،تصویر کا کیپشنبرطانوی دارالحکومت لندن میں سنیچر سے شروع ہونے والے فسادات کا سلسلہ جاری ہے اور اب شہر کے متعدد علاقے اس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنان فسادات کو برطانیہ کی تاریخ کے بدترین فسادات میں شمار کیا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنسکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق فسادات کے دوران اب تک تین سو چونتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنوزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا کہ ٹوٹنہم سے شروع ہونے فسادات ناقابل قبول ہیں اور ان میں حصہ لینے والوں کو نتائج بھگتنے پڑیں گے
،تصویر کا کیپشنپیر کی رات اینفیلڈ، والتھم سٹوو، بارکنگ اور ایلنگ براڈوے میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آئے اور فسادات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا
،تصویر کا کیپشناینفیلڈ کے علاقے سولار وے میں سونی کمپنی کا ایک گودام، وولچ نیو روڈ میں ایک شاپنگ سنٹر، ایسٹ ہیم کے علاقے پلیشٹ گروو میں لکڑی کی ٹال کو بھی آگ لگا دی گئی
،تصویر کا کیپشنتین روز قبل شمالی لندن کے علاقے ٹوٹنھیم میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مارک ڈگن۔
،تصویر کا کیپشنفسادات کا سلسلہ ٹوٹنہم سے پھیل کر ہیکنی تک پہنچ گیا جہاں نوجوانوں کے گروہوں نے ایک الیکٹرانک سٹور کو لوٹ لیا۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کی ایک بڑی تعداد ہیکنی میں فسادات سے نمٹنے کے لیے موجود ہے۔
،تصویر کا کیپشننوجوانوں کے گروہوں نے سٹور کو لوٹنے کے بعد باہر کھڑی گاڑی کو نذر آتش کر دیا
،تصویر کا کیپشنہنگامہ کرنے والوں نے ٹوٹٹنہم اور ہیکنی میں کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکار ٹوٹنہم میں نذر آتش ہونے والی عمارت کے بار پہرہ دے رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفسادیوں نے پولیس کی گئی گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا
،تصویر کا کیپشنپولیس نے فسادیوں کو بھگانے کے لیے کتوں کا استعمال کیا۔
،تصویر کا کیپشننائب وزیر اعظم نک کلیگ نے شمالی لندن کے علاقوں کے دورے کے دوران لوگوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی۔