بریگیڈئر علی: کورٹ مارشل کارروائی راولپنڈی منتقل

،تصویر کا ذریعہnone
حکومت کے خلاف بغاوت اور فوجی صدر دفاتر پر حملے کی سازش کے ملزم بریگیڈئر علی خان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی راولپنڈی منتقل کر دی گئی ہے۔
پانچ مئی کو راولپنڈی سے حراست میں لیے جانے والے پاکستانی فوج کے اس سینئر افسر پر الزام ہے کہ انہوں نے کالعدم حزب التحریر کے ساتھ مل کر پاکستان میں خلافت کا نظام نافد کرنے اور اس مقصد کے لیے پاکستانی فوجی قیادت کو منظر سے ہٹانے کی سازش تیار کی تھی۔
بریگیڈئر علی کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی سیالکوٹ میں شروع کی گئی تھی جس پر ان کے وکیل نے یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ بریگیڈئر علی کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی صرف راولپنڈی ہی میں منعقد کی جا سکتی ہے۔
یہ اعتراض ابتدائی طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور کورٹ مارشل کی باضابطہ کارروائی پچھلے ہفتے سیالکوٹ ہی میں شروع کر دی گئی تھی۔
اس دوران دل کے عارضے کا شکار بریگیڈئر علی کی طبیعت بگڑنے پر انہیں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سول عدالتوں میں بریگیڈئر علی کے وکیل انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی حکام کی جانب سے بریگیڈئر علی کے اہل خانہ کو بتایا گیا ہے کہ اب ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی راولپنڈی میں کی جائے گی۔
انعام الرحیم نے بتایا کہ برگیڈئیر علی کے اہل خانہ کو کورٹ مارشل کارروائی کے درست مقام کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

















