پتنگ بازی پر پابندی برقرار

لاہور ہائی کورٹ نے پتنگ بازی سے پابندی ہٹانے کی درخواست مسترد کردی ہے اور قرار دیا ہے کہ بسنت کا تہوار منانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔حکومت پنجاب نے بھی پتنگ بازی پر پابندی جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔
پتنگ بازی کے دوران میں انسانی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اب سے کوئی پانچ برس پہلے اعلی عدلیہ کے احکامات کے تحت حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی عائد کردی تھی۔
پنجاب میں پتنگ بازی قابل دست اندازی پولیس جرم ہے اور جس میں جرمانہ اور قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
پتنگ و مانجھا لگے دھاگے یعنی ڈور کے تاجر سہیل انصاری نے اس پابندی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ کہا تھا کہ پتنگ بازی سے متعلقہ تمام فریقین کی مشاورت کے بعد پتنگ بازی کے قوانین بنائے جائیں درخواست دہندہ نے اعتراض اٹھایا کہ قوانین بناتے ہوئے صرف ان لوگوں سے مشاورت کی گئی جنہیں پتنگ اور اس کی ڈور کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔
انہوں نے کہا پتنگ بازی سے متعدد افراد کا روزگار وابستہ ہے اور پابندی کی وجہ سے ان کے کاروبار متاثرہوئے ہیں اس لیے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دی جائے۔
پنجاب کے چیف سیکرٹری کی جانب سے پابندی ختم کرنے کی مخالفت کی گئی اور عدالت میں داخل کردہ بیان میں کہا گیا کہ پابندی ختم کرنے کی صورت میں بھاری جانی نقصان کا خطرہ ہے اور پتنگ بازی اجازت دی گئی تو حالات سنبھالنا مشکل ہوجائیں گے۔اس لیے اجازت نہ دی جائے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چودھری نے پابندی کے خاتمے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پتنگ بازی کو تہوار قراردیکر لوگوں کی گردنیں کاٹنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پتنگ بازی لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں کا ایک ایسا مقبول روایتی کھیل رہا ہے جس نے باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کرلی تھی۔ ماضی میں ہر برس موسم بہار کی آمد پر پتنگ بازی کرکے بسنت منائی جاتی رہی لیکن پھر پتنگ بازی کے دوران ہونے والے حادثات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا اور اوسطاً سالانہ ایک سو افراد تک کی ہلاکتیں رپورٹ ہونے لگیں جس کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیادہ تر ہلاکتیں گلے پر مانجھا لگی ڈور پھرنے،دھاتی تار والی پتنگ سے کرنٹ لگنے،بسنت پر ہونے والی ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی اور لوٹنے کے دوران چھت سے گرنے اور گاڑی کے نیچے آنے سے ہوتی رہی ہیں۔
پتنگ بازی پر پہلی بار پابندی سنہ دوہزار پانچ میں لگائی گئی اس کے بعد دو بار بسنت منانے کی محدود اجازت دی گئی لیکن دونوں بار نتیجہ بھاری جانی نقصان کی صورت میں نکلا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اس بار بھی لاہور میں بسنت کا تہوار اگرچہ پتنگ بازی کے بغیر منایا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود آسمان پر اکادکا پتنگ اڑتی نظر آتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پتنگ بازوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے بھی جاری ہیں۔





















