گرفتار بریگیڈیئر: کورٹ مارشل شروع نہیں ہوا

بریگیڈیئر علی خان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے صدر دفاتر جی ایچ کیو میں تعینات بریگیڈیئر علی خان کو چھ مئی کو حراست میں لیا گیا تھا
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط کے الزام میں پاکستانی فوج کے بریگیڈیئر علی خان کو زیر حراست ستر دن سے زائد گزر چکے ہیں لیکن ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع نہیں کی جا سکی اور نہ ہی انہیں ابھی تک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا باضابطہ طور پر قصوروار ٹہرایا جا سکا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کے استفسار پر تصدیق کی ہے کہ زیر حراست بریگیڈیئر کو ابھی تک باضابطہ طور پر ’چارج شیٹ‘ نہیں کیا گیا جس کی بنا پر ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔

<link type="page"><caption> فوج میں امریکہ مخالف جذبات کے نمائندے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110622_brig_ali_khan_profile_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’گرفتاری انتقامی کارروائی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110621_brig_khan_advocate_ar.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستانی فوج کے قانونی شعبے (جیگ برانچ) کے سابق سربراہ کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم کا کہنا ہے کہ کورٹ مارشل کی غرض سے گرفتار فوجی اہلکار کو حراست میں لیے جانے کے بتیس روز کے اندر اسے الزامات کی باضابطہ فہرست فراہم کرنا ضروری ہے۔

’فوجی ضابطوں کے تحت اگر بتیس روز کے اندر یہ چارج شیٹ زیر حراست اہلکار کو فراہم نہیں کی جاتی تو اس کے بعد اس کی گرفتاری غیر قانونی ہو جاتی ہے جس کے خلاف زیر حراست ملزم اعلیٰ افسران کو شکایت کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے صدر دفاتر جی ایچ کیو میں تعینات بریگیڈئر علی خان کو چھ مئی کو حراست میں لیا گیا تھا اور میجر جنرل اطہر عباس نے کہا تھا کہ ملزم کے حزب التحریر کے ساتھ روابط کے ٹھوس شواہد ملنے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

میجر جنرل اطہر عباس نے بریگیڈئر علی کی چارج شیٹ کے بغیر بتیس دن کے بعد بھی زیر حراست رہنے کوغیر قانونی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چارج شیٹ جاری نہ کرنے کی مدت کو تحقیقات اور قانونی تقاضے پورے کرنے کی غرض سے توسیع دی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب بریگیڈئر علی کو ’بغاوت پر اکسانے‘ کے الزام کے تحت کالعدم حزب التحریر کے بعض کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

میجر جنرل اطہر عباس سے جب حزب التحریر سے وابستہ لوگوں کی گرفتاری اور انہیں بریگیڈئر علی کیس میں شامل تفتیش کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بعض دیگر افراد سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔‘

پاکستان میں پابندی کی شکار حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتے کے دوران اس کے کم از کم چار کارکنوں کو اسلام آباد اور ملتان سے گرفتار کیا گیا ہے۔

نوید بٹ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے تنظیمی ساتھیوں کو بریگیڈئر علی کے ساتھ روابط کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے یا ان کے خلاف کوئی اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

میجر جنرل اطہر عباس نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا تاہم بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کورٹ مارشل کرنے کی غرض سے بریگیڈیئر علی کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے اس سینیئر بریگیڈیئر کی فوج میں مدت ملازمت نو جولائی کو ختم ہو گئی ہے لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکشن ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ فوجی ضابطوں کے تحت نوٹیفیکشن کا اجرا نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ افسر کی ملازمت میں ازخود توسیع ہو جاتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بریگیڈئر علی کے خلاف کورٹ مارشل کو یقینی بنانے کے لیے ان کی فوجی ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔