گذشتہ سال 28 دسمبر کو تہران کے بازاروں میں الیکٹرانِکس کی دکانوں سے شروع ہونے والے مظاہرے پرتشدد ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئے۔

    اب تک ان ان مظاہروں اور احتجاج کی تازہ لہر کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دسیوں ہزار افراد گرفتار بھی ہیں۔

    عالمی برادری بھی ایران پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ احتجاج کرنے والے مظاہرین پر سخت کریک ڈاؤن سے پرہیز کرے۔

  10. یورپ کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا، گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں: ڈنمارک اور نیٹو ممالک کا ٹرمپ کو پیغام

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters/AP

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے تجارتی محصولات کی دھمکیوں کا نشانہ بننے والے آٹھ یورپی ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

    ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ کی برآمدات پر فروری سے امریکہ میں 10 فیصد اور جون سے 25 فیصد تک محصولات عائد کیے جائیں گے۔

    ان ممالک نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ’مکمل طور پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، جو خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں پر مبنی ہوں، جن پر ہم پختگی سے قائم ہیں۔‘

    تمام آٹھ ممالک نیٹو کے رکن ہیں اور ان ممالک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ’آرکٹک خطے کی سلامتی کو بحرِ اوقیانوس کے ایک مشترکہ مفاد کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

    اس مقصد کے لیے انھوں نے حالیہ ڈنمارک کی فوجی مشق ’آرکٹک انڈیورنس‘ کا حوالہ دیا، جسے انھوں نے اس عزم کی عکاسی قرار دیا اور کہا کہ ’یہ کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ’یورپ کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا‘

    نیٹو کے آٹھ ممالک کے مشترکہ بیان کے بعد ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ ’ڈنمارک کو بھرپور حمایت حاصل ہے‘ اور وضاحت کی کہ وہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت اتحادی ممالک کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہیں۔

    فریڈرکسن نے لکھا کہ ’مجھے یورپ کے باقی حصے سے آنے والے یکساں پیغامات پر خوشی ہے: یورپ کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اب یہ اور بھی واضح ہو گیا ہے کہ یہ معاملہ ہماری سرحدوں سے کہیں آگے تک کا ہے۔‘

    یاد رہے کہ گرین لینڈ ایک خودمختار علاقہ ہے جو ڈنمارک کے زیرِ انتظام ہے۔ فریڈرکسن نے اس حوالے سے کہا کہ ’ہم تعاون چاہتے ہیں، اور تنازع کی راہ نہیں تلاش کر رہے۔‘

  11. ایران کا عراق کے فوجی اڈے سے امریکی افواج کے انخلا کا خیر مقدم

    عراق، ایران

    ،تصویر کا ذریعہTelegram/ s.a. araghchi

    عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’عین الاسد اڈے سے امریکی فوجی دستوں کا انخلا اور یو این اے ایم آئی مشن کا خاتمہ عراق میں آزادی، استحکام اور قومی خودمختاری کے استحکام کی واضح نشانیاں ہیں۔‘

    عراقی وزارت دفاع نے سنیچر کے روز اعلان کیا کہ امریکی افواج عین الاسد فوجی اڈے سے انخلا کر چکی ہیں اور عراقی فوج نے بیس کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    سنہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد نے عراق سے امریکی زیر قیادت اتحادی افواج کے انخلا کے منصوبے پر ایک معاہدہ کیا۔

  12. شامی فوج کا ملک کے سب سے بڑے آئل فیلڈ پر قبضہ، امریکہ کا حکومت کو تحمل کا مشورہ

    Syria

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شامی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی فوج نے ملک کے شمال میں واقع شہر طبقہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس وقت مختلف علاقوں میں ’کومبنگ آپریشنز‘ جاری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ کسی بھی قسم کے سکیورٹی خطرات سے پاک ہیں۔

    اتوار کو تین سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شامی فوج، جو کرد قیادت والی فورسز کے خلاف برسرِ پیکار ہے، نے شام کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے ’العمر‘ اور مشرقی علاقے میں ’کونیكو‘ گیس فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔

    سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے اتوار کو العمر آئل فیلڈ سے دستبرداری اختیار کر لی، جو شام کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے، جو صوبہ دیر الزور کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔

    آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز اتوار کو علی الصبح مشرقی دیر الزور کے دیہی علاقوں میں ان کے زیر کنٹرول تمام علاقوں سے پیچھے ہٹ گئیں، جن میں العمر اور التنیک آئل فیلڈز شامل ہیں جبکہ دیر الزورگورنری نے ’شہریوں سے ہسپتال، سکولوں اور سرکاری املاک جیسی سہولیات کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔‘

    اتوار کو شامی حکام نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) پر شمالی شام میں دریائے فرات پر دو بڑے پلوں کو اڑانے کا الزام لگایا، سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا کے مطابق فوج کے اعلان کے فوراً بعد جب اس نے سٹریٹجک شہر الطبقة اور ملحقہ فرات ڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جہاں کرد فورسز موجود تھیں۔

    ثنا نے صوبہ الرقة کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے حوالے سے کہا کہ ’ایس ڈی ایف نے الرقة شہر میں نیا پل (الرشید) دھماکے سے تباہ کر دیا۔‘ اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ایس ڈی ایف نے ’پرانا پل‘ بھی تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں الرقة شہر کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔

    فوجی ذرائع کے مطابق شامی فوج نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب الطبقة شہر اور سد الفرات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ شہر میں فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور بکتر بند گاڑیاں تعینات ہیں، جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    ایس ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز ’دمشق کے مسلح عناصر‘ کے خلاف شدید لڑائی میں مصروف ہیں، خاص طور پر منصورہ قصبے میں جو الطبقة سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔

    الطبقة شہر، جو سد الفرات کے قریب ہے، شام کا سب سے بڑا ڈیم اور توانائی کا اہم مرکز ہے۔ یہ شہر حلب کو مشرقی شام سے جوڑنے والا اہم مواصلاتی مرکز بھی ہے اور اس کے قریب واقع فوجی فضائی اڈے کو امریکی افواج نے برسوں تک استعمال کیا۔

    کرد انتظامیہ نے الرقة میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، جبکہ امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل براد کوپر نے شامی حکومت کو ’کسی بھی جارحانہ کارروائی‘ روکنے کی اپیل کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

    شامی حکومت کی مذمت

    Syrian

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    شامی حکومت نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ ’قسد اور اس سے منسلک پی کے کے گروہوں نے الطبقة شہر میں قیدیوں کو قتل کر دیا ہے‘۔

    سانا نے تصاویر جاری کی ہیں جن میں دیر الزور کے علاقے میں قسد کے انخلا کے بعد فوجی دستوں کی موجودگی دکھائی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور صرف ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ہدایت دی ہے۔

    شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے الطبقة فوجی اڈے، سد الفرات، سد المنصورة اور کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ فوج نے مزید بتایا کہ وہ الرقة شہر کے مغربی داخلی راستے سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئی ہے۔

    شام

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    قسد نے دمشق پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بین الاقوامی ثالثی کے تحت طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ قسد کے مطابق، شامی فوج نے دير حافر اور مسكنة میں داخل ہو کر ان کے انخلا کو خطرے میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں اور ان کے کئی جنگجو ہلاک ہوئے۔

    ترکی کے جنوب مشرقی شہروں میں کرد اکثریتی علاقوں میں عوام نے قسد کے حق میں مظاہرے کیے۔

    سانا کے مطابق شامی فوج نے ’صفیان‘ اور ’الثورة‘ آئل فیلڈز پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری پٹرولیم کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ذخائر کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

    شامی عبوری صدر احمد الشرع نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت پہلی بار کرد زبان کو ’قومی زبان‘ اور نوروز کو ’قومی تہوار‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شام میں مقیم تمام کرد باشندوں کو شہریت دی گئی ہے۔

    اربیل میں امریکی نمائندے ٹوم باراک اور قسد کے کمانڈر مظلوم عبدي نے ملاقات کی۔ اس موقع پر مسعود بارزانی نے زور دیا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے مکالمہ اور پرامن ذرائع اپنانا ضروری ہے۔

    ایس ڈی ایف کیا ہے؟

    شام

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایس ڈی اایف یا قسد (قوات سوريا الديمقراطية) اکتوبر 2015 میں قائم ہوئی۔ یہ فورس وائے پی جی اور وائے پی جے پر مشتمل ہے، جو کرد جماعت پی وائے ڈی کے عسکری ونگ ہیں، اور اس میں دیگر نسلی گروہوں کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ قسد شمالی و مشرقی شام کے خودمختار علاقوں میں غالب عسکری قوت ہے۔

    ترکی قسد کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتا ہے اور اسے پی کے کے کا تسلسل سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ میں قسد کو اپنا اہم اتحادی بنایا۔ قسد نے مارچ 2019 میں داعش کے خلاف فتح کا اعلان کیا۔

  13. تقریباً 1,500 فوجی منیپولس میں تعیناتی کے لیے تیار ہیں: امریکی حکام

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی دفاعی حکام کے مطابق تقریباً 1,500 فوجی منیپولس میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔ یہ فوجی اس وقت الاسکا میں موجود ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ انھیں فعال ڈیوٹی پر بھیجیں، کیونکہ سنیچر کے روز شہر میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا ان فوجیوں کو الاسکا سے بھیجا جائے یا نہیں۔

    ریاست منی سوٹا کے حکام نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران پُرامن اور منظم رہیں۔ یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب رواں ماہ کے آغاز میں ایک آئی سی ای اہلکار نے امریکی شہری رینی گُڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

    حکام کے مطابق یہ فوجی فورٹ وین رائٹ میں موجود 11ویں ایئر بورن ڈویژن کا حصہ ہیں۔

    گذشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے انسریکشن ایکٹ نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی، جو ایک کم استعمال ہونے والا قانون ہے اور اس کے تحت فعال فوجی اہلکاروں کو ملک کے اندر قانون نافذ کرنے کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔

    اسی دوران ایک امریکی وفاقی جج نے حکم دیا ہے کہ آئی سی ای اہلکار ’پُرامن‘ مظاہرین کے خلاف ہجوم کو قابو کرنے کی خاطر سخت اقدامات نہیں کر سکتے۔

    جج کیتھرین میننڈیز نے پہلے ہی فیصلہ دیا تھا کہ وفاقی اہلکار پرامن مظاہرین کو گرفتار نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان پر مرچوں کا سپرے کر سکتے ہیں، بشمول وہ افراد جو آئی سی ای اہلکاروں کی نگرانی یا مشاہدہ کر رہے ہوں۔

    ریاست کے گورنر ٹِم والز نے نیشنل گارڈ کو متحرک کر کے الرٹ پر رکھا ہے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی منیپولس میں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ آئی سی ای مخالف مظاہروں سے پہلے حالات قابو میں رکھے جا سکیں۔

    حالیہ مظاہرے آئی سی ای کی وسیع کارروائیوں کے بعد شروع ہوئے اور یہ رینی گُڈ کی سات جنوری کو موت کے بعد مزید شدت اختیار کر گئے۔

    شہری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ رینی گُڈ آئی سی ای کی سرگرمیوں کا قانونی مبصر کے طور پر موجود تھیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے انھیں ’مقامی دہشتگردی‘ قرار دیا ہے۔

    رینی گُڈ کی موت کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے، جہاں لوگ ’رینی کے لیے انصاف‘ جیسے نعرے والے پلے کارڈز اٹھائے نظر آئے۔

  14. امریکہ کے مجوزہ قبضے کے خلاف گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر

    ڈنمارک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد نے صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق منصوبوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

    اس وقت ڈنمارک کے کئی شہروں میں گرین لینڈ کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں وہ مقبول نعرہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ ’گرین لینڈ، گرین لینڈ کے عوام کا ہے‘۔

    ڈنمارک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

    ڈنمارک

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    یہ مظاہرے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گرین لینڈ کے مستقبل پر امریکی منصوبوں کے حوالے سے عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

  15. گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ اس ہفتے یورپی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے

    گرین لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یہ ہفتے کے آخر میں ٹرمپ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کریں گے، جہاں فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ کے رہنما بھی موجود ہوں گے۔ ان کے ساتھ نیٹو کے رکن ممالک جیسے کینیڈا، سپین اور بیلجیم بھی شریک ہوں گے۔

    یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر کچھ یورپی ممالک کو محصولات (ٹیرِف) کی دھمکی دی تھی۔

    ڈیووس ایک سالانہ تقریب ہے جہاں اعلیٰ سطح کے سیاستدان اور صنعت کے بڑے رہنما ’عالمی مسائل‘ پر گفتگو کرتے ہیں۔

    ٹرمپ بدھ کے روز فورم میں خطاب کریں گے، جس کا مرکزی موضوع اس سال یہ ہے: "ہم زیادہ متنازعہ دنیا میں کس طرح تعاون کر سکتے ہیں؟"

    یقیناً ایمانوئل میکرون، فریڈرش مرٹز اور اُرزولا فان ڈیر لاین جیسے رہنما یہ جاننے کے لیے بے چین ہوں گے کہ ٹرمپ اس موضوع پر کیا کہتے ہیں۔

  16. گرین لینڈ پر قبضے کی مخالفت، یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکی ’نا قابل قبول‘ قرار دے دی, ہنری آسٹیئر اور برنڈ دیبسمان جونیئر، وائٹ ہاؤس رپورٹر

    مظاہرہ کرنے والی لڑکی نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر تحریر ہے ’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی رہنماؤں نے گرین لینڈ پر قبضے کے مجوزہ منصوبے کے مخالف آٹھ اتحادیوں پر اضافی محصولات (ٹیرف) عائد کیے جانے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کی مذمت کی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے اس اقدام کو ’مکمل غلط‘ قرار دیا جبکہ فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اسے ’نا قابل قبول‘ کہا۔

    یہ تبصرے ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے جس کے مطابق ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے آنے والی مصنوعات پر یکم جنوری سے 10 فیصد محصول عائد کیا جانا ہے اور بعد میں اسے بڑھا کر 25 فیصد بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ اضافی ٹیرف اس وقت تک رہے گا جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

    ٹرمپ اصرار کرتے ہیں کہ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ گرین لینڈ امریکہ کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ وہ یہ علاقہ زبردستی چھین لینے کا امکان بھی رد نہیں کرتے۔

    ٹرمپ کی دھمکی کے بعد یورپی یونین نے اتوار کے روز بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں اجلاس طلب کیا۔

    اسی دوران امریکہ کے مجوزہ قبضے کے خلاف گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

    شمالی امریکہ اور قطب شمالی کے درمیان واقع گرین لینڈ کم آبادی والا لیکن وسائل سے مالا مال علاقہ ہے۔ کسی میزائل حملے کی صورت میں جلد انتباہ جاری کرنے اور بحری جہازوں کی نگرانی کے لیے یہ جگہ نہایت موزوں ہے۔

    ٹرمپ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ امریکہ یہ علاقہ حاصل کر کے رہے گا: ’آسان طریقے سے یا پھر مشکل طریقے سے۔‘

    یورپی ممالک ڈنمارک کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ خطے کی حفاظت نیٹو کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    فرانس، جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ نے بظاہر دیکھ بھال کے لیے محدود تعداد میں فوجی گرین لینڈ بھیجے ہیں۔

    سنیچر کے روز سماجی رابطوں کے اپنے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر نئے ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا تھا کہ یہ ملک ’بہت خطرناک کھیل‘ کھیل رہے ہیں اور ’ہمارے سیارے کی حفاظت، سلامتی اور بقا‘ داؤ پر لگ چکی ہے۔

    ٹرمپ نے تجویز دی کہ اِن ممالک سے امریکہ برآمد کی جانے والی مصنوعات پر اگلے ماہ سے 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے اور جون میں یہ اسے بڑھا کر 25 فیصد تک کر دیا جائے۔

    ٹرمپ کے مطابق ’یہ ٹیرف اس وقت تک لاگو رہے گا جب تک گرین لینڈ کو مکمل طور پر خریدنے کا کوئی معاہدہ نہ ہو جائے۔‘

    اس کے رد عمل میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ: ’نیٹو کی اجتماعی سلامتی کے لیے اقدامات کرنے والے اتحادیوں پر ٹیرف عائد کرنا مکمل طور پر غلط ہے۔ اس معاملے پر ہم براہ راست امریکی انتظامیہ سے بات کریں گے۔‘

    فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے کہا: ’اس معاملے پر ٹیرف کی دھمکی نا قابل قبول ہے۔ ہم کسی بھی ڈراوے میں نہیں آئیں گے۔‘

    سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے کہا: ’ہم خود کو بلیک میل نہیں ہونے دیں گے۔ سویڈن مشترکہ رد عمل تلاش کرنے کے لیے یورپی یونین کے دیگر ممالک، ناروے اور برطانیہ کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے۔‘

    یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان در لیین نے ایکس پوسٹ میں کہا: ’علاقائی سالمیت اور خود مختاری بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصول ہیں۔ محصولات خطے کے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گے اور صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔‘

    ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ٹرمپ کی دھمکی کو’حیران کن‘ قرار دیا۔

    یورپی پارلیمان کے جرمن رکن مینفریڈ ویبر کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے اس اقدام سے یورپ امریکہ تجارتی معاہدے پر سوال پیدا ہو گئے ہیں۔ اس معاہدے پر گزشتہ سال بات ہوئی تھی اور توثیق ہونا ابھی باقی ہے۔

  17. شام حملے میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والا شخص ہلاک: امریکی حکام کا دعویٰ, میکس ماٹزا، بی بی سی نیوز

    شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فوج کی کارروائیاں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ان کی فوج کی ایک کارروائی میں تین امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث القاعدہ کے ایک رہنما مارے گئے ہیں جو کہ شدت پسند گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ سے بھی ’براہ راست تعلق‘ رکھتے تھے۔

    ایک بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ جمعے کے روز شمال مغربی شام میں ہوئے اس حملے میں بلال حسن الجاسم مارے گئے ہیں۔

    بیان کے مطابق وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے اُس گروہ سے ’براہ راست منسلک‘ تھے جس نے امریکی اور شامی افراد کو قتل اور زخمی کیا۔

    بی بی سی آزاد ذرائع سے امریکی دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ: ’تین امریکیوں کے قتل میں ملوث ایک دہشتگرد کا مارا جانا اس عزم کا اظہار ہے کہ ہم ان دہشتگردوں کا پیچھا کرتے ہیں جو ہماری افواج پر حملے کریں۔‘

    ’جو بھی امریکی شہریوں یا فوجیوں پر حملہ کرے گا، حملے کی منصوبہ بندی کرے گا یا اس کی حوصلہ افزائی کرے گا ان کے لیے کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں۔ ہم آپ کو ڈھونڈ نکالیں گے۔‘

    13 دسمبر 2025 کو شام کے شہر پالمیرا میں تین امریکیوں کی ہلاکت کے بعد سے امریکہ شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہا ہے۔ اس آپریشن کو ہاک آئی سٹرائیک کا نام دیا گیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق شام میں اب تک امریکہ 100 سے زیادہ ٹھکانوں اور اسلحہ خانوں کو ہدف بنا چکا ہے۔

    اس ماہ کے اوائل میں سینٹکام نے کہا تھا کہ 20 دسمبر سے لے کر 29 دسمبر تک اس نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف 11 کارروائیاں کیں اور گروہ میں شامل 25 کارکنوں کو ہلاک یا گرفتار کیا۔

    ملک کو 13 سال تک تباہ کرنے والی خانہ جنگی دسمبر 2024 میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوئی، لیکن شام میں حالات بدستور نازک ہیں۔

    بشار الاسد کے اقتدار سے جانے کے بعد احمد الشرح صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ اپنے جنگی نام ابو محمد الجولانی سے بھی جانے جاتے ہیں۔

    نام نہاد دولت اسلامیہ شام میں کمزور تو ہو چکی ہے، لیکن ابھی تک فعال ہے اور 2025 سے شمال مغرب میں اُن فورسز پر حملے کر رہی ہے جن کی قیادت کرد جنگجوؤں کے پاس ہے۔

  18. کراچی کے گُل پلازہ میں آتشزدگی سے چھ افراد ہلاک، وزیرِ اعظم کا تاجروں کو ’ہر ممکن امداد‘ دینے کا حکم

    کراچی گُل پلازہ میں لگی آگ

    ،تصویر کا ذریعہQaisar Kamran

    کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں آتشزدگی سے چھ افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکام کو متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ’ہر ممکن امداد‘ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ گُل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اب تک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایک فائر فائٹر سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور ڈیڑھ درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ہلاک ہونے والے چھ افراد میں سے چار کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے مل جل کر کام کریں اور لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کے لئے تمام تر اقدامات لیے جائیں۔

    اتوار کو سندھ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صدر میں واقع 8000 مربع گز پر محیط گُل پلازہ میں لگنے والی ’آگ انتہائی شدید ہے اور اسے بجھانے کا عمل پورا ہونے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے اس واقعے میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آگ پر قابو پانے کے لیے 20 سے زیادہ فائر بریگیڈ ٹرک، واٹر باؤزرز اور سنارکلز موجود ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود ہیں۔

    حسان الحسیب کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ سے اس کے گرنے کا خدشہ بھی موجود ہے، اس وجہ سے ریسکیو آپریشن غیر معمولی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

  19. ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا اعتراف، امریکی صدر کو ذمہ دار ٹھہرا دیا, جیک برجس اور غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ مظاہروں میں ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا اعتراف کرلیا ہے، تاہم انھوں نے ہلاکتوں کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔

    سنیچر کو اپنے ایک خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ مظاہروں میں ہزاروں افراد مارے گئے اور ’کچھ ہلاکتیں انسانیت سوز، ظالمانہ انداز‘ میں ہوئیں۔

    امریکہ میں موجود ایرانی انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (HRANA) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں بد امنی کی وجہ سے 3090 ہلاکتیں ہوئیں ہیں جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کچھ ارکان یہ تعداد کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔

    حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کے سبب ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے حوالے سے واضح معلومات حاصل کرنا انتہائی مشکل تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایرانی مظاہرین سے اپیل کی تھی کہ وہ ’احتجاج جاری رکھیں‘ اور دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو مارا تو امریکہ فوجی کارروائی کرے گا۔

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ لوگوں کے سبب شدید نقصان ہوا ہے اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    ’ہم ان ہلاکتوں، نقصان اور ایرانی قوم کی رسوائی کے لیے امریکی صدر کو مجرم سمجھتے ہیں۔‘

    President Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیال رہے ایران میں گذشتہ برس 28 دسمبر کو معاشی بدحالی کے سبب احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے، جو دو ہفتوں سے زیادہ جاری رہے اور ان میں تشدد کا عنصر نمایاں تھا۔

    ان مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف جان لیوا طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ بی بی سی فارسی اور بی بی سی ویریفائی نے ایسی متعدد ویڈیوز کے درست ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    جنوب مغربی ایران کے شہر شیراز میں ایک خاتون نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز اب بھی موٹر سائیکلوں پر گشت کر رہی ہیں، تاہم حالات اب باقی معمول پر آ چکے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر ایرانی رہبرِ اعلیٰ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’امریکہ کا مقصد ایران کو نگلنا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے تاحال ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے بیان پر ردِعمل نہیں دیا ہے اور بی بی سی نے اس پر مؤقف جاننے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

    تاہم امریکی محکمہ خارجہ کا سنیچر کو کہنا تھا کہ انھوں نے ’اطلاعات سنی ہیں کہ ایران امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو ایران کو ’شدید طاقتور‘ ردِعمل دیا جائے گا اور تہران ’صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلے۔‘

  20. کراچی: گُل پلازہ میں لگنے والی آگ سے پانچ افراد ہلاک، ’آگ پر قابو پانے میں ایک، دو دن لگ سکتے ہیں‘

    Karachi Fire

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اب تک پانچ افراد کی ہلاکت اور 20 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    اتوار کو سندھ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ صدر میں واقع 8000 مربع گز پر محیط عمارتوں میں لگنے والی ’آگ انتہائی شدید ہے اور اسے بجھانے کا عمل پورا ہونے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے اس واقعے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آگ پر قابو پانے کے لیے 20 سے زیادہ فائر بریگیڈ ٹرک، واٹر باؤزرز اور سنارکلز موجود ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان، جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود ہیں۔

    حسان الحسیب کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ سے اس کے گرنے کا خدشہ بھی موجود ہے، اس وجہ سے ریسکیو آپریشن غیر معمولی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

Trending Now