شہد کی مکھیوں کی ہلاکت کا معمہ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں شہد کی مکھیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے شواہد نہیں ملے ہیں۔۔ پانچ سال سے دنیا بھر میں اور خاص طور پر امریکہ میں شہد کی مکھیاں اربوں کی تعداد میں ہلاک ہو رہی ہیں جس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں کی جا سکی تاہم اس کے لیے کسی خفیہ بیماری کو ذمہدار ٹھرایا جا رہا تھا۔
امریکہ میں کاروباری مقاصد کے لیے شہد کی مکھیاں پالنے والے لوگ اس سے برح طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سےماہرین کا کہنا ہے کہ مکھیوں کی ہلاکت کی کوئی ایک وجہ نہیں ہو سکتی۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مقامی معیشت کے لیے شہد کی مکھیاں بہت اہم ہیں کیونکہ دنیا میں اسی فیصد بادام وہاں پیدا ہوتے جو امریکہ میں زرعی شعبے کی سب سے اہم برآمد ہے۔ شہد کی مکھیاں نہ رہی تو بادام بھی نہیں ہوں گے۔

فروری اور مارچ کے مہینوں میں فلوریڈا تک کی دور دراز ریاستوں سے اربوں شہد کی مکھیاں کیلیفورنیا میں باداموں کے باغات میں پہنچائی جاتی ہیں تاکہ فصل کو کامیاب بنایا جا سکے۔
سن دو ہزار سے شہد کی مکھیوں کی تعداد پراسرار طور پر کم ہونے لگی اور سن دو ہزار چھ میں ماہرین کو صورتحال کی سنجیدگی کا اندازہ ہوا۔
بہت سے ماہرین کے نزدیک شہد کی مکھیوں کے خاتمے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک بیماری بھی شامل ہے جس میں ان کا خون چوسا جاتا ہے اور ان کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ایک اور وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شہروں میں اضافے سے مکھیوں کی نشونما کے لیے ضروری قدرتی علاقے کم ہو رہے ہیں۔ کیمیائی کھاد کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مارین کے مطابق کیمیائی اجزاء کے اثرات کے تحت شہد کی مکھیاں گھر کا راستہ بھول سکتی ہیں۔
کاروباری بنیادوں پر شہد کی مکھیاں پالنے والے ڈیو ہیکنبرگ نے کہا کہ ان کی مکھیوں کی زندگی اب بہت مشکل ہو چکی ہے۔ اس وقت وہ کیلیفورنیا میں باداموں کے باغات کو زرخیز کر رہی ہی، مارچ میں انہیں فلوریڈا لے جایا جائے گا جہاں وہ مالٹے کے باغات میں کام کریں گی۔ اس کے بعد ان مکھیوں کو ایک ہزار میل شمال میں ریاست پینسلوینیا لے جایا جائے گا جہاں انہیں سیبوں کے باغات میں چھوڑا جائے گا۔

















