ورزش میں عمر کی قید نہیں

ایک تحقیق کے مطابق درمیانی عمر میں زیادہ جسمانی مشقت تمباکو نوشی سے پرہیز کے برابر ہی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اپسلا یونیورسٹی میں سویڈن سے تعلق رکھنے والے محققین نے پچاس سال کی عمر کے دو ہزار دو سو مردوں کا جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ ان میں پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کے دوران زیادہ جسمانی مشقت کرنے والے لوگ بھی اتنی ہی عمر پا سکتے ہیں جتنی کہ وہ لوگ جو درمیانی عمر سے مسلسل ورزش کرتے آ رہے ہوں۔
پبلک ہیلتھ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ ورزش کرنے کی کوئی مخصوص عمر نہیں ہے بلکہ یہ کسی بھی وقت شروع کی جا سکتی ہے۔ محققین کی ایک ٹیم نے انیس سو ستر میں ان مردوں پر اس وقت تحقیق شروع کی جب ان کی عمر پچاس سال تھی ان تمام افراد کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ۔ یعنی ایک زیادہ جسمانی مشقت کرنے والے، دوسرے وہ جو درمیانے درجے کے کام کر سکیں اور تیسرے گروپ میں شامل تھے وہ لوگ جو زیادہ تر بیٹھ کر وقت گزارتے رہے جس میں انہیں ورزش کا زیادہ موقع نہیں مل سکا۔
زیادہ جسمانی مشقت کرنے والے گروپ میں وہ لوگ شامل تھے جو ہر ہفتے کم از کم تین گھنٹے کسی کھیل میں حصہ لیتے رہے یا باغبانی کا مشکل کام انجام دیا۔ درمیانے درجے کے گروپ میں کئی گھنٹے تک سائیکل چلانا یا پیدل چلنا شامل تھا جبکہ تیسرے اور آخری گروپ میں شامل لوگوں نے زیادہ وقت ٹی وی کے آگے بیٹھ کر گزارا۔
ان مردوں کی عمر ساٹھ سال ہونے پران کی جسمانی مشقت اور ورزش کے طریقہ کار کو دوبارہ جانچا گیا جس سے معلوم ہوا کہ پچاس سال کی عمر کے وہ لوگ جنہوں نے زیادہ جسمانی محنت طلب کام کیا یا ورزش کرتے رہے فارغ بیٹھنے والوں کے مقابلے میں ایسی لوگ 2.3 سال زیادہ زندہ رہ سکے جبکہ درمیانے درجے کی مشقت کرنے والوں کے مقابلے میں انہیں 1.1 سال زیادہ زندہ رہنے کا موقع ملا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ درمیانے درجے کی مشقت کرنے والے اور فارغ بیٹھنے والے گروپوں میں سے بھی وہ لوگ جنہوں نے اپنی جسانی مشقت کو پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کے دوران بڑھا دیا انہیں بھی زیادہ دیر زندہ رہنے کا موقع ملا۔
البتہ برطانیہ کے صحت کے ایک جریدے میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ جسمانی مشقت نہ کرنے سے کس قسم کے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محقق کرل مائکلسن کا کہنا تھا کہ اس تحقیق نے ظاہر کیا ہے مردوں کو چست رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی درکار ہے تاہم خواتین میں بھی یہ تاثر ایک سا ہے یا نہیں یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کے لیے بھی زندگی کا عرصہ ان صحت مند لوگوں کے برابر ہی رہا۔ مگر درمیانی عمر کے مردوں اور بوڑھوں میں جسمانی مشقت کے رحجان کو تقویت دینے کی کوششیں بہت ضروری ہیں۔
فیکلٹی آف پبلک ہیلتھ کے صدر ایلن میرین ڈیوس کے نزدیک اس تحقیق کے نتائج بہت دلچسپ ہیں ’اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ورزش کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں مگر میرا یہ خیال ہے کہ عمر کا یہ حصہ بہت اہم ہے جس میں کی جانے والی ورزش اور جسمانی محنت ان لوگوں کے دل اور شریانوں کے نظام کو بہت مظبوط بنا رہی ہے اگرچہ کچھ اہم پہلو جیسے اچھی خوراک وغیرہ بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن میں دل کے امراض کی ایک نرس کیتھی راس اس تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں ’یہ تحقیق ہماری معلومات میں معاون ثابت ہوئی ہے کیونکہ ہم یہ تو جانتے ہی ہیں کہ جسمانی ورزش کرنے والے لوگوں کو ورزش نہ کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے امراض کم سے کم لاحق ہوتے ہیں لیکن عمر کے کسی بھی حصے میں چست رہنے سے وزن، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر پر قابو ہونے کے ساتھ ساتھ دل اور پورے جسم کی صحت پر مثبت دور رس نتائج پڑتے ہیں۔‘



















