بھارت بلاآخر مذاکرات پر رضامند

- مصنف, شاہ زیب جیلانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
شرم الشیخ سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے سے لگتا ہے جیسے پاکستان بھارت کو اپنے نقطہِ نظر پر لانےمیں کافی حد تک کامیاب ہوگیا۔ آٹھ ماہ کے مسلسل انکار کے بعد بِلا آخر بھارت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت بحال کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات توقع سے زیادہ طویل، خوشگوار اور تعمیری بتائی گئی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتفاق کیا کہ آگے بڑھنے کےلیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے اور یہ کہ مربوط بات چیت کا سلسلہ دہشتگردی کے خلاف کاروائی پر منحصر نہیں ہونا چاہیئے۔
پاکستان بھارت سے کافی عرصے سے کہتا رہا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے بات چیت کا سلسلہ نہیں ٹوٹنا چاہیے کیونکہ بقول پاکستان کے ایسا کرنا اُن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری نہیں چاہتے۔
بھارت کا اصرار رہا ہے کہ جب تک پاکستان ممبئی حلموں کے ذمہ داروں کے خلاف خاطر خواہ اور ٹھوس کاروائی نہیں کرتا، مذاکرات بے سود ہیں۔تو پھر بھارت کے رویے میں آج یہ لچک کیوں؟
اس کی ایک وجہ تو بظاہر بیرونی یا امریکی دباؤ ہو سکتا ہے۔ لیکن دوسری قدرے اہم وجہ بھارت کی داخلی سیاست ہو سکتی ہے ۔ بھارت میں کانگریس کی قیادت والی حکومت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات توڑنےکا فیصلہ ایسے حالات میں کیا تھا جب ملک کے اندر ممبئی حملوں میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے پر شدید غم و غصہ تھا۔ بھارت میں انتخابات ہونےجا رہے تھے اور سیاسی حکومت کے آگے شاید اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت ختم کرکے سختی سے نمٹا جائے۔ کچھ مہینے قبل کانگریس پارٹی کی دوبارہ انتخابی جیت سے بھارتی قیادت کو بظاہر نئی ہمت اور نیا حوصلہ ملا ہے جس سے وہ خطے کے بہتر مفاد میں ایسے فیصلے کر سکتی ہے جو بھلے فوری طور پر شاید زیادہ مقبول نہ سمجھے جائیں۔
پاکستان کے نقطہ نظر سے مشترکہ اعلامیے میں تنازعِ کشمیر کا ذکر شامل نہیں۔ وزرائے اعظم کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے وسیع تر دو طرفہ تعلقات پر بات کی۔اعلامیے کے مطابق، بھارتی وزیرِ اعظم نے کشمیر کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تمام دیرینہ معاملات کے حل کے لئے بات چیت کے لئے تیار ہے۔ یوں پاکستان کہہ سکتا ہے کہ کشمیر کا ذکر بل واسطہ نہیں تو بلا واسطہ بات چیت میں شامل رہا۔ جبکہ بھارت کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشمیر پر نہیں انسدادِ دہشتگری پر بات ہو ئی۔
یوں پاکستان میں بعض حلقے کہہ سکتے ہیں اگر بھارت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف انگلی اٹھانا ترک کردے تو پھر پاکستان بھی مسئلہ کشمیر پر شور مچانا چھوڑ سکتا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں نے دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا۔ اس ضمن میں پاکستان کی طرف سے باضابطہ طور پر بلوچستان میں بھارت کی مبینہ مداخلت کا معاملہ خاص طور پر اٹھایا گیا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستانی وزیرِ اعظم نے بھارتی وزیرِ اعظم سے کہا کہ ان کے پاس بلوچستان اور ملک کے مختلف علاقوں میں درپیش سکورٹی خطرات پر معلومات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسدادِ دہشتگری میں تعاون سے متعلق اس قسم کے اعلانات بھارت اور پاکستان پہلی بھی کر چکے ہیں۔ لیکن ایک دوسرے کی انٹیلیجنس ایجنسیوں پر روایتی شکوک اور باہمی عدم اعتمادی کی وجہ سے عملی طور اس جانب کبھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی اور نہ ہی جلد ہی کسی ٹھوس پیش رفت کے امکانات ہیں۔
شرم الشیخ کی اس اہم ملاقات میں بھارتی وزیرِ اعظم نے پچھلے سال نومبر کے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ پاکستانی وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت جو کچھ کر سکتی ہے تھی کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔
اس سلسلے میں پاکستانی وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کو پاکستان میں ممبئی حلموں کی تحقیقات سے متعلق تازہ ترین دستاویزات پیش کیں۔ پاکستان پہلے ہی کہ چکا ہے کہ ممبئی حلموں سے تعلق کے الزام میں پاکستان میں گرفتار کئے گئے پانچ ملزمان کے خلاف آئندہ ہفتے سے مقدمہ چلایا جائے گا۔
مجموعی طور پر شرم الشیخ میں پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات اور مشترکہ اعلامیہ سے دونوں ملکوں کے درمیان آٹھ مہینوں کی برف ضرور پِگھلی ہے۔ بھارت اپنے رویے میں جو لچک لایا ہے وہ کوئی قلابازی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر رویے کی بتدریج تبدیلی کا حصہ ہے۔ بھارت کی اس بظاہر لچک سے اب پاکستان پر امریکہ اور مغربی ملکوں کا دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف واضع اور ٹھوس کارروائی کرکے دکھائے۔ یوں ہو سکتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاک بھارت تعلقات کی بہتری کا زیادہ دارومدار اب بھارت سے زیادہ پاکستان پر ہو جائے۔




















