’حکومت پروپیگنڈہ کر رہی ہے‘

ملا فضل اللہ
،تصویر کا کیپشنملا فضل اللہ روپوش ہیں

تحریکِ طالبان سوات کے روپوش سربراہ ملا فضل اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ کہنا کہ طالبان کا مقصد شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ کچھ اور ہے محض ایک پروپیگنڈہ ہے۔

حکومت کے ساتھ معاہدے کے ٹوٹنے اور سوات میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد مقامی طالبان کے سربراہ کا باضابطہ مؤقف پہلی بار سامنے آیا ہے۔

کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر ملا فضل اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا نفاذ صرف کاغذوں تک محدود رہا اور اسے عملی طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ حکومت کا یہ کہنا محض ایک پروپیگنڈہ ہے کہ طالبان کا مقصد شریعت کا نفاذ نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بونیر، دیر اور سوات میں فوجی کارروائی کا آغاز صرف اس لیے کیا گیا ہے تاکہ صدر آصف علی زرداری دورۂ امریکہ کے موقع پر امریکی حکومت کو ’ایک تحفہ‘ پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مقتدر حلقے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ مل کر مسلمانوں بالخصوص پشتونوں کی نسل کشی کرکے ’پیسے‘ کمانا چاہتے ہیں۔

ملانافضل اللہ نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔

سوات میں حکومت اور کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی ناکامی کے بعد طالبان مسلسل حکومت کی جانب سے الزامات کی زد میں رہے ہیں۔

حکومت نے الزام لگایا تھا کہ طالبان شریعت کے نفاذ میں سنجیدہ نہیں ہیں اور معاہدے کے باوجود انہوں نے مختلف وارداتیں کرکے تقریباً ایک سو نوے مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔