تنشق: انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو بہو دکھانے کے بعد ایک بار پھر لو جہاد پر بحث

،تصویر کا ذریعہTanishq/Twitter
انڈیا میں زیوارت کی ایک معروف کمپنی کو اپنے نئے اشتہار کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔ اس اشتہار میں دکھائے جانے والی مواد سے متعلق سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں جن میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مذہبی منافرت کی باتیں واضح طور پر نظر آ رہی ہیں۔
انڈیا میں بدلتے موسم کے ساتھ ہی تہواروں کا موسم شروع ہو رہا ہے جس کی مناسبت سے ’تنشق‘ نامی زیوارت کمپنی نے حال ہی میں اپنی نئی کولیکشن کی تشہیر کے لیے ایک اشتہار جاری کیا۔
اس اشتہار میں ایک مسلمان خاندان میں بیاہ کر آنے والی ہندو بہو کے لیے ’بیبی شاور‘ (گود بھرائی) کی رسم ادا کی جاتی ہے جس کے ذریعے انڈیا کے دونوں بڑے مذاہب کے بیچ بظاہر اتحاد کا پیغام دیا گیا ہے۔
زیورات کی یہ کمپنی ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے۔ اس کمپنی نے اپنے نئے زیورات کو ہندی لفظ ’ایکاتوم‘ یعنی اتحاد پکارا ہے اور اس کی ٹیگ لائن ’دی بیوٹی آف ون نیس‘ یعنی ’اتحاد کی خوبصورتی‘ رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مذکورہ اشتہار میں ایک مسلمان خاندان میں گود بھرائی کی رسم ہوتی ہے جس میں ہندو بہو کو تنشق کے نئے زیورات سے آراستہ کیا جا رہا ہے اور پس منظر میں ایک نظم سنی جا سکتی ہے: ’رشتے ہیں کچھ نئے نئے، دھاگے ہیں کچے پکے، اپنے پن سے انھیں سہلائیں گے، پیار پروتے جائيں گے، اِک سے دوجا سرا جوڑ لیں گے، اک بندھن بُنتے جائیں گے۔‘
اس کے بعد بہو اپنی بظاہر مسلمان ساس سے پوچھتی ہیں: ’ماں! یہ رسم تو آپ کے گھر میں نہیں ہوتی ناں؟‘ اس کے جواب میں ساس کہتی ہیں ’پر بِٹیا کو خوش رکھنے کی رسم تو ہر گھر میں ہوتی ہے۔‘
پھر نظم سنائی دیتی ہے: ’ایک جو ہوئے ہم تو کیا نہ کر جائیں گے۔۔۔ اکاتوم بائی تنشق۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ٹاٹا گروپ کو بھی جھکنا پڑا‘
یہ اشتہار انڈیا میں سخت گیر ہندوؤں کے ایک فرقے کو پسند نہیں آیا اور اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ تنشق‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے اور بہت سے لوگ یہ کہہ رہے کہ یہ ’لوو جہاد‘ کو پروان چڑھانے کی کوشش ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید بحث کے بعد تنقش نے اس اشتہار کو ہٹا دیا ہے لیکن بحث کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
انڈیا کے معروف صحافی اور عام آدمی پارٹی کے سابق امیدوار آشوتوش نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس سارے معاملے پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
انھوں نے لکھا: ’سماج کا کچھ حصہ کتنا بیمار اور زہریلا ہو چکا ہے۔۔۔ وہ بیمار لوگ ہیں جنھوں نے اس خوبصورت اشتہار کی مخالفت کی ہے اور تنشق نے اسے ہٹا کر غلطی کی۔‘
آشو بھٹناگر نامی ایک صارف نے اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ’آشوتوش جی میں آپ سے متفق ہوں۔ تنشق کو یہ ویڈیو بالکل واپس نہیں لینا چاہیے تھی بلکہ سخت گیر ہندوؤں کو جواب دینے کے لیے ایک اور ویڈیو بنانا چاہیے تھی جس میں لڑکی مُسلم ہو اور لڑکا ہندو خاندان سے ہو، تنشق کو اور آپ کو ان ہندو پرستوں کو جواب دینا ہی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہRakhitripathi/Twitter
راکھی ترپاٹھی نامی ایک صارف نے لکھا: ’جو لوگ تنشق کا بائیکاٹ کر رہے ہیں کیا وہ اپنے پاس پہلے سے موجود اس کمپنی کے زیورات پھینک رہے ہیں یا اسے آدھی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ ہر چند کہ میں زیورات کی شوقین نہیں ہوں لیکن بپی لہری بننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘
خیال رہے کہ بپی لہری بالی وڈ کے معروف موسیقار ہیں اور انھیں اپنے سونے کے زیوارت کے شوق کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔
کانگریس رہنما اور رکن پارلیمان ششی تھرور نے اس اشتہار کے بارے میں لکھا ’تو تنشق زیورات کے خوبصورت اشتہار میں ہندو مسلم اتحاد کو دکھانے پر متعصب ہندوتوا والوں نے بائیکاٹ تنشق کی اپیل کی ہے۔‘
’اگر ہندو مسلم ایکاتوم (اتحاد) انھیں اس قدر بُرا لگتا ہے تو وہ دنیا میں ہندو مسلم کے اتحاد کی سب سے بڑی علامت انڈیا کو ہی کیوں نہیں ختم کر دیتے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ان کے جواب میں بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ ’آپ یکطرفہ اتحاد چاہتے ہیں۔‘
معروف صحافی صبا نقوی نے اس تنازع کے متعلق ٹویٹ کیا ’تنشق نے ایک اچھا اشتہار بنایا تھا۔ افسوس کے ٹاٹا جیسے طاقتور گروپ کو سوشل میڈیا پر چلنے والے منافرت کے ٹرینڈ کے سامنے جھکنا پڑا۔ وہ اگر اس نفرت کے خلاف کھڑے ہوتے تو اور مضبوط ہوتے لیکن وہ بہت کمزور ثابت ہوئے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
بہت سے لوگ اس اشتہار کو واپس لیے جانے کو ہندوؤں کی جیت سے تعبیر کر رہے ہیں اور ان کے حوصلے بلند نظر آ رہے ہیں۔
مصنف اور مشیر میتا سینگپتا نے سوال کرتے ہوئے لکھا ’کیا تنشق کے خلاف تب بھی ایسا ہی رد عمل ہوتا اگر انھوں نے کرداروں کے مذاہب تبدیل کر دیے ہوتے؟‘
اس کے بعد کے ایک ٹویٹ میں وہ لکھتی ہیں کہ اتنے سارے جواب آئے کہ وہ انھیں ’ہینڈل نہیں کر سکتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ان کے سوال کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ ’سوشل میڈیا پر کوئی رد عمل نہیں ہوتا کیونکہ اس کے بعد تنشق کی کوئی دکان ہی موجود نہ رہتی۔‘
اسی طرح کھیم چند شرما نے میتا سین گپتا کے جواب میں لکھا ’اگر تنشق نے مذہب تبدیل کر دیا ہوتا تو چند گھنٹوں میں ان کی دکانیں جلا دی جاتیں اس لیے وہ صرف ہندوؤں کو ہی نشانہ بنائیں گے۔‘
اس کے ساتھ ہی انڈیا میں منگل کے روز ’ہندو مسلم‘ بھی ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس میں بھی منافرت، مفاہمت اور ہم آہنگی پر مباحثہ جاری ہے۔










