’میرا بھائی ملک دشمن نہیں‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں فوج کی تحویل میں وکیل ندیم شاہ کے بھائی رضا شاہ کا کہنا ہے کہ اُن کے بھائی کبھی بھی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اور اُن کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کے بھائی اور اُن کے دوست لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیر کے فوج کی حراست میں ہونے کا علم اُس وقت ہوا جب پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ یہ دونوں افراد جاسوسی کے الزام میں فوج کی تحویل میں ہیں۔
رضا شاہ نے بتایا کہ گذشتہ ماہ کی تیس تاریخ کو ندیم شاہ اپنے دوست لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیر کے ہمراہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے وکیل سعالین مغل کے گھر رات کے کھانے کی دعوت پر گئے تھے کہ اُس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔
رضا شاہ جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے نےکہا کہ انہوں نے سمجھا کہ اُن کے بھائی اور اُن کے دوست کو اغواء برائے تاوان کے سلسلے میں اغواء کیا گیا ہے۔ تاہم بیس گھنٹے گزرنے کے بعد اور کسی کا بھی ٹیلی فون نہ آنے کی وجہ سے انہوں نے متعقلہ تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی جس پر پولیس نے اس ماہ کی چار تاریخ کو اغواء کا مقدمہ درج کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ ندیم شاہ اور لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیرکی گمشدگی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے راولپنڈی پولیس کے سربراہ کو جمعہ کے روز عدالت میں طلب کیا ہے۔
ریجنل پولیس افسر راولپنڈی ناصر خان درانی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اب یہ معلوم ہوگیا ہے کہ مذکورہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں اس لیے اس معاملے میں پولیس کا کردار ختم ہوجاتا ہے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا فوج سویلین کے خلاف بھی کارروائی کرسکتی ہے اس پر انہوں نے کہا کہ کارروائی کی جا سکتی ہے اور یہ قانون کے مطابق ہے۔ تو ان افراد کے اغواء کا جومقدمہ درج کیا گیا ہے اُس کی کیا حثیت ہوگی تو اس پر پولیس افسر ناصر خان درانی نے کہا کہ یہ مقدمہ خودبخود ہی ختم ہو جائے گا۔ رضا شاہ کا کہنا تھا کہ اُن کے بھائی پہلے ائرفورس میں پائلٹ تھے لیکن جب انہیں گراؤنڈ کیا گیا تو وہ بڑے دل برداشتہ ہوئے اور صحت کی خرابی کی بناء پر نوکری چھوڑ دی ۔اس کے بعد انہوں نے وکالت کا شعبہ اختیار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیر جو ملتان میں تعینات تھے، اُن کے ساتھ اُن کے بھائی کی دوستی پندرہ سال پرانی ہے۔
رضا شاہ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیر کا مذہب کی جانب جھکاؤ تھا اور انہیں فقہ پر عبورحاصل تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیر کے گھر متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے بدھ کے روز قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ ان افراد کے بارے میں مزید تفصیلات جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتائیں گے لیکن آج کے اجلاس میں انہوں نے ان افراد کی فوج کے حراست میں بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا۔





















