دلّی میں صوفی موسیقی کا فیسٹیول

بھارت کے دارالحکومت دلی میں صوفی موسیقی کا میلہ منعقد ہوا جس میں دنیا بھر سے آنے والے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تصاویر

بھارت کے دارالحکومت دلی میں دسواں صوفی میوزک فیسٹیول منعقد ہوا۔ جہان اے خسرو کے نام سے منقعد ہونے والا یہ فیسٹیول تین روز تک جاری رہا۔ فیسٹیول کے لیے دلی میں عرب کی سرائی کے کھنڈرات کا ایک دلکش سیٹ لگایا گیا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس فیسٹیول کا مقصد صوفی میوزک کے ذریعے امن کو فروغ دینا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے دارالحکومت دلی میں دسواں صوفی میوزک فیسٹیول منعقد ہوا۔ جہان اے خسرو کے نام سے منقعد ہونے والا یہ فیسٹیول تین روز تک جاری رہا۔ فیسٹیول کے لیے دلی میں عرب کی سرائی کے کھنڈرات کا ایک دلکش سیٹ لگایا گیا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس فیسٹیول کا مقصد صوفی میوزک کے ذریعے امن کو فروغ دینا ہے۔
اس فیسٹیول میں صوفی موسیقی کے تمام نمایاں گلوکار شریک ہوئے اور اس میں دنیا بھر کی صوفی موسیقی کو پیش کیا گیا۔اس فیسٹیول کو بھارتی فلم ساز مظفر علی نے ڈیزائن اور پیش کیا۔
،تصویر کا کیپشناس فیسٹیول میں صوفی موسیقی کے تمام نمایاں گلوکار شریک ہوئے اور اس میں دنیا بھر کی صوفی موسیقی کو پیش کیا گیا۔اس فیسٹیول کو بھارتی فلم ساز مظفر علی نے ڈیزائن اور پیش کیا۔
پاکستان کی ممتاز صوفی گلوکارہ عابدہ پروین گزشتہ دس سال سے صوفی فیسٹیول کا حصہ رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی ممتاز صوفی گلوکارہ عابدہ پروین گزشتہ دس سال سے صوفی فیسٹیول کا حصہ رہی ہیں۔
اس فیسٹیول میں گزشتہ دس سال سے مسلم اور دیگر ممالک سے آنے والے فن کار صوفی شاعری گا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس فیسٹیول میں گزشتہ دس سال سے مسلم اور دیگر ممالک سے آنے والے فن کار صوفی شاعری گا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
فیسٹیول میں شرکت کرنے والے فن کاروں نے صوفی موسیقی پر رقص بھی کیا۔ صدیوں سے صوفی بزرگ رومی، عمر خیام اور غزالی نے اسلامی ادب کے حوالے سے بہت زیادہ کام کیا۔ ان صوفی بزرگوں کا اثر نہ صرف مسلم دنیا پر ہے بلکہ مغربی فلسفیوں اور مصنفین پر بھی ہے۔
،تصویر کا کیپشنفیسٹیول میں شرکت کرنے والے فن کاروں نے صوفی موسیقی پر رقص بھی کیا۔ صدیوں سے صوفی بزرگ رومی، عمر خیام اور غزالی نے اسلامی ادب کے حوالے سے بہت زیادہ کام کیا۔ ان صوفی بزرگوں کا اثر نہ صرف مسلم دنیا پر ہے بلکہ مغربی فلسفیوں اور مصنفین پر بھی ہے۔
ابھرتی ہوئی فنکارہ اندرا نائیک نے فیسٹیول کے دوسرے روز اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کے گائے ہوئے صوفی کلام پر حاضرین جھوم اٹھے۔
،تصویر کا کیپشنابھرتی ہوئی فنکارہ اندرا نائیک نے فیسٹیول کے دوسرے روز اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کے گائے ہوئے صوفی کلام پر حاضرین جھوم اٹھے۔
رقاصہ ضیاء ناتھ نے صوفی میوزک اور کلام پر رقص کر کے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
،تصویر کا کیپشنرقاصہ ضیاء ناتھ نے صوفی میوزک اور کلام پر رقص کر کے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
اطلالوی بانسری نواز اینڈریو گریمنیلی نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے سے پہلے بانسری کی صوفی موسیقی میں اہمیت کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے بھارتی موسیقی، شاعری اور موسیقی کے آلات سے پیار ہے۔ بانسری کی ہندوستانی ثقافت میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور جہان اے خسرو اس فن کے مظاہرے کے لیے بہترین جگہ ہے۔
،تصویر کا کیپشناطلالوی بانسری نواز اینڈریو گریمنیلی نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے سے پہلے بانسری کی صوفی موسیقی میں اہمیت کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے بھارتی موسیقی، شاعری اور موسیقی کے آلات سے پیار ہے۔ بانسری کی ہندوستانی ثقافت میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور جہان اے خسرو اس فن کے مظاہرے کے لیے بہترین جگہ ہے۔