ڈرون حملوں کی خبر، کوئٹہ میں تشویش

ڈرون حملے اب تک قبائلی علاقوں تک محدود تھے
،تصویر کا کیپشنڈرون حملے اب تک قبائلی علاقوں تک محدود تھے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ڈرون حملوں کے دائرے کو بلوچستان تک وسیع کرنے کی خبر پر مقامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ اس خبر کے رد عمل میں سینیئر صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ یہ امریکی کی غلط منصوبہ بندیوں کا تسلسل ہوگا جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شکست کے بعد اس خبر سے امریکہ کی بوکھلاہٹ ظاہر ہو رہی ہے۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ نے نیویارک ٹائمز کی اس خبر کو نمایاں جگہ دی ہے حالانکہ اس خبر کی امریکہ میں سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی اور پاکستان میں وزارتِ خارجہ نے اسے ایک افواہ قرار دیتے ہوئے تبصرے سے انکار کیا ہے۔

اس خبر کے بعد بلوچستان میں لوگوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان لوگوں کے مطابق امریکہ بلا وجہ اپنی نام نہاد جنگ کو پھیلا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آبادی کم ہے اور جن مقامات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے وہ چھوٹے چھوٹے دیہات ہیں جبکہ کوئٹہ اور اس کے مضافات میں آبادی کہیں زیادہ ہے

نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں بلوچستان میں کوئٹہ اور اس کے مضافات کا ذکر کیا ہے جہاں آبادی بیس لاکھ سے کہیں زیادہ ہے۔

اس خبر پر کالم نگار امان اللہ شادیزئی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کے حکام نے ایسے بیانات دیے ہیں کہ کوئٹہ اور اس کے مضافات میں طالبان موجود ہیں جو افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں اور اب امریکہ کی ایجنسیوں نے ہوسکتا ہے ان بیانات کی روشنی میں بلوچستان پر حملوں کی تجویز دی ہو۔

امان اللہ شادیزئی کے مطابق دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کو شکست ہو رہی ہے اور ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ نیٹو افواج کو درپیش مزاحمت میں کمی واقع نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکیوں کا خیال یہی ہے کہ شائد افغانستان میں حملوں کے پیچھے یہاں بلوچستان میں مقیم طالبان ہو سکتے ہیں اور اس پر شاید وہ کارروائی کرنا چاہتے ہوں۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا ان کے پاس ایسے واضح شواہد ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اب تک پاکستان کو کوئی شواہد نہیں دیے ہیں بس حملے کیے ہیں اور پاکستان نے کبھی اس پر مزاحمت یا ان کے خلاف کوئی بات تک نہیں کی ہے۔

گزشتہ سال اگست سے ڈرون حملوں میں شدت آ گئی تھی
،تصویر کا کیپشنگزشتہ سال اگست سے ڈرون حملوں میں شدت آ گئی تھی

نیویارک ٹائمز میں جن علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں کوئٹہ کے ارد گرد کے علاقوں کا ذکر ہے۔ اس بارے میں امان اللہ شادیزئی نے کہا کہ کوئٹہ کے مضافات میں اور کوئٹہ کے جنوب میں پہاڑی کا علاقہ، مشرق اور شمال میں پشتون آبادی والا علاقہ یہ علاقے امریکہ کا نشانہ ہو سکتے ہیں۔

اس بارے میں جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کو داڑھی پگڑی اور دین دار لوگوں کی تلاش ہے تو وہ بڑی تعداد میں بلوچستان میں موجود ہیں اور اگر ان لوگوں کی تلاش ہے جو دنیا اور عام انسانوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں وہ یہاں بلوچستان میں نہیں ہیں۔ ان سے جب پوچھا کہ اگر امریکہ یہ حملے کرتا ہے تو بلوچستان حکومت کی کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اسلام آباد میں ہیں اور ان کی اور وزیر اعلی کی ملاقات صدر آصف علی زرداری سے طے ہے جس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث لایا جائے گا جب کہ بلوچستان اسمبلی کے کل سے شروع ہونے والے اجلاس میں بھی اس مسئلے کو وہ اٹھائیں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ روز پہلے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کے لیے امریکہ بلوچستان کے شمسی فضائی اڈے کو استعمال کر رہا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ایسے واقعات پیش آ رہے تھے جن پر اس تشویش کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ اب بلوچستان میں قبائلی علاقوں یا صوبے سرحد کی طرح کے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان میں گزشتہ کچھ عرصہ میں کوئٹہ میں دھماکے ہوئے اس کے بعد ویڈیو شاپس کو نوٹس اور تحریک طالبان بلوچستان کے نام سے ذرائع ابلاغ کو ٹیلی فون موصول ہونا تھے۔ اگرچہ تحریک طالبان بلوچستان کے ترجمان نے پشین میں مولانا محمد خان شیرانی کے دورے کے دوران خودکش حملے کی مذمت کی تھی لیکن اس تنظیم کا نام ان ہی دنوں میں منظر عام پر آیا تھا۔