سرحد دھماکوں کی زد میں، بارہ ہلاک ایک سو بیس زخمی

پشاور دھماکہ
،تصویر کا کیپشنپشاور دھماکہ شہر کے گنجان آباد علاقے میں ہوا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی ، دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

جمعرات کے روزصوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں چار بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں بارہ افراد ہلاک اور ایک سو بیس افراد زخمی ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے پشاور اور اس کے مضافات میں ہونے والے دو بم دھماکوں اور ایک مبینہ خودکش حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ دھماکوں کی وجہ سے درجنوں دکانوں، مکانات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

ادھرڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہوگئے۔

صوبہ سرحد میں دھماکوں کا آغاز پشاور شہر کے گنجان آباد اور تنگ علاقے کباڑی بازار سے ہوا جہاں شام پانچ بجے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں سے پورا شہر علاقہ لرز اٹھا۔ دھماکوں کے وقت وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نےدو ٹائم بم موٹر سائیکلوں پر نصب کیے تھے جو کباڑی بازار اور قریب ہی واقع قصہ خوانی بازار میں کھڑے کیےگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں دھماکے تقریباً پانچ منٹ کے وقفے سے پیش آئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں سے قریبی دکانوں میں آگ لگ گئی جس سے درجنوں دکانیں تباہ ہوگئیں جبکہ آس پاس موجود گاڑیوں اور اردگرد کے مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔

ادھر اس واقعہ کے بعد جائے وقوعہ کے قریب چند مسلح افراد اور پولیس کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں دو مسلح افراد ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سرحد پولیس کے سربراہ ملک نوید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ چند مبینہ دہشت گردوں نے قریبی عمارتوں میں پناہ لیکر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ ان کے مطابق پولیس کے جوابی حملے میں دو دہشت گرد ہلاک جبکہ دو کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس سربراہ نے بتایا کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حراست میں لیے جانے والے دہشت گرد کون ہیں اور ان کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

دریں اثناء پشاور کے نواحی علاقے متنی میں ایک مبینہ کار خودکش بم حملے میں کم سے کم دو اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شام اس وقت پیش آیا جب بارود سے بھری گاڑی میں سوار ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے سرہ خورہ کے مقام پر پولیس کی ایک وین کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں پولیس اہلکار احمد جان اور ایک نامعلوم راہگیر ہلاک ہوگئے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کے مطابق دھماکے میں سو سے زائد کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے تاہم قریب کوئی بڑی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تقریباً ایک گھنٹے کے وقفہ میں پشاور شہر کو دو اطراف سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے کچھ وقت کے لیے شہر میں افراتفری کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔ ان حملوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک نئی حکمت عملی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے دھماکے کیے گئے پھر وہاں حملہ آور بھی آس پاس موجود رہے جن کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

یاد رہے کہ پشاور میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہونے والا مجموعی طورپر یہ چھٹا دھماکہ تھا۔ اس سے پہلے کاکشال، پشاور صدر اور خیبر بازار میں تین دھماکے ہوئے تھے جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈیرہ اسماعیل میں ہونے والےخود کش حملے کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ تین ہلاک ہونے والے افراد میں ایک پولیس اہلکار جبکہ دو عام شہری شامل ہیں۔ سات پولیس اہلکار دھماکے میں زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے جمعرات کو رات آٹھ بجے کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے ایک چنگ چی رکشے میں ڈیرہ سرکلر روڈ پر واقعہ ایک پولیس ناکے کے قریب اس وقت ایک خودکش دھماکہ کیا جب پولیس اہلکار ناکے کے قریب لوگوں کی تلاشی لے رہے تھے۔

مقامی پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھما کے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔لیکن تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکے بھی لگائے ہیں اور شہر میں داخل ہونے والوں پر پولیس کی نظر ہے۔

یاد رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کو فرقہ وارانہ لحاظ سے حساس شہر تصور کیا جاتا ہے اور سنی شیعہ فسادت کے حوالے سے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں جن کے تحت پہلے سے ہی بنوں اور دیگر مقامات سے تین ہزار اضافی پولیس اہلکاروں کو ڈیرہ اسماعیل خان میں تعینات کیا گیا ہے۔