’آٹھ فیصد بچے خودکش حملہ کرنا چاہتے ہیں‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
بچوں کی نفسیات پر خودکش حملوں کے ہونے والے اثرات کے بارے میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سکول جانے والے آٹھ فیصد بچے ایسے ہیں جو خودکش حملہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسی فیصد بچوں میں خودکش حملوں سے متعلق آگاہی کا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا ہے۔
پشاور میڈیکل کالج کے فرسٹ ایئر کی پانچ طالبات ثناء سعید، مہوش پرویز، ندا خان، نادیہ نذیر اور زرشال ذاکر پر مشتمل ایک ٹیم نے خودکش حملوں کے بچوں کی نفسیات پر مرتب ہونے والے اثرات سےمتعلق پشاور کے بارہ نجی تعلیمی اداروں کے ایک سو انچاس طلباء و طالبات پر تحقیق کی ہے۔
اس ٹیم کی سربراہ ثناء نذیر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جن نجی تعلیمی اداروں میں اس موضوع پر طلباء و طالبات پر تحقیق کی ہے ان کی عمریں دس سے پندرہ سال کے درمیان تھیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق معاشی طور پر خوشحال گھرانوں سے تھا۔
ان کے بقول ان بچوں اور بچیوں سے خودکش حملوں کے حوالے سے جو تیس مختلف سوالات کیے گئے ان میں اسی فیصد لڑکے ایسے تھے جنہیں یہ پتہ تھا کہ خوکش حملہ ہوتا کیا ہے اور اس کے نتیجے میں کس قسم کا جانی اور مالی نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق جب ان کی اس آگاہی کے بارے میں مزید سوالات پوچھے گئے تو پتہ چلا کہ ان میں سے بہتر فیصد بچوں کو خودکش حملوں کی آگاہی میڈیا سے حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان بچوں اور بچیوں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ خودکش حملہ کرنا چاہیں گے تو ’حیران کن‘ طور پر آٹھ فیصد بچے ایسے تھے جنہوں نے جواب دیا کہ انہیں اگر موقع ملا تو وہ ایسا کریں گے۔
ثناء سعید کے مطابق ’جواب دینے والوں میں کوئی لڑکی بھی شامل نہیں تھی بلکہ سبھی لڑکے تھے جن میں سے زیادہ تر کی عمریں تیرہ اورچو دہ سال تھیں۔ وہ نظریاتی طور پر نہیں بلکہ اپنی ذاتی مسائل جیسے سکول نہ جانا یا کسی سے بدلہ لینے کاحل خوکش حملہ کرنے میں نظر آرہا تھا یعنی وہ اس بات کے قائل ہوچکے تھے کہ خودکش حملہ مسئلہ نہیں بلکہ مسئلے کا حل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ خودکش حملوں کی خوف سے بارہ فیصد بچے سکول، انہتر فیصد تفریح کے لیے پارک، بازار یا بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر جانا نہیں چاہتے، بتیس فیصد رات کو ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں اور باسٹھ فیصد بچے ایسے ہیں جنہیں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہوا ہوتا۔
اس کے علاوہ ثناء سعید کے مطابق آٹھ فیصد بچوں نے خودکش حملوں کی بعد کی صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور بائیس فیصد ایسے ہیں جن کے رشتہ دار ان حملوں میں زخمی ہوگئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















