گھوڑے سدھانا پانچ ہزار سال پہلے سے

گھوڑا

محققین کی ایک ٹیم کے مطابق گھوڑوں کو سدھانے کا عمل عام قیاس سے بھی پرانا ہے۔ تحقیق سے ملنے والے ثبوت کے مطابق شمالی کازغستان میں ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے جانوروں کا استعمال ہوا کرتا تھا۔ اب تک گھڑ سواری میں استعمال ہونے والے دھاتی ٹکڑے جن کا تعلق لوہے کے زمانے یا برونز ایج سے ہے، ہی گھڑ سواری کو ثابت کیا کرتے تھے مگر برطانیہ کی ایگزیٹر یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ کازغستان کا ایک فرقہ ایک ہزار سال پہلے گھڑ سواری کیا کرتا تھا۔

یہ لوگ گھوڑوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کا دودھ بھی استعمال کرتے تھے۔ محققین نے گھڑ سواری کو ایک ثقافت بوتائی سے منسوب کیا ہے۔ دقی ہڈیوں کا تجزیہ ثابت کرتا ہے کہ ان گھوڑوں کی شکل برونز ایج یا لوہے کے زمانے میں سدھائے جانے والے گھوڑوں سے مشابہت رکھتی ہے۔

برطانیہ کی اس ٹیم نے ان گھوڑوں کے منہ اور دانتوں کے ان حصوں کو جانچا ہے جن کو گھوڑا جوتے جانے کے دوران نقصان پہنچتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی سائنسدانوں نے مٹی کے برتنوں میں ملنے والے دودھ اور خوراک کے ذرات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

گھوڑے کا دودھ آج بھی کازغستان میں ایک مقامی شراب ’کومس‘ کا اہم جزو ہے ۔ ایگزیٹر یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر ایلن کا کہنا ہے کہ گھوڑوں کو سدھانا انسانی تہذیب کا ایک اہم اشارہ ہے۔

ان کا کہنا ہے ’گھوڑوں کو سدھانے کا عمل پوری دنیا میں انسانی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سے نہ صرف لوگوں میں تجارت کرنے کی اہلیت اجاگر ہوئی بلکہ یہ جنگ وجدل میں بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ چناچہ اگر ہم گھوڑہ سدھانے کے عمل کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں اس وقت کی انسانی تہذیب میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں بھی سوچنا پڑے گا‘۔

کچھ محققین گھوڑوں کو سدھائے جانے کے عمل کو ہزاروں سال پہلے یوریشیا میں پھیلنے والے کانسی کے کام سے منسوب کرتے ہیں ساتھ ہی ساتھ اس کا تعلق برصغیر اور یورپ میں پھیلنے والی زبانوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ان زبانوں میں ہندی، فارسی ، جرمن اور انگریزی شامل ہیں۔