نصرت جہاں روحی: انڈیا میں فلموں سے سیاست میں آنے والی نومنتخب رکنِ پارلیمان

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
'فلموں سے سیاست میں آنا یقیناً ایک شعوری فیصلہ تھا۔ جب میرا نام (پہلی مرتبہ) امیدواروں کی فہرست میں آیا تو ایک لمحے کے لیے ذرا ڈر سا لگا لیکن پھر اسے ایک ذمہ داری کے طور پر قبول کر لیا۔'
نصرت جہاں روحی انڈیا میں کم عمر نومنتخب اراکینِ پارلیمنٹ میں شامل ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ بنگالی فلموں کی ایک مقبول اداکارہ رہیں۔
انڈیا میں گذشتہ انتخابات کے دوران وہ بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نصرت نے بتایا کہ ان کے لیے سیاست ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ ’میں نے ایک اداکارہ کے طور پر پہلے بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینر جی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ پارٹی کے لیے کام کرو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاست میں آنے کے بعد وہ مسلسل خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں اور انھیں نوجوانوں میں خاص مقبولیت حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مذہب دل میں ہونا چاہیے‘
پارلیمنٹ میں منتخب ہونے کے فوراً بعد انھوں نے ایک ہندو/جین صنعت کار نکھل جین سے شادی کی۔ جہاں اعتدال پسند اور سخت گیر ہندو تنطیموں نے سیاست میں آنے پر نصرت کے فیصلے کی ستائش کی تو وہیں بعض مسلمان مذہبی رہنماؤں نے غیر مذہب لڑکے سے شادی کرنے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نصرت نے بتایا کہ شادی بیاہ انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا ’انڈیا ایک سیکولر ملک ہے اور لوگوں کی ذہنیت ان معاملوں میں بہت وسیع ہو چکی ہے۔
’ہر کسی کو اپنا ساتھی منتخب کرنے کا حق ہے۔ زندگی میری ہے، میں اسے جس طرح چلاؤں۔ میں نے جس سے شادی کی نہ انھوں نے دیکھا کہ میں مسلمان ہوں اور نہ میں نے دیکھا کہ وہ ہندو ہیں۔ پہلے تو انسان اچھا ہونا چاہیے زندگی نبھانے کے لیے۔'
وہ کہتی ہیں کہ مسلمانوں کے ایک بہت چھوٹے طبقے نے ان کی شادی کے بارے میں سوال اٹھایا تھا۔
انھوں نے کہا کہ 'میں مسلمان پیدا ہوئی تھی۔ میں مسلمان ہوں اور مسلمان رہوں گی۔ مذہب انسان کے دل میں ہونا چاہیے، دماغ میں نہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مانگ میں سیندور
شادی کے بعد جب وہ پارلیمان میں حلف برداری کے لیے آئیں تو انھوں نے ہندو شادی شدہ خواتین کی طرح اپنی مانگ میں سیندور اور گلے میں منگل سوتر (خاص طرح کا لاکٹ) پہنا ہوا تھا۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر نصرت کے اس روپ نے خاصی مقبولیت حاصل کی لیکن اس پر کچھ حلقوں کی جانب سے انھیں ’ٹرول‘ کیا گیا۔
اس پر نصرت کا کہنا تھا کہ 'میں نے (سیندور اور منگل سوتر کے بارے میں) کچھ سوچا نہیں تھا۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ شادی کے بعد جس طرح شادی شدہ خواتین اپنا روایتی انداز اختیار کرتی ہیں، میں نے وہی کیا تھا۔'
گذشتہ انتخابات کے بعد انڈیا کے پارلیمان میں خواتین ارکان کی تعداد بڑھنے پر وہ خوش ہیں۔ نصرت کہتی ہیں کہ وہ ایوان میں زبردستی خواتین کے معاملات اٹھا کر یہ تاثر نہیں دینا چاہتیں کہ وہ کوئی 'فیمینسٹ' ہیں۔

نصرت کہتی ہیں کہ وہ زندگی کے مثبت پہلوؤں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ 'پارلیمان میں عورتوں کی تعداد بڑھنے پر مجھے خوشی ہے۔ کہیں سے تو اچھی شروعات ہوئیں۔ دھیرے دھیرے دیکھتے ہیں ہم اور بہتر وقت کی طرف بڑھیں۔'
وہ موجودہ پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کے ساتھ ساتھ کئی فلموں کی شوٹنگ بھی کر رہی ہیں۔
نصرت تمام مذاہب کی رسومات کا احترام کرنے کے حق میں ہیں۔ حال ہی میں وہ کولکتہ میں ہندو تہوار جگن ناتھ یاترا میں مہمانِ خصوصی تھیں۔ وہاں انھوں نے روایتی ہندو پوجا کے ساتھ ساتھ یاترا کا افتتاح کیا۔









