بونیر: سرکاری ملازمین کی واپسی

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ملاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کے دوران ضلع بونیر بری طرح متاثر ہوا ہے لیکن اب اس علاقے میں آبادکاری شروع کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آج چالیس سے پچاس فیصد سرکاری ملازمین کام پر حاضر ہوئے ہیں۔
بونیر کا علاقہ سلطان واس شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اب انتظامیہ کے مطابق ضلع کا بیشتر علاقہ طالبان سے خالی کرا لیا گیا ہے اور لوگ واپس شہر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
بونیر کے ضلعی رابطہ افسر یحیٰی اخوندزادہ نے بتایا ہے کہ’ پیر کو چالیس سے پچاس فیصد سرکاری ملازمین دفاتر میں حاضر ہوئے ہیں جبکہ بیشتر نے ٹیلیفون پر اطلاع دی ہے کہ وہ راستے میں ہیں اور کسی وقت بھی پہنچ سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین بھی نقل مکانی کرنے والوں میں شامل ہیں اور ان کے ساتھ ان کے خاندان کیمپوں میں رہ رہے ہیں اس لیے ان کے لیے مشکل ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں کو ساتھ لائیں اور اپنے گھر دوبارہ آباد کریں۔
انہوں نے کہا کہ ضلع میں بجلی اور ٹیلیفون کا نظام خراب ہے سڑکوں اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے لیکن سلطان واس میں تباہی بہت ہوئی ہے۔ واپڈا کے اہلکار پہنچے ہوئے ہیں اور مرمت کا کام جاری ہے ۔
ضلعی رابطہ افسر نے مزید بتایا کہ ابھی تک انہوں نے غیر حاضر رہنے پر کسی سرکاری ملازم کو نوکری سے برطرف نہیں کیا ہے ’لیکن اگر اب ملازمین دفتر حاضر نہیں ہوئے تو سخت اقدامات کیے جائیں گے‘۔
صوبائی حکومت نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ تمام سرکاری ملازمین آج یعنی سوموار کے دن سے اپنے دفاتر میں حاضر ہو جائیں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بونیر کے ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ لوگ اب بھی واپسی کے بارے میں شش و پنج کا شکار ہیں ایک طرف طالبان ہیں جن کے بارے میں انہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ فرار ہوئے ہیں اور پھر کسی وقت بھی آ سکتے ہیں۔ فوج تو چلی جائے گی پھر وہ کیا کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سرکاری ملازم نے بتایا ہے کہ بازار اور دکانیں کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور آج سرکاری دفاتر بھی کھلے رہے ہیں لیکن بازار میں دکانیں کم کھلی تھیں جیسے بیس دکانوں میں ایک دکان کھلی ہے۔
بونیر کو دو حصوں یا دو وادیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ جنوبی وادی میں پولیس تھانہ نواگئی اور توتالئی کا علاقہ ہے جبکہ اوپر کی وادی میں پیر بابا اور ڈگر کے علاقے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق جنوبی وادی بالکل محفوظ ہے جبکہ اوپر کی وادی میں پیر بابا کے داخلی مقام تک علاقہ بالکل صاف ہے اسی طرح سوارئی بازار جو شہر کا اہم تجارتی مرکز ہے وہ کھل گیا ہے اور شہر کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔





















