ڈیرہ بگٹی سرچ آپریشن جاری

بگٹی قبیلے کے جنگجو: فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنسوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بگٹی اور مری قبائل کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں

بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ بلوچ ریپبلکن پارٹی اور مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ فورسز نے گوڑی اور اوچ کے علاقوں میں بمباری کی اور بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کو گرفتار کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے بتایا ہے کہ فورسز کی کارروائی سترہ مارچ سے جاری ہے اور آج گوڑی کے علاقوں میں کارروائی کی گئی ہے جہاں سے اسی افراد کو اٹھایا گیا ہے جن میں سے چالیس کو کیمپ لے جایا گیا ہے اور بیس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔

سوئی سے بی آر پی کے رہنما فیصل بگٹی نے کہا بتایا ہے کہ اس کارروائی میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن انہیں کی تعداد کا علم نہیں ہے۔ انہوں گورنر اور وزیر اعلی سے اپیل کی ہے کہ وہ فوجی آپریشن تو نہیں رکوا سکتے لیکن کم از کم انہیں لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی اجازت دیں۔

گزشتہ روز سوئی میں اوچ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کیا تھا لیکن سرکاری سطح پر کسی گرفتاری یا ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ ان کی جھڑپیں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہوئی ہیں جس میں فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن کہیں سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

فرنٹیئر کور کے حکام کا کہنا ہے کہ سترہ مارچ کو سوئی میں ایف سی کے اہلکار دوران گشت لاپتہ ہو گئے تھے جن کی تلاش کے لیے علاقے کو گھیر میں لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق لاپتہ اہلکاروں کی تلاش کے لیے گھر گھر تلاشی لی جا رہی ہے لیکن اب تک کوئی گرفتاری نہیں گئی ہے اور نہ ہی کوئی ہلاکت ہوئی ہے۔