جب پیپلز پارٹی ملی نون لیگ سے

پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی بقا کے لیے مل کر جد و جہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہباز شریف اور یوسف رضا گیلانی

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشنپاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مل کر قومی اسمبلی میں مضبوط حزبِ اختلاف بنانے کا دعویٰ کیا ہے
میٹنگ

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشنپاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ قومی اسمبلی میں حلف اُٹھایا جائے اور عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کو پارلیمنٹ سمیت دیگر فورم پر بھی اُٹھایا جائے گا
دو وزیرِ اعظم

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشندو وزیرِ اعظم: شاہد خاقان عباسی پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے ہاتھ ملاتے ہوئے
میٹنگ

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشنمتحدہ اتحاد: شہباز شریف دیگر رہنماؤں کو ایک نکتہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں
شیری رہحمان، ایاز صادق اور نوید قمر

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشنپاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ایم ایم اے کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر دیگر جماعتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ مرکز میں حکومت بنانے کی بھی پوزیشن میں ہیں
سعد رفیق اور قمر زمان کائرہ

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشنہاتھوں میں ہاتھ: خواجہ سعد رفیق اور قمر زمان کائرہ خوشگوار موڈ میں
شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمان

،تصویر کا ذریعہPMLN

،تصویر کا کیپشنسنجیدہ مسئلہ: شہباز شریف بڑے غور سے یوسف رضا گیلانی کی بات سن رہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان کسی گہری سوچ میں ہیں