’افغان مصالحتی عمل کی حمایت کرتے ہیں‘

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے صدر حامد کرزئی کی جانب سے شروع کیے جانے والے مصالحتی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ستر سے زیادہ ممالک کے نمائندے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ ماہ افغان صدر حامد کرزئی نے ملک میں پائیدار استحکام اور امن قائم کرنے کے لیے ایک کامیاب قومی جرگے کا انعقاد کیا۔
<link type="page"><caption> طالبان سے مذاکرات کریں: جرگہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/06/100605_afghan_jirga_finish.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ اس جرگے کا مقصد ہم آہنگی اور مصالحت کے ذریعے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے قائم کرنا تھا۔’ ہم افغان صدر کی جانب سے مقامی امن جرگوں کے انعقاد کی کامیابی کے خواہش مند ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ’ ہم افغان حکومت کی جانب سے امن قائم کرنے میں قومی مصالحتی عمل کو اولین ترجیح دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور پاکستان اس ضمن میں افغان حکومت کی مدد کرنے پر تیار ہے۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داری میں تبدیلی کا جو لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اس کے تحت افغان فوج اور پولیس کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اس کوشش میں افغان حکومت کی مدد کرنے کو تیار ہے۔‘ ہمارا خیال ہے کہ تبدیلی ڈیڈ لائنز اور کیلنڈر کو سامنے رکھ کر کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار ہونی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خارجہ نے کا کہ تبدیلی اور مصالحت کا عمل اس وقت موثر ہو سکتا ہے جب اسے پائیدار معاشی ترقی کی مدد حاصل ہو اور بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ضمن میں مدد کرے۔
انھوں نے گزشتہ ماہ افغان وزیر خارجہ کے دورے پاکستان کے دوران دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ دو ہزار پندرہ تک دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر سے بڑھ کر پانچ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہسپتال اور یونیورسٹیاں قائم کر رہا ہے، طورخم سے جلال آباد تک ایک جدید روڑ تعمیر کی جا رہی ہے،
اس کے علاوہ بین الاقوامی مدد سے دونوں ممالک نے پشاور سے جلال آباد اور کوئٹہ سے قندھار تک ریلوے لائن تعمیر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی پاکستان میں تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔



















