حکومت مخالف مہم، 19 جنوری بلاول لاہور سے آغاز کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 19 جنوری کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے فیصل آباد تک حکومت مخالف ریلی کی قیادت کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات پنجاب مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بتایا کہ بلاول بھٹو 17 یا 18 جنوری کو لاہور پہنچیں گے جہاں سے وہ 19 جنوری کو لاہور سے فیصل آباد تک کی ریلی کی قیادت کریں گے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید بتایا '19 جنوری سے فیصل آباد تک کی ریلی بلاول کی 27 دسمبر کو کی گئی تقریر کا تسلسل ہے۔ وہ راستے میں جگہ جگہ رک کر لوگوں سے خطاب کریں گے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین فیصل آباد میں دو روز قیام کریں گے جس کے دوران وہ جماعت کی مقامی لیڈرشپ سے ملاقاتیں کریں گے۔
اس سے قبل سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات اور بینظیر بھٹو کی حکومت میں وزیر اطلاعات رہنے والے خالد احمد خان کھرل نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سکونت اختیار کرنے اور اسی شہر سے سیاست کو آگے بڑھانے کے فیصلے کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں۔
اس فیصلہ کا اعلان بلاول بھٹو زرداری نے آٹھ دسمبر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا تھا۔
بدھ کو بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنوری سے لاہور میں رہائش رکھیں گے اور یہاں سے سیاست کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے بقول جب بھٹو اور لاہور اکٹھے ہوں گے تو زبردست سیاست ہوگی۔
لاہور پیپلز پارٹی کا سیاسی اور انتخابی قلعہ رہا تاہم سنہ 1990 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی اس شہر پر گرفت کمزور سے کمزور ہوتی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پیپلز پارٹی کے قائدین میں سے کسی نے لاہور میں قیام اور اسی شہر سے سیاست سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بینظر بھٹو نے صوبائی دارالحکومت لاہور سے انتخاب لڑا اور یہاں سے کامیابی حاصل کی۔
گڑھی خدا بخش میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے پاناما لیکس پر بل کی منظوری سمیت اپنے چار مطالبات پورے کروانے کے لیے ملک بھر کے دوروں کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو سیاسی لانگ مارچ کے لیے تیاری کرنے کا بھی کہا تھا۔
بلاول بھٹو زرادری نے وزیراعظم نواز شریف کی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ چار مطالبات کے لیے لانگ مارچ کرنا ہے اور اس کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب اپنے مطالبات کے لیے پورے ملک کا دورہ کروں گا اور تیار ہو جائیں۔ 'آپ تیار ہو جائیں اب میں غاصبوں کا قبضہ ختم کرنے اور جاتی امرا کی بادشاہت کے خاتمے کے لیے شہر شہر، گاؤں گاؤں جاؤں گا۔'
بلاول کے چار مطالبات یہ ہیں:
سابق صدر آصف زرداری کے دور میں اقتصادی راہداری پر ہونے والی اے پی سی کی قرار دادوں پر عمل ہونا چاہیے۔ پاناما لیکس پر پیپلزپارٹی کے بل کو منظور کیا جائے۔ فوری طور پر ملک میں مستقل وزیرخارجہ کو تعینات کیا جائے۔ پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو ازسر نو تشکیل دیا جائے۔










