عافیہ کیس: ’سفارتی کوششیں کی جائیں‘

سندھ ہائی کورٹ نے حکومت پاکستان کو ہدایت جاری کی ہے کہ امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کی وطن واپس کے لیے تمام سفارتی کوششیں کی جائیں اور پیروی کے لیے وکلاء کی ایک ٹیم مقرر کی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر سعید خان اور جسٹس ارشد سراج میمن پر مشتمل ڈویزن بینچ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے بچوں کی ملک واپسی اور ان کی بے حرمتی کے خلاف دائر تین درخواستوں کو سماعت کے بعد نمٹا دیا۔
عدالت نے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ اپنے تمام سفارتی کوششیں استعمال کر کے امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے کو ہدایت جاری کریں کہ کس طرح ڈاکٹر عافیہ اور ان کے بچوں کو وطن واپس لایا جاسکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے امریکی ہسپتال میں ڈاکٹر عافیہ کی مبینہ بے حرمتی میں ملوث چھ نقاب پوشوں کے خلاف امریکہ میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ وکلاء کی ایک ٹیم مقرر کی جائے جو وہاں جاکر پیروی کرے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کو اگر مالی معاونت کی ضرورت ہے تو حکومت ان کی مدد کرے۔
ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ ہر پینتالیس دن میں ممبر انسپیکشن ٹیم کے دفتر میں رپورٹ جمع کرائی جائے کہ حکومت نے کیا کوشش کی ہے اور اگر یہ رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی تو سندھ ہائی کورٹ از خود توہین عدالت کی کارروائی کرے گی۔
ہائی کورٹ میں دائر پٹیشنوں میں کہا گیا تھا کہ مارچ سنہ دوہزار تین کو ڈاکٹر عافیہ کو کراچی سے گرفتار کرکے غیر قانونی طریقے سے منتقل کیا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں وطن واپس لایا جائے اور اس کارروائی میں جو اہلکار ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بعد میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر عافیہ کی بے حرمتی کے انکشاف کے بعد اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے درخواست کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کو گزشتہ سال سترہ جولائی کو غزنی سےگرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔





















