فرقہ وارانہ قتل کی واردات، دو ہلاک

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارنہ تشدد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کو ہلاک کردیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں کشیدگی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شہر کے شمالی حصے میں واقع گلشن حمید کالونی میں پیش آیا۔دونوں میاں بیوی کا تعلق اہل تشیع مسلک سے بتایا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی موٹر سائیکل پر ایک دوست کے یہاں سے اپنے گھر واپس جارہے تھے۔
پولیس کے ایک اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ رات دو بجے کے قریب پیش آیا ہے لیکن پولیس کو کچھ دیر بعد ان کی لاشیں ان کے گھر کے سامنے والی گلی سے ملیں۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والا باکرجاوید پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک سرگرم کارکن بھی تھا تاہم اس قتل کا محرک فرقہ وارانہ معلوم ہو تا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ایف سی اور پولیس کی نفری میں اضافہ کردیاگیا ہے اور ڈیرہ سرکلر روڈ پر پولیس نے گشت شروع کردیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ شہر میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور شہر سے باہر تمام تھانوں سے ایس ایچ اوز سیمت پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سنی۔شیعہ فسادات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس وجہ سے اہل تشیع میں سے اہم لوگ ڈیرہ اسماعیل خان سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔گزشتہ چند مہینوں میں درجنوں خاندان ڈیرہ اسماعیل خان نقل مکانی کرچکی ہیں۔
















