مینگورہ پر قبضے کےبعد کالام کی طرف پیش قدمی

مینگورہ سے شہریوں کی بہت بڑی اکثریت نقل مکانی کر گئی ہے اور شہر سنسان ہے۔
،تصویر کا کیپشنمینگورہ سے شہریوں کی بہت بڑی اکثریت نقل مکانی کر گئی ہے اور شہر سنسان ہے۔
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سوات آپریشن کے دوران مینگورہ شہر پر مکمل قبضہ کر لیا گیا ہے اور اب آپریشن کالام اور گلی باغ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں دو اہم کمانڈروں سمیت پچیس شدت پسند ہلاک ہو ئے ہیں۔

<link type="page"><caption> مینگورہ میں فوجی آپریشن کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090530_mingora_control_pics_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ نواگئی اور نجیگرام کے علاقے قبضے میں لینے کے بعد اب مینگورہ سے آگے کالام اور گلی باغ کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے اور قدم تک کے علاقے کو طالبان سے صاف کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیوچار میں شدت پسندوں کے استعمال میں پانچ سرنگیں دریافت ہوئی ہیں جس میں اسلحہ اور دیگر مواد برآمد ہوا ہے ۔ یہ سرنگیں سو فٹ لمبی اور بارہ فٹ چوڑی ہیں ۔

شدت پسندوں کی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں دو اہم کمانڈروں سمیت پچیس شدت پسند ہلاک ہو ئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کا تقریبا صفایاً کر دیا گیا ہے جبکہ اہم قیادت کا پیچھا جاری ہے اور وہ زیادہ دور نہیں ہیں۔

ترجمان کے مطابق اب تک کے آپریشن راہ راست میں ایک ہزار دو سو سترہ شدت پسند ہلاک جبکہ اناسی گرفتار ہوئے ہیں جبکہ اکاسی فوجی ہلاک اور دو سو پچاس زخمی ہوئے ہیں۔

میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق پیوچار میں شدت پسند کمانڈروں لال دین ' سید جلیل' اور میاں سید لائق کے تربیتی مرکز کو تلاشی کے بعد تباہ کر دیا گیا ہے۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ کالام کے قریب کچھ مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں ان میں ایک سویلین ڈرائیور شامل ہے۔

جنرل اطہر عباس نے کہا کہ دیر میں قمبر بازار کے مقام پر آپریشن کے دوران چھ شدت پسند ہلاک جبکہ کلائے ڈیرھی کے مقام پر اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کی گئی جس میں دس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ واڑی بازار سے تین افغانی گرفتار ہوئے ہیں۔ بونیر اور سلطان واس کے کچھ مقامات پر شدت پسندوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں دو اہم کمانڈر ابو سعید اور مصباح الدین سمیت آٹھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

اس اخباری کانفرنس میں موجود وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے تیس لاکھ افراد کی رجسٹریشن ہو گئی ہے اور ان افراد کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

پشاور سے ہمارے نمائندے دلاورخان وزیر نے اطاع دی ہے کہ ضلع سوات کے علاقے چارباغ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف متوقع کارروائی کی وجہ سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔

سوات میڈیا سینٹر کے مطابق چار باغ سے سنیچر کو لوگوں نے اس وقت نقل مکانی شروع کی جب سوات میڈیا سینٹر کی جانب سے چار باغ کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے اور نقل مکانی کرنے والوں کو خوزہ خیلہ کے راستے جانے کی ہدایت کی گی۔

مقامی لوگوں کے مطابق متوقع فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

سوات کے مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میڈیا سینٹر کی ہدایت کے بعد علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مینگورہ کے راستے بند ہونے کی وجہ سے عام گاڑیوں کی آمدورفت بند ہے اور چارباغ سے گاڑیوں کو مینگورہ کی جانب آنے نہیں دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پیدل نقل مکانی کرنا پڑ رہی ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ تحصیل خوزہ خیلہ کے علاقے چارباغ کی آبادی تقریباً پچاس ہزار بتائی جاتی ہے۔ جہاں پہلے سے ٹیلیفون اور بجلی معطل ہوچکی ہے۔ جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں سے رابطے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مینگور کے راستے بند ہونے کی وجہ سے لوگ پہلے خوزہ خیلہ کے راستے سے ضلع شانگلہ اور بعد ہزارہ ڈویژن جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔