شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں تین ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں دو غیر ملکی سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے افراد میں دو غیر ملکی عرب جبکہ ان کا ایک پاکستانی دوست بھی شامل ہے۔
میرانشاہ میں ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ سنیچر کی صبح چار بج کر دس منٹ پر صدر مقام میرانشاہ میں امریکی جاسوس طیارے نے شہر کے وسط میں واقع ایک بیکری کو نشانہ بنایا۔
حکام کے مطابق جاسوس طیارے سے بیکری کی دوسری منزل پر دو رہائشی کمروں پر دو میزائل داغےگئے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
حکام کے مطابق بیکری کی دوسری منزل پر دو کمرے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی عرب شامل ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے نام کیا ہیں اور وہ القاعدہ تنظیم میں کیا اہمیت رکھتے تھے۔
حکام کے مطابق حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد مقامی طالبان متاثرہ بیکری پہنچے اور انہوں نے فوری طور پر لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بتایا جاتا ہے کہ یہ بیکری شہر کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ہے اور اس سے پہلے بھی شہر میں کئی بار شدت پسندوں کی رہائش گاہوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ تین روز میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والا یہ تیسرا ڈرون حملہ ہے۔ جمعے کے روز قبائلی شہر میرعلی میں ایک ڈرون حملے میں ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد جبکہ جمعرات کے روز شہر میرانشاہ میں ہی ایک مکان پر ڈرون حملے میں ایک عرب اور ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
مبصرین کے خیال میں شمالی و جنوبی وزیرستان دو ایسے قبائلی علاقے ہیں جہاں غیرملکی جنگجو اور مقامی طالبان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں اور اسی لیے سب سے زیادہ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی یہی دو قبائلی علاقے ہیں۔






















