لاپتہ، یومِ آزادی پر احتجاجی کیمپ

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ملک گیر مہم چلانے والی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر احتجاجی کیمپ لگانے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کے روز اسلام آباد پریس کلب میں اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آزادی کا جشن منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن ملک حقیقت میں اس وقت آزاد ہو گا جب حکمران عوام کی قدر کرنا شروع کریں گے اور مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے لوگوں کو غائب کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی سینکڑوں خاندان اپنے لاپتہ پیاروں کی تلاش میں ہیں اور سالوں سے ان کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ ’اس طرح کے حالات میں اس وقت تک آزادی کا جشن نہیں منایا جا سکتا ہے جب تک ہمارے پیاروں کو بازیاب نہیں کروایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے نیوز کانفرس میں اعلان کیا کہ یوم آزادی کے موقع پر جمعرات کی رات اسلام آباد پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے اہلخانہ احتجاجی کیمپ لگائیں گے۔
آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی رات پاکستان کے پرچم کے سامنے موم بتیاں جلا کر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دعا کی جائے گی اور یہ احتجاج چودہ اگست کی صبح تک جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے پہلے پانچ خواتین سمیت چھ سو پچاس افراد غائب تھے جن میں سے ایک سو پچاس کو رہا کیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں مزید ایک سو چھ افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں چوالیس خواتین سمیت سات سو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جن کے بارے میں مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
آمنہ مسعود ججنوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد میں سے اکثریت اپنے گھروں کے واحد کفیل تھے جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ شدید معاشی مسائل سے دوچار ہو چکے ہیں اور فاقوں پر مجبور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















