یورپ میں پرندے موسم کاشکار

تحقیق میں ایک سو بائیس اقسام کا مطالعہ کیا گیا
،تصویر کا کیپشنتحقیق میں ایک سو بائیس اقسام کا مطالعہ کیا گیا

برطانوی سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات یورپی پرندوں کی مختلف اقسام پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ماہرین کی تحقیق کے نتائج ایک یورپی جریدہ پلوس ون میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرات میں کچھ پرندے تو بچ جائیں گے لیکن زیادہ تر اس سے متاثر ہوں گے۔

پرندوں کے تحفظ کے شاہی ادارے(آر ایس پی بی) نے کہا کہ عمومی رجحان دیکھا جائے تو پرندوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی معلوم کیا انیس سو اسی کی دہائی کے بعد ایسے پرندوں کی اقسام میں اضافہ ہوا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں گزارا کر سکتے ہیں۔ لیکن اسی عرصے میں پچھتر فیصد اقسام میں کمی دیکھی گئی ہے۔

تحقیق کے دوران یورپ میں پرندوں کی پانچ سو چھبیس میں سے ایک سو بائیس اقسام کا جائزہ لیا گیا۔تیس اقسام کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی آبادی میں اضافہ ہوگا جبکہ بانوے اقسام میں پرندوں کی تعداد کم ہونے کا امکان ہے۔

برطانیہ میں پائی جانےوالی پرندوں کی قسم کراس بِل کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ کراس بِل اب صرف سکاٹ لینڈ میں کیلیڈونیا کےچیڑ کے جنگلوں میں پائی جاتی ہے۔ کراس بِل کو بچانے کے لیے چیڑ کے جنگلات کا تحفظ بہت ضروری ہے۔

آر ایس پی بی کے ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں اپنی کوششوں کو دگنا کرنا ہوگا۔ جی ایٹ کے رکن ممالک میں کسی نسل کا ناپید ہونا شرمناک ہوگا۔‘

ایک تحقیق کے مطابق یورپ میں پرندوں پر موسم کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے۔