فیصلے سے ایک سو جج متاثر

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ میں دو ججوں کی برطرفی اور پی سی او کے خلاف دائر درخواستوں پر دیے جانے والے فیصلے سے اعلیٰ عدالتوں کے ایک سو زیادہ جج متاثر ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے بارہ جج صاحبان اس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس قائم جان، جسٹس چوہدری اعجاز یوسف، جسٹس موسی کے لغاری، جسٹس چوہدری اعجاز یوسف، جسٹس میاں حامد فاروق، جسٹس سید زوار حسین جعفری، جسٹس ضیاء پرویز، جسٹس شیخ حاکم علی، جسٹس سید سخی حسین بخاری، جسٹس فرخ محمود اور جسٹس سردار محمد اسلم شامل ہیں۔
یہ جج صاحبان ہائیکورٹ واپس بھیجے جائیں گے جہاں یہ سپریم کورٹ میں آن سے پہلے فرائض انجام دہ رہے تھے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس ایم جاوید بُٹر کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔ مذکورہ جج صاحبان اُس بینچ میں شامل تھے جنہوں نے ایمرجنسی کو جائز قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والےجسٹس موسیٰ کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔اس بینچ میں دیگر دو جج صاحبان نے بھی پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا ان میں جسٹس سخی حسین بخاری اور جسٹس شیخ حاکم شامل تھے۔
لاہور ہائی کورٹ کے وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا اُن میں سید زاہد حسین، جسٹس میاں نجم الزمان، جسٹس مولوی انوارالحق، جسٹس نسیم سکندر، جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس محمد خالد علوی،جسٹس ایم بلال خان ( جسٹس بلال خان کو بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا) جسٹس فضل میران چوہان، جسٹس سید حامد علی شاہ، جسٹس سید سجاد حسین شاہ،جسٹس طارق شمیم، جسٹس سید اصغر حیدر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جن ججوں کو تین نومبر سنہ دوہزار سات کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا اُن میں جسٹس سیف الرحمن، جسٹس ظفر اقبال چوہدری، جسٹس علی حسن رضوی، جسٹس صغیر احمد، جسٹس خواجہ فاروق سعید، جسٹس اکرم قریشی، جسٹس خورشید انور بھنڈر، جسٹس محمد اشرف بھٹی، جسٹس مظہر حسین منہاس، جسٹس رانا زاہد محمود، جسٹس کاظم علی ملک، جسٹس حافظ طارق نسیم، جسٹس خلیل احمد، جسٹس ایم اے ظفر، جسٹس ملک سعید اعجاز، جسٹس شاہین مقصود رضوی، جسٹس علی اکبر قریشی اور جسٹس محمد احسن بھون شامل ہیں۔
بارہ ججوں کو دو مارچ سنہ 2009 کو غیر آئینی قرار دیئے جانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارش پر لاہور ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا ان میں جسٹس پرویز علی چاولہ، جسٹس حبیب اللہ شاکر، جسٹس نذیر احمد غازی، جسٹس عبدالستار گورائیہ، جسٹس سید احتشام قریشی، جسٹس جمیلہ جہاں نور،جسٹس محمد اختر خان، جسٹس جمشید رحمت اللہ، جسٹس پرویز عنایت ملک،جسٹس ارشد محمود، جسٹس سید ذوالفقار بخاری اور جسٹس عرفان قادر شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ جسٹس عرفان قادر ایمرجنسی کے خلاف ٹکا اقبال کیس میں مدعی کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے تھے اوراس درخواست پر غیر آئینی قرار دیئے جانے والے چیف جسٹس عبدلحمید ڈوگر نے ایمرجنسی اور پی سی او کو جائز قرار دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ میں تین نومبر سنہ دوہزار سات کے بعد اٹھارہ ججوں کو تعینات کیا گیا جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا اُن میں جسٹس رانا ایم شمیم، جسٹس خواجہ نوید احمد، جسٹس خالد علی قاضی، جسٹس آغا رفیق احمد خان، جسٹس سید پیر علی شاہ، جسٹس بنیامین، جسٹس ارشد نور، جسٹس مقبول احمد اعوان، جسٹس صفدر علی بھٹو، جسٹس محرم جی بلوچ، جسٹس ملک محمد عاقل، جسٹس سید شفقت علی شاہ، جسٹس مس صوفیہ لطیف، جسٹس محمد اقبال مہر، جسٹس خادم حسین ایم شیخ، جسٹس محمد اسماعیل بھٹو، جسٹس ارشد سراج میمن، جسٹس عامر رضا نقوی، جسٹس محمد کریم خان اغا شامل ہیں۔
نو جج جو ملک میں ایمرجنسی سے پہلے سندھ ہائی کورٹ میں جج تعینات تھے انہوں نے جنوری میں آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا۔ اُن میں جسٹس ایم افضل سومرو، جسٹس عزیزاللہ ایم میمن، جسٹس منیر احمد خان، جسٹس مسز یاسمین عباسی، جسٹس مسز قیصر اقبال، جسٹس علی سائیں دینو، جسٹس ندیم اظہر صدیقی، جسٹس سید محمودعالم رضوی، جسٹس عبدالرحمن فارق پیرزادہ شامل ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے گیارہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا اُن میں جسٹس ایم رضا خان، جسٹس جہاں زیب رحیم، جسٹس راج محمد، جسٹس سید معروف خان، جسٹس حامد فاروق درانی ، جسٹس غلام محی الدین ملک، جسٹس یحی زاہد گیلانی، جسٹس ضیاء الدین خٹک، جسٹس سید مصدق ایچ گیلانی، جسٹس شاہ جی رحمان خان اور جسٹس محمد عالم خان شامل ہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے تین نومبر کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھالیا تھا۔ اُن میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امان اللہ خان، جسٹس احمد خان لغاری، جسٹس اختر زمان ملغانی، جسٹس نادر خان درانی اور جسٹس مہتا کیلاش ناتھ شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مذکورہ ہائی کورٹ کے تمام ججوں کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں نے سپریم کورٹ کے اُس سات رکنی بینچ کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اُس فیصلے پر علمدرآمد نہیں کیا جس میں اعلی عدالتوں کے ججوں سے کہا گیا تھا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھائیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ جو تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جاری ہونے والے آرڈیننس کے تحت عمل میں لائی گئی اُن میں نو ججوں کو تعینات کیا گیا اور اُن تمام کی تعیناتیاں سنہ 2009 میں عمل میں لائی گئیں۔
ان میں جسٹس ایم بلال، جسٹس محمد منیر پراچہ، جسٹس ڈاکٹر ساجد قریشی، جسٹس قلب حسن، جسٹس راجہ سعید اکرم، جسٹس ارشد تبریز، جسٹس امجد اقبال قریشی، جسٹس رمضان چوہدری اور جسٹس انتخاب شاہ شامل تھے۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چودہ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جن ججوں کو فارغ کیا گیا اُن کو پینشن کی مراعات نہیں ملیں گی۔





















