پی سی او مقدمہ:جنرل پرویز مشرف سپریم کورٹ طلب

سپریم کورٹ کےچودہ رکنی بینچ نےسابق صدر جنرل پرویز مشرف کو پی سی او مقدمے میں اپنا مؤقف بیان کرنےکےلیے29 جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں چودہ رکنی بینچ نے آج تین نومبر سن دو ہزار سات کو ایمر جنسی کے نفاذ پر بحث کی ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عدالت میں کسی ایسے شخص کی مذمت نہیں کی جا سکتی جو عدالت میں اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے موجود نہ ہو اور اس سے ان کی طرف بھی انگلی اٹھ سکتی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کے دو ججوں کی برطرفی کے خلاف دائر کردہ پٹیشن کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب اس کیس کی شنوائی کی جا رہی ہے تو کیا سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’کل کو قوم ہمارے پر انگلی اٹھائے گی کہ ان کا مؤقف سنے بغیر کیس کا فیصلہ کر دیا گیا۔‘
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اس طرح کے عدالتی فیصلوں کے قوموں کی زندگی میں اہم کردار ہوتا ہے اور اس لیے اس بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔
بدھ کے روز پٹیشن کی سماعت شروع ہوئی تو حامد خان ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے اس کیس کے حوالے سے مختلف نکات اٹھائے۔ جس پر چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس میں ماضی کے کچھ کیسوں کے حوالے دیتے ہوئے ہوئے ایڈووکیٹ حامد خان سے کہا کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ کیا عاصمہ جیلانی کیس ، فیروز خان نون ، اور فوجی فاؤنڈیشن کیسز میں دوسری پارٹیوں کو عدالت میں طلب کیا گیا تھا ۔
حامد خان ایڈووکیٹ اور ان کے ہمراہ موجود سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی عدالت کے سامنے کوئی واضح جواب نہیں دے پائے جس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ انھیں ایک وقفہ دیا جاتا ہے جس میں وہ ساتھیوں سے مشورہ کریں کہ آیا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو عدالت میں طلب کیا جا ئے یا نہیں ۔
عدالت نے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے کہا تو انہوں نے بتایا کہ ’ پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ جمہوری حکومت سابق دور حکومت میں تین نومبر دو ہزار سات کے ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا دفاع نہیں کرتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج انھوں نے اس بارے میں حکومت کا تحریری مؤقف بیان کرنا تھا لیکن انھوں نے چیف جسٹس کو اخبار پیش کردیے۔
عدالت نے کافی بحث کے بعد کہا ہے کہ یہ درست نہیں ہوگا کہ جنرل ریٹائر پرویز مشرف کو سنے بغیر ان پر بحث ہو اس لیے عدالت نے انھیں عدالت میں طلب کرنے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس پرویز مشرف کے پتے پر بھجوا دیا جائے اور مقدمے کی سماعت انتیس جولائی تک ملتوی کر دی۔
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ملک قیوم ایڈووکیٹ نے بعد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ احسن ہے کیونکہ جس شخص کا عدالت میں ذکر ہو رہا ہو وہ یا ان کا وکیل عدالت میں موجود ہونا چاہیے۔ ان سے جب پوچھا کہ کیا وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل کے طور پر پیش ہوں گے تو انھوں نے کہا کہ اگر انھیں کہا گیا تو وہ اس بارے میں سوچ کر بتائیں گے۔
ججوں کی نمائندگی کرنے والے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے بعد میں بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں اس طرح کے مقدمات میں فوجی حکام کو طلب نہیں کیا گیا تھا اس لیے آج عدالت ان کا مؤقف یہی تھا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو عدالت میں طلب کرنا ضروری نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو عدالت میں طلب کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ وہ یا ان کے وکیل عدالت میں صرف تین نومبر دو ہزار سات کو ایمر جنسی کے نفاذ کے فیصلے پر اپنا مؤقف بیان کریں گے۔
اس سے پہلے آج صبح حامد خان ایڈووکیٹ کے دلائل پر ججوں نے پوچھا کہ سابق دور میں وکلاء کی بھرتی پر کتنی رقم خرچ کی گئی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے۔





















