مریخ پر ’حال ہی میں‘ پانی موجود تھا

مریخ
،تصویر کا کیپشنمریخ پر ڈیڑھ لاکھ برس پرانی گزرگاہ کے نشانات

امریکی خلائی ادارے ناسا کی نئی تحقیقات کے مطابق سیارے مریخ کی سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس پرایک لاکھ سال قبل تک بہتا ہوا پانی موجود تھا۔

امریکی خلائی اداے ناسا کی خلائی گاڑی سے بھیجی گئی تصویروں میں مریخ کی سطح پر ایسی آبی گزگاہیں نظر آتی ہیں جن میں ڈیڑ لاکھ سال قبل تک پانی بہتا تھا۔

اس خلائی گاڑی نے، جو مریخ کے گرد گردش کر رہی ہے، چند ایسی تصاویر فراہم کی ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مریخ کی یہ آبی گزرگاہیں برف کے پگھلنے کی وجہ سے بنی ہیں۔

یہ مطالعہ امریکی ریاست روڈ آئلینڈ میں واقع براؤن یونیورسٹی کی ٹیم نے کیا ہے ۔ اس کے مطابق یہ آبی گزرگاہیں اس بات کا تصور دیتی ہیں کہ حال ہی میں مریخ کی سطح پر بہتا ہوا پانی موجود تھا۔

محققین کی اس ٹیم کا کہنا ہے کہ مریخ کی یہ آبی گزرگاہیں جن میں ڈیڑ لاکھ سال قبل تک بہتا پانی تھا اس بات کی علامت ہے کہ بہتا ہوا پانی اس سرخ سیارے کی سطح پر پایا جاسکتا تھا۔

یہ تحقیق اس بات کی مزید دلیل دیتی ہے کہ مریخ حال ہی میں برفیلے دور سے گزرا تھا اور اس کے قطبین سے برف آہستہ آستہ اِس کے خط استوا کی جانب آ کر درمیانی عرض میں جمع ہو گی۔

دور سے یہ آبی گزرگاہیں ایک سی لگتی ہیں اور کئی سو میٹر چوڑی دکھائی دیتی ہیں۔

اس تحقیق کو لکھنے والے براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز ہڈ کا کہنا ہے : ’ہمارا خیال ہے کہ مریخ پر حال ہی میں پانی موجود تھا اور یہ تصویریں ہماری اس دلیل کو مکمل طور پر ثابت کرنے میں مدد دیں گی‘