’عدلیہ کےخلاف مارشل لاء لگا‘

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم چودہ رکنی بینچ کی طرف سے عدالت میں حاضر ہونے کے نوٹس کے جواب میں بدھ کونہ تو سابق فوجی صدر پرویز مشرف خود اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوا ہے۔
سپریم کورٹ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ہائی کورٹ کے دوججوں کی برطرفی کے خلاف دائر کردہ درخو است کی سماعت کر رہی ہے۔ بدھ کو عدالت میں جب مقدمے کی کارروائی دوبارہ شروع کی تو جنرل ریٹائرڈ مشرف کی طرف سے نہ تو کوئی وکیل پیش ہوا اور نہ ہی وہ خود پیش ہوئے۔
سابق صدر کے دور میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والے ملک قیوم نے کہا کہ اس مقدمے کے سلسلے میں صدر مشرف نے ان سے رابط کیا تھا۔ ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ جنرل ریٹائرڈ مشرف ان ججوں کے سامنے پیش ہونا چاہتے تھے جنہوں نے ان کی طرف سے جاری کردہ عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھایا تھا۔
ملک قیوم نے کہا پرویز مشرف کی طرف سے اس خواہش کے اظہار کے بعد انہوں نے ان کی وکالت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
بدھ کو سماعت سے قبل سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے عدالت کے سامنے ایک تحریری درخواست دی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ سابق صدر جنرل مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے حوالے سے کچھ حقائق عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس تحریری درخواست میں کہا ہے کہ سابق صدر کو ان کے چیف جسٹس سے اچھے تعلقات ہونے کا علم تھا اور اس لیے ’اہلیت کیس‘ کے دوران صدر مشرف ان پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ چیف جسٹس کو ان کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کریں۔
سپریم کورٹ کے سنئیر وکیل حامد خان نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدمات کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کسی بھی فرد واحد کو آئین میں ترامیم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹکا اقبال کیس میں پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا وہ دراصل سابق صدر پرویز شرف کےتین نومبر کو قوم سےخطاب سے مطابقت رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالتی فیصلے میں سات پیراگراف عدلیہ کے خلاف چارج شیٹ تھے جس میں جوڈیشل ایکٹیوازم اور سوموٹو ایکشن لینے کی بات کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ پارلیمنٹ میں تین نومبر سنہدو ہزار سات کے اقدامات کے حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس پر اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ جس وقت یہ قرارداد پیش کی گئی تو وہ اُس وقت سینٹ کے رکن تھے اور انہوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔
چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ ٹکا اقبال کیس کے فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا وہ اب جج نہیں رہے جبکہ دوسری طرف ایک شخص کو یونیفارم میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔
حامد حان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف آئین میں دو سو ستر ٹرپل اے کا اضافہ کیا ہے وہ آئین کی دفعہ 238 اور 239 کی خلاف ورزی ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس چودھری اعجاز نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام آمروں کے اقدامات کی پہلے پارلیمنٹ نے توثیق کی تھی جس کے بعد وہ عدالت میں آتے تھے لیکن تین نومبر کے اقدامات کے بارے میں پارلیمنٹ نے تو توثیق نہیں کی البتہ سپریم کورٹ نے اُس کی توثیق کردی۔
حامد خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح کا واحد ادارہ ہے اور عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ بھی عدلیہ کی آزادی کے خلاف آئین میں کوئی ترمیم کرتی ہے تو سپریم کورٹ کے پاس اُس ترمیم کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق فوجی آمر نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کی جو وجوہات بیان کی تھیں اُس میں دہشتگردی میں اضافے کاذکر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران کسی بھی صوبائی حکومت یا حکومتی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جو شدت پسندی کی وارداتوں کو روکنے میں ناکام رہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تین نومبر کے اقدام کا مقصد عدالتوں کو نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ عدالتوں کے خلاف ماشل لاء لگایا گیا ہو۔
افتخار محمد چوہدری نے سیکرٹری داخلہ نے تین نومبر سے لیکر پندرہ دسمبر سنہ دوہزار سات تک ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی مکمل تفصلات طلب کر لی ہیں۔
حامد خان نے کہا کہ سابق صدر نے بی بی سی کو دیئے گیے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ اُن کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدا مات غیر ائینی تھے۔
بینچ میں شامل سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ ٹکا اقبال کیس پر حکومت کی پیروی کرنے والے وکلاء کو کتنی فیس ادا کی گئی جس پر حامد خان نے کہا کہ اگر عدالت اٹارنی جنرل کو ہدایات جاری کرے تو وہ اسبارے میں تمام تفصیلات عدالت کو بتاسکتے ہیں۔
عدالت نے حامد خان سے کہا کہ وہ جمعرات کو چائے کے وقفے تک اپنے دلائل مکمل کرلیں۔
سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ کے دو ججوں کی برطرفی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایش کے اس مقدمے نے سیاسی اور آئینی اعتبار سے بہت اہمیت اختیار کر لی ہے۔
یاد رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے چودہ رکنی بینچ میں کوئی بھی ایسا جج موجود نہیں ہے جس نے سابق صدر مشرف کی طرف سے جاری کردہ عارضی آئینی حکمنامے یا پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہو۔





















