پاکستان مسئلہ حل کرے: ایرانی اپیل

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ایرانی وزیر داخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے کہا ہے کہ گزشتہ اتوار کو ایران میں ہونے والے خود کش حملہ میں جُنداللہ ملوث ہے اور ان کے پاکستان میں نیٹ ورک ہونے کے ثبوت وہ پاکستان ساتھ لائے ہیں۔
<link type="page"><caption> پاکستانیوں کی لاشیں وطن واپس</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/10/091023_iran_bodies.shtml" platform="highweb"/></link>
مصطفیٰ نجار نے یہ بات جمعہ کو پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس گروہ کو پاکستان حکومت تحفظ دے رہی ہے۔ البتہ ان کے مطابق انہیں ایسا لگتا ہے کہ جند اللہ کی حکومت میں شامل بعض افراد مدد کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم یہاں یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ پاکستانی عمائدین اور دوست یہ مسئلہ حل کریں۔ اور خدا کرے کہ بہت جلد ہو۔ اور ہم اِن سے کہیں گے کہ رِگی(جنداللہ کے سربراہ) کو ہمارے حوالے کریں تاکہ یہ تنازعہ طے ہوجائے کیونکہ یہ تنازعہ دونوں اسلامی ممالک کے تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جُند اللہ کے سربراہ عبدالمالک رِگی کے چھوٹے بھائی کو گرفتار کر کے پاکستان پہلے ہی ایران کے حوالے کر چکا ہے۔ جبکہ ان کے مطابق مسٹر رگی افغانستان میں موجود ہیں اور اس بارے میں وہ ایرانی ہم منصب کو ثبوت فراہم کردیں گے۔
رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف ایک مشترکہ ٹاسک فورس بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ان دہشت گردوں کو اس خطے سے بھگا دیں تاکہ آئندہ کہیں بھی وہ ایسی کارروائی نہ کرسکیں۔
بعد میں دونوں وزرائے داخلہ نے با ضابطہ مذاکرات کیے اور ملاقات کے بارے تاحال فریقین نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایرانی وزیر داخلہ سنیچر کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو ایران کے صوبہ سیستان ۔بلوچستان میں پاسداران انقلاب کے دفتر پر ایک خود کُش حملے میں بیالیس افراد مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں پاسداران انقلاب کے کچھ اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری جند اللہ نامی شدت پسند تنظیم نے قبول کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملے کے بعد ایران نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور اس تنظیم کا نیٹ ورک بھی پاکستان میں موجود ہے۔ پاکستان نے ایران کا یہ الزام مسترد کرتے ہوئے ان سے مکمل تعاون کا اعلان کیا تھا۔



















