،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قریب دو ماہ کرفیو، ہلاکتوں، فوج کے فلیگ مارچ اور ہزاروں گرفتاریوں کے باوجود عوامی غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔
،تصویر کا کیپشنگیارہ جون سے جاری اس عوامی تحریک میں پینتیس سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن میں سے متعدد کی حالات نازک ہے۔
،تصویر کا کیپشنسرینگر کے تمام بڑے ہسپتالوں میں روزانہ کم از کم سو زخمی بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں سرجری اور دیگر ضروریات کا سامان ختم ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتریپن دن سے مسلسل زندگی معطل ہے۔ مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیری لڑکوں کی ناراضگی کی وجوہات جاننے کے لیے ماہرین کے درمیان تضاد ہے۔ تاہم اکثر حلقے کہتے ہیں کہ نئی نسل تشدد، مار دھاڑ اور فوجی سائے کے درمیان پروان چڑھی ہے، لہٰذا وہ کافی ناراض ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیری عورتوں کو زبردست نفسیاتی چیلینج کا سامنا ہے، کیونکہ فورسز کارروائیوں میں اکثر کم عمر لڑکے مارے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزیراعلیٰ عمر عبداللہ بار بار نوجوانوں کو نوکریوں کی آفر دے رہے ہیں۔ لیکن سنگ باز نوجوان مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں حالات کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن تمام علیٰحدگی پسند قید ہیں اور سینکڑوں لڑکوں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں میڈیا پر پابندیوں کے خلاف مقامی صحافیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔