بھٹو نے’جان دے دی مگر سودا نہ کیا‘

پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی صنم بھٹو نے اپنی برسوں کی خاموشی توڑتے ہوئے پاکستانی میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے والد نے ملک کی خاطر اپنی جان دے دی لیکن اس کی خود مختاری پر سودا نہیں کیا۔
صنم بھٹو نے اپنی برسوں پرانی خاموشی ایک میڈیا رپورٹ کے جواب میں توڑی جس میں قیاس آرائی کی گئی تھی کہ حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس لیے کیا تھا کہ رپورٹ میں فوجی قیادت کے ساتھ انہیں بھی سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
صنم بھٹو نے کہا کہ ان کے والد نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک و معاشرے اور شکست خوردہ فوج کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اپنے دن رات ایک کر دیے لیکن اس کے بدلے میں انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا۔
سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی واحد زندہ اولاد نے اپنے بیان میں کہا کہ جس کسی نے بھی حمودالرحمٰن کمشن کی رپورٹ پڑھی ہے وہ جانتا ہے کہ اس میں سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار خالصتاً فوجی قیادت کو ٹھہرایا گیا تھا۔
تاہم صنم بھٹو کے مطابق، ایک اخلاقی طور پر تباہ حال فوج کی عزت کی خاطر ان کے والد نے نہ صرف حمودالرحمٰن کمشن رپورٹ نہ چھاپنے کا فیصلہ کیا بلکہ میڈیا کو بھی فوج پر تنقید کرنے سے روکا۔
صنم بھٹو نے کہا کہ جناح کے پاکستان کو ان کے والد نے فوجی آمریت کی تاریخی غلطیوں سے پیدا ہونے والے انتشار اور افراتفری سے بچایا۔ انہوں نے نہ صرف ایک بیمار معیشت اور معاشرے کو صحت دی بلکہ ایک ہاری ہوئی فوج کو بھی جلا بخشی اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا۔
صنم بھٹو کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بھٹو کو ایک ہولناک مثال بنایا گیا جس کے درد کی تپش ان کی واحد حیات اولاد کے طور پر صرف وہ ہی محسوس کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھٹو کے نام کے مخالف سمجھتے ہیں کہ انہیں دفن کرنے سے وہ ختم ہو گئے لیکن وہ آج بھی اپنی قبر سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ملک کی خاطر اپنی جان دے دی لیکن اس کی خود مختاری پر سودا نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















