’فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے‘

کشمیر اسمبلی
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں گلگت اور بلتستان کو صوبے کا درجہ دیے جانے پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے
    • مصنف, ذوالفقار علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد

حکومت پاکستان کی طرف سے اس کے زیر انتظام شمالی علاقہ جات ( گلگت بلتستان ) میں صوبائی حکومت قائم کرنے کے فیصلے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے مخالفانہ رد عمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ وہ اس حق میں ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی حقوق دئے جائیں اور ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے یکطرفہ طور پر وزیر اعلیٰ اور گورنر کی اصطلاح استعمال کرنے سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ شمالی علاقہ جات یا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کی سازش کا تاثر مل سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس کے متقبال کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر فرنٹ یا جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے حکوت پاکستان کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے آپ کو بھارت کی سطح پر لے آیا ہے۔

سردار عتیق

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کا موقف ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان نے عملاً کشمیر کو اپنا حصہ بنایا اور ریاست کشمیر کو عملی طور پر تقسیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کی ہر سطح پر مزاحمت کریں گے۔

کشمیر کے اس علاقے کی جماعت اسلامی کے سابق سربراہ اعجاز افضل کا موقف بھی کوئی مختلف نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان میں ایک صوبائی حکومت قائم کرنے کے فیصلے کو تقسیم کشمیر کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے۔

ان کا حکومت پاکستان کی بدنیتی اس بات سے واضع ہوتی ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل کشمیری قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔

اسی دوران کشمیر کے اس خطے میں راولاکوٹ کے علاقے میں بعض خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں نے پاکستان کی طرف سے شمالی علاقہ جات میں ایک صوبائی حکومت قائم کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔