پاکستانی عدلیہ اور پی سی او

جنرل مشرف نے اپنے دور میں پی سی او کا بے دریغ استعمال کیا
،تصویر کا کیپشنجنرل مشرف نے اپنے دور میں پی سی او کا بے دریغ استعمال کیا

سپریم کورٹ کی جانب سےجنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے متعلق حالیہ فیصلے کو بڑی پذیرائی ملی ہے اور اسے تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔ اگر پچھلے دس سالوں کی سیاسی اور عدالتی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس فیصلے کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

14 اکتوبر 1999ء

پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف ایمرجنسی نافذ کرکے ملک کے آئین کو معطل کردیتے ہیں اور پورے ملک کو پاکستان کی مسلح افواج کے کنٹرول میں لے آتے ہیں۔

ایمرجنسی نافذ کرنے کے فوری بعد جنرل پرویز مشرف اپنا پہلا پی سی او جاری کرتے ہیں اور اس کے تحت خود چیف ایگزیکٹو پاکستان قرار دیتے ہیں۔

25 جنوری 2000

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی اقتدار پر فوج کے قبضے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیتے ہیں اور سماعت آئندہ ہفتے یعنی اکتیس جنوری کی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔

وہ یہ کہتے آرہے تھے کہ فوج کے اقتدار میں آنے کے باوجود ملک کا آئین برقرار ہے اور اعلی عدالتوں کے ججوں کو نیا حلف لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

26 جنوری 2000

پاکستان کے فوجی سربراہ اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف سپریم کورٹ اور چاروں صوبائی ہائی کورٹوں کے ججوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ ان کے جاری کردہ پی سی او کے تحت نیا حلف لیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی یہ کہہ کر حلف لینے سے انکار کردیتے ہیں کہ وہ پی سی او کے تحت حلف نہیں لے سکتے کیونکہ انہوں نے 1973ء کے آئین کے تحت حلف لیا تھا اور وہ اسی کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے پانچ مزید جج جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس وجیہ الدین احمد، جسٹس مامون قاضی، جسٹس خلیل الرحمن خان اور جسٹس کمال منصور عالم بھی پی سی او کے تحت حلف لینے کی پیشکش ٹھکرادیتے ہیں۔

ادھر جسٹس ارشاد حسن خان پی سی او کے تحت حلف لیکر چیف جسٹس سپریم کورٹ کا عہدہ پاتے ہیں۔

جنرل مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا
،تصویر کا کیپشنجنرل مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا

پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس سردار محمد رضا، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس ناصر الملک سمیت گیارہ جج صاحبان پی سی او کے تحت حلف لیتے ہیں۔ دو انکار کردیتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس چوہدری اعجاز احمد سمیت اکتالیس جج پی سی او کے تحت حلف اٹھاتے ہیں اور دو جج انکار کردیتے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس غلام ربانی اور جسٹس سرمد جلال عثمانی سمیت انیس جج صاحبان پی سی او کے تحت حلف لیتے ہیں جبکہ تین جج یہ پیشکش ٹھکرادیتے ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ وہ واحد عدالت تھی جہاں چیف جسٹس (موجودہ چیف جسٹس سپریم کورٹ) افتخار محمد چوہدری سمیت تمام کے تمام پانچوں جج صاحبان جنرل مشرف کے پی سی او کے تحت حلف لیتے ہیں۔

ان میں سپریم کورٹ کے موجودہ جج صاحبان جناب جسٹس جاوید اقبال اور جناب جسٹس راجہ فیاض احمد بھی شامل تھے۔

12 مئی 2000

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں قائم گیارہ رکنی بینچ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے، ایمرجنسی کے نفاذ، ان کے نافذ کردہ پی سی او اور اعلی عدلیہ کے ججوں کے پی سی او کے تحت حلف لینے کے خلاف دائر سات آئینی درخواستوں کا فیصلہ سناتی ہے۔ بینچ میں (موجودہ چیف جسٹس) جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی شامل ہیں۔

بینچ جنرل پرویز مشرف کے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے، ایمرجنسی نافذ کرکے آئین کو معطل کرنے اور پی سی او کے نفاذ کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیتی ہے اور ’ریاستی امور چلانے اور لوگوں کے مفاد میں‘ اٹھائے گئے تمام اقدامات کی توثیق کرتی ہے۔

بینچ کے بقول جنرل پرویز مشرف نے ماورائے آئین طریقے سے جائز طور پر ریاست اور عوام کے مفاد میں اقتدار سنبھالا۔

بینچ اعلی عدالتوں کے ججوں کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے عمل کا دفاع کرتے اپنے فیصلے میں لکھتی ہے۔ ’اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا اولین فریضہ ریاست کے عدالتی ستون کو بچانا ہے اور یہی کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔عدلیہ کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ جج عدالتوں کو بند کرنے میں آلہ کار بن جائیں۔ اور درحقیقت ثانی الذکر عمل سب سے زیادہ قابل نفرت ہوتا۔۔۔اس نے قانون کے نفاذ، امن عامہ برقرار رکھنے کی غرض سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد فراہم کرنے، جمہوری اداروں کی بحالی اور استحکام اور پاکستان کے عوام کو ان کے آئینی حقوق کی ضمانت دینے کے لئے پی سی او کے تحت حلف لیا۔‘

عدالت اپنے فیصلے میں جنرل پرویز مشرف کو اپنے اعلان کردہ مقاصد کی تکمیل کے لئے آئین میں ترمیم کرنے کا مشروط اختیار بھی دیتی ہے (بشرطیکہ اس بارے میں آئین کوئی حل پیش کرنے میں ناکام ہو اور انہیں ہدایت کرتی ہے کہ وہ بارہ اکتوبر 1999ء کے بعد تین سال کی مدت ختم ہونے سے نوے دن پہلے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے انتخابات کرائیں۔

جبکہ ان ججوں کے بارے میں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا یا جنہیں اس کی دعوت ہی نہیں دی گئی، بینچ نے قرار دیا کہ ’ڈاکٹرائن آف پاسٹ اینڈ کلوزڈ ٹرانزیکشن کے تحت ان کے کیسز کو ری اوپن نہیں کیا جاسکتا۔‘

27 اپریل 2002

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد کی سربراہی میں قائم بینچ نے (جس میں جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی شامل تھے۔) آے آر ڈی کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد سمیت دوسرے افراد اور تنظیموں کی جانب سے داخل کردہ آئینی درخواستیں مسترد کردیتی ہے۔

ان درخواستوں میں جنرل پرویز مشرف کے صدر رفیق تارڑ کو برطرف کرکے خود عہدہ صدارت سنبھالنے اور صدارتی ریفرنڈم کرانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت قرار دیتی ہے کہ چیف ایگزیکٹو (جنرل پرویز مشرف) کی جانب سے صدر رفیق تارڑ کی برطرفی اور عہدہ صدارت سنبھالنے کے احکامات پی سی او کے مطابق حاصل اختیارات کے تحت جائز طور پر جاری کئے گئے ہیں جسے (پی سی او) کو عدالت پہلے ہی جائز قرار دے چکی ہے۔

صدر مشرف کے ریفرنڈم کرانے کے فیصلے کے بارے میں عدالت فیصلے میں کہتی ہے کہ یہ حکم چیف ایگزیکٹو اور صدر پاکستان نے انہیں عدالت کی جانب سے دیئے گئے اختیارات کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

7 اکتوبر 2002

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شیخ ریاض احمد، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس ناظم حسین صدیقی، جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس قاضی محمد فاروق پر مشتمل بینچ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے آئین میں ترامیم کی غرض سے متعارف کرائے گئے لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) 2002 کے خلاف دائر وطن پارٹی کی جانب سے داخل ایک آئینی درخواست کا فیصلہ سناتی ہے۔

جس میں عدالت قرار دیتی ہے کہ ’چیف ایگزیکٹو نے اپنی مدد اور رہنمائی کے لئے کئی ادارے قائم کئے اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور خاص کر سیاسی کلچر کو مد نظر رکھتے ہوئے آئینی ترامیم پر مبنی بعض پیکجز کا اعلان کیا اور طویل مباحثوں کے ذریعے عوام اور دانشوروں کی رائے حاصل کی اور اس کے نتیجے میں بالآخر ایل ایف او 2002 جاری کیا گیا۔‘

عدالت کے مطابق ایل ایف او نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کو بحال کیا جو میاں نواز شریف نے تیرھویں ترمیم کے ذریعے ختم کردیا تھا۔ ’درحقیقت آرٹیکل 58 ٹو بی نے مارشل لاء کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے۔۔۔۔۔آرٹیکل 58 ٹو بی کو مارشل لاء کے نفاذ کے خلاف سیفٹی وال بتایا گیا۔‘

3 نومبر 2007ء

ملک کے فوجی سربراہ اور صدر جنرل پرویز مشرف ایمرجنسی لگاکر آئین پاکستان کو ایک بار پھر معطل کردیتے ہیں اور اپنے دور اقتدار کا دوسرا پی سی او نافذ کرتے ہیں جس کے تحت اعلی عدالتوں کے ججوں کو برطرف کرنے کے علاوہ نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کو بند کرادیتے ہیں۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا جاتا ہے جب سپریم کورٹ صدر مشرف کے فوجی وردی میں دوسری مدت کے لئے صدارتی انتخاب لڑنے کی اہلیت کے متعلق درخواستوں کی سماعت کررہی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سات رکنی بینچ ایک حکم جاری کرکے صدر اور وزیر اعظم کو عدلیہ کی آزادی کے منافی کوئی بھی اقدام اٹھانے سے منع کرتی ہے اور اعلی عدالتوں کے ججوں کو بھی ہدایت کرتی ہے کہ وہ کسی بھی (نئے) پی سی او یا ماورائے آئین اقدام کے تحت حلف نہ لیں۔

لیکن معزول ہونے والے ججوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا جاتا ہے۔

جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت سپریم کورٹ کے چار معزول جج جنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھالیتے ہیں۔

جسٹس عبدالحمید ڈوگر چیف جسٹس کا عہدہ پاتے ہیں۔

22 نومبر 2007

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ جنرل پرویز مشرف کے دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہونے کے خلاف دائر درخواست رد کردیتی ہے۔

اس سے تین دن پہلے ہی سپریم کورٹ پانچ درخواستیں رد کرچکی تھی جس میں فوجی صدر کی انتخاب لڑنے کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

31 جولائی 2009

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم چودہ رکنی بینچ تین نومبر 2007 اور اس کے بعد مقرر ہونے والے ججوں کی تقرری سے متعلق سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ایک وکیل کی درخواستوں پر فیصلہ سناتی ہے۔

بینچ میں گیارہ ایسے ججز ہیں جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا۔

بینچ اپنے فیصلے میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نافذ کردہ دوسری ایمرجنسی اور ان کے جاری کردہ دوسرے پی سی او کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیتی ہے اور جنرل پرویز مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بطور چیف جسٹس تقرری اور اسکے تحت حلف اٹھانے والے دوسرے ججوں کے تقرر کو بھی غیر آئینی قرار دیتی ہے۔

چودہ رکنی بینچ بارہ اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرکے آئین کو معطل کرنے کے بارے میں مختلف رائے دیتے اسے جمہوری عمل پر حملہ قرار دیتی ہے۔ تین نومبر 2007ء کے بعد کے واقعات کا ذکر کرتے بینچ نے اپنے فیصلے میں اس بات کو افسوسناک قرار دیا کہ ’بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت تمام پانچوں نے (دوسرے پی سی او کے تحت جاری ہونے والے) اوتھ آف آفس (ججز) آرڈر 2007ء کے تحت حلف اٹھالیا۔‘

بینچ جنرل پرویز مشرف کے 1999 اور 2007 کے آمرانہ اقدامات کے بارے میں اپنے فیصلے میں مزید کہتی ہے کہ ’1999/2000 میں جنرل پرویز مشرف نے قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں، سینٹ، چئرمین، ڈپٹی چئرمین سینٹ، اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکرکو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور وزیر اعظم، وفاقی وزراء، پارلیمانی سیکرٹریوں، صوبوں کے گورنروں اور وزرائے اعلی اور ان کے مشیروں کو کام کرنے سے روک دیا تھا لیکن ان کے نومبر 2007ء کے اقدامات اپنی نوعیت میں اس لحاظ سے منفرد تھے کہ اس میں عدلیہ پر حملہ کیا گیا تھا۔‘