زمین جیسے سیاروں کی تلاش

کیپ کیناورل فلوریڈا سے ناسا کا ایک مشن خلا میں بھیجا گیا ہے جو زمین کی طرح کے دیگر سیاروں کی تلاش کرے گا جہاں پر زندگی کے آثار ہوں۔
کیپلر دوربین سورج کا چکر لگائے گی اور خلا کے اس حصے پر توجہ دے گی جس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ وہاں ایک لاکھ زمین جیسے ستارے موجود ہیں۔
ناسا کے ڈاکٹر ایڈورڈ ویلر کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف سائنس مشن نہیں ہے بلکہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ مشن ان بنیادی سوالات کے جوابات دے گا جو اس وقت سے ہمارے ذہن میں ہیں جب کسی بھی انسان نے پہلی بار آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟‘
اس دوربین میں ایک بڑا کیمرہ ہے اور اتنا بڑا کیمرہ اس سے پہلی خلا میں نہیں بھیجا گیا۔ یہ مشن سورج نما ستاروں پر پتھریلی سطح کی تلاش کرے گی۔
ابھی تک تین سو سے زائد سورج سے باہر موجود سیارے دریافت کیے جا چکے ہیں اور ان میں سے چند ہی ایسے ہیں جن کی سطح زمین کی مانند پتھریلی ہے۔ زیادہ تر مشتری کی مانند گیس سے بھرے ہوئے ہیں یا پھر کی مانند برفیلے ہیں۔
کیپلر دوربین سورج اور سپیس کرافٹ کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے سیاروں میں روشنی میں کمی کی نشاندہی کرے گی۔ کچھ ستاری نظام اس طرح ہوتے ہیں کہ ان کے سیارے ان کے ستاروں کے سامنے سے گزرتے ہیں جیسے کہ زمین سے نظر آتا ہے۔ اور اس سیاروں کے سفر سے ان کے ستاروں کی روشنی کم ہو جاتی ہے۔
کیپلر کے پراجیکٹ مینیجر جیمز فینسن کا کہنا ہے ’اگر کیپلر خلا سے زمین کے ایک چھوٹے سے شہر کو دیکھے تو وہ اس شہر کے ایک گھر کے صحن میں بلب کی روشنی میں کمی کی بھی نشاندہی کرسکتی ہے جس کے سامنے سے کوئی گزرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مشتری کے سائز کے سیارے کی نشاندہی کرنا جب وہ ستاروں کے سامنے گزرے ایسا ہی جیسے کہ گاڑی کی لائٹ کے سامنے ایک مچھر اڑ رہا ہو۔ جبکہ زمین کے سائز کے سیارے کو دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ گاڑی کی لائٹ کے سامنے سے ایک پسو گزر رہا ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیپلر دوربین کے چیف سائنسدان ولیم بوروکی کا کہنا ہے ’ہم وسیع پیمانے پر ستاروں کی نگرانی کریں گے۔ ان ستاروں میں وہ بھی ہیں جو چھوٹے اور ٹھنڈے ہیں جن کے قریب سیاروں کو گردش کرنا ہوتی ہے تاکہ گرم رہ سکیں اور ان ستاروں پر بھی نگرانی کریں گے جو سورج سے بھی بڑے اور گرم ہیں اور سیارے ان کے قریب نہیں آتے۔‘
ولیم بوروکی نے کہا کہ یہ مشن جرم فلکی سمجھنے میں بڑی مدد کرے گا بشمول اس سوال کے کہ یہ کیسے بنتے ہیں۔





















