گوجرہ: احتجاج، لاشیں دفنانے سے انکار

- مصنف, عبادالحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،گوجرہ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرہ میں سنیچر کو مسلم عیسائی جھگڑے میں سات عیسائیوں کی ہلاکت کے بعد شہر میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور رینجرز کے دستے شہر میں گشت کر رہے ہیں۔
ادھر مسیحی آبادی نے سنیچر کو مارے جانے والے افراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج نہ کیے جانے پر احتجاجاً لاشیں دفنانے سے انکار کر دیا ہے اور ہلاک شدگان کی لاشیں ریلوے ٹریک پر رکھ کر ریلوے ٹریفک بھی معطل کر دی ہے۔
<link type="page"><caption> گوجرہ میں مسلم عیسائی جھگڑا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090801_christian_muslim_clash_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
سنیچر کو ہلاک ہونے والے افراد میں ایک ہی خاندان چھ ارکان شامل ہیں جن میں دو خواتین اور دو بچے بھی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والا ایک حمید نامی شخص گولی کا نشانہ بنا جبکہ حکام نے بقیہ افراد کی ہلاکت کی وجہ بیان نہیں کی ہے۔
اتوار کو ہلاک شدگان کے جنازوں کے موقع پر علاقے میں سوگ کا سماں ہے جبکہ بازار اور مارکیٹیں بند ہیں۔ اس موقع پر متاثرہ بستی کے رہائشیوں نے حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ احتجاج میں شریک مسلم لیگ نون کے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور طاہر خلیل سندھو نے کہا ہے کہ جب تک ان ہلاکتوں کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی احتجاج جاری رہے گا۔
پنجاب کے وزیرِ بدلیات دوست محمد کھوسہ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے گوجرہ پہنچے ہیں جبکہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس کو مقدمے کی درخواست وصول ہوگئی ہے جس پر جلد کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کی بھاری نفری تاحال متاثرہ آبادی کے باہر موجود ہے جبکہ گوجرہ شہر میں رینجرز کے دستے گشت کر رہے ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں پر کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی گئی اور انتظامیہ کی جانب سے بر وقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو گوجرہ کے اس متاثرہ گاؤں میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف نکالے جانے والے جلوس پر فائرنگ کی اطلاعات کے بعد مشتعل ہجوم نے عیسائیوں کی بستی پر دھاوا بول دیا تھا اور دو درجن سے زائد گھر نذرِ آتش کر دیے تھے۔ ان پرتشدد واقعات میں ابتدائی طور پر تین عورتوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ حکام نے جلنے والے گھروں سے مزید لاشوں کی برآمدگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
یاد رہے کہ سنیچر کی رات وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گوجرہ میں ہونے والے حملے میں چالیس گھر جلا دیے گئے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں وہ عناصر شامل ہیں جو مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی نشاندہی کرنا قبل از وقت ہے۔ ’یہ وہ لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ امن ہو‘۔
ادھر صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی وجوہات معلومات کرنا چاہتے تھے اور یہ جاننا چاہتے تھے کہ اسے کیسے روکا جا سکتا تھا اور کیا انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ انہوں متاثرین، عام لوگوں اور انتظامیہ کا جن میں پولیس کے اعلیٰ حکام شامل ہیں موقف سنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پہلے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور زیادہ تشویش محسوس نہیں کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور مقامی ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا اور واقعے کے ذمہ دار افراد میں سے چار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہ جو لوگ اس واقعے کے ذمہ دار ہیں ان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کے بارے میں کسی کو ابہام نہیں ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اتوار کو ہلاک ہونے والے افراد کے جنازوں کے بعد انتظامیہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے ’کریک ڈاؤن‘ کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ مقامی واقعے کے لیے مقامی انتظامیہ کی نااہلی ہو سکتی ہے لیکن بدنیتی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نا اہلی ہوئی ہے اس کی سزا دی جائے گی۔
مزید عیسائی مسلم فسادات کے خدشات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کو خارج از امکان تو قرار نہیں دیا جا سکتا اور ان تمام اضلاع میں جہاں عیسائی آبادی موجود ہے انتظامیہ کو سکیورٹی کے مکمل انتظامات کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر اس طرح کے واقعات کا خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی پہلے کبھی ہوا ہے بس اکا دکا واقعات ہو جاتے ہیں۔



















