ہاؤسنگ سوسائٹی، کروڑوں کا غبن

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے اسمبلی کے ملازمین کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تقریباً دس کروڑ روپوں کے غبن کا انکشاف کرتے ہوئے دس افراد سے رقم واپس لینے اور کرپشن میں ملوث سرکاری ملازمین کی برطرفی اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔
کمیٹی کے کنوینر شیخ وقاص اکرم نے ایوان میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایوان میں کرپشن کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرنے والے سینیئر ارکان نے ان پر معاملے کو دبانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
‘ہم نوجوان پارلیامینٹیرینز نے لالچ اور دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے ملازمین کی ہاؤسنگ سکیم میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث افسران کو بے نقاب کیا ہے اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ دارا افسران کے خلاف کارروائی کرے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ڈھائی لاکھ روپے کنال والی زمین نو لاکھ روپے فی کنال کی قیمت پر خریدی گئی ہے۔ جبکہ زیادہ تر زمین شاملات (مختلف لوگوں کی مشترکہ ملکیت) والی ہے ۔ کمیٹی نے ترانوے کنال زمین جس کی مالیت دس کروڑ روپے بنتی ہے وہ بحال کروائی ہے۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ ماضی میں ایسا کم ہی نظر آیا ہے کہ پارلیمان کی کوئی کمیٹی بدعنوانی کے معاملے کی تہہ تک پہنچی ہو کیونکہ اکثر یہ کمیٹیاں مصلحت کا شکار ہوتی رہی ہیں۔
اس بات کا اقرار شیخ وقاص اکرم نے بھی کیا اور کہا کہ اب کی بار پہلی مرتبہ پارلیمان کی کمیٹیوں نے اپنا اصل کام کیا ہے اور وہ اس کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کی حکومت کو بھی دیتے ہیں جس نے ہاؤس کمیٹیوں کے ذریعے احتسابی عمل شروع کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن نور عالم خان نے کہا کہ ذمہ دار افسران اور ٹھیکیدار نے انہیں پلاٹ اور گاڑی دینے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے کوئی سودا بازی نہیں کی۔
‘میرے پاس ایک اسمبلی کا ملازم آیا اور بتایا کہ انہوں نے زندگی کی جمع پونجی ہاؤسنگ سکیم کے پلاٹ پر لگائی اور آج تک نہ انہیں پلاٹ ملا اور نہ ہی بیٹی کی شادی کے لیے کچھ ان کے پاس بچا ہے۔ ہم نے ایسے لوگوں کو ریلیف دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان اور وزیر مذہبی امور سید خورشید احمد شاہ نے قومی اسمبلی کے ملازمین کی ہاؤسنگ سکیم میں کروڑوں کے گھپلے پکڑنے اور ذمہ داران کی نشاندہی کرنے پر کمیٹی کو مبارکباد دی۔
وزیر نے کہا کہ اس کا کریڈٹ ان کی حکومت کو جاتا ہے کہ انہوں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ اپوزیشن لیڈر کو لگایا اور دیگر اہم کمیٹیوں میں بھی اپوزیشن کے افراد کو سربراہ بنایا۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہاؤسنگ سکیم کے لیے پونے گیارہ سو سے زیادہ کنال زمین خریدی گئی لیکن قبضہ صرف دو سو تیس کنال کا حاصل کیا۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے افسران نے ملی بھگت سے ساڑھے نو کروڑ روپے بلڈر محمد ایوب اینڈ برادرز کو دیے لیکن انتہائی ناقص کام ہوا اور کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی نے سفارش کی ہے کہ بلڈر سے سے نو کروڑ روپے واپس لیے جائیں۔
کمیٹی نے مبینہ طور پر ایک با اثر افسرطارق ایوب خاکوانی کو ملازمت سے فارغ کرنے، چوہدری مختار احمد، سلامت علی، شاہد حسین جیلانی، فضل منیر، فضیل اصغر، اسد اللہ فیض، ملک دین، شیخ عبدالواحد، عثمان نواز کھوکھر کے خلاف کارروائی کرنے اور ان سے بدعنوانی کی رقم وصول کرنے کی سفارش کی ہے۔





















